نیا معائدہ طے پا گیا، شاہی مسجد چترال سے متصل دکانوں کے مالکان چار سو کی بجائے 33ہزار روپے کرایہ دیں گے

چترال (نذیرحسین شاہ نذیر)اسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالاکرم نے کہا ہے کہ شاہی مسجد چترا ل ایک خوبصورت عبادت خانہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اہم نادرات میں بھی شامل ہے جس کی تجارتی زمین پر بعض لوگ کئی دہائی سالوں سے قابض ہوکر محض تین سو روپے ماہانہ کرایہ ادا کرتے ہوئے اور یہ زمین ان سے چھڑانا انتظامیہ کے لئے چیلنج بن گئی تھی اور اس مسئلے کو اب کامیابی سے حل کرلیا گیا ۔ اپنے دفتر میں میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ شہر کی انتہائی وسط میں واقع اس قیمتی زمین پر قائم دکانوں کے عوض محض تین سو روپے ماہانہ کرایہ ادا کررہے تھے جوکہ اس عبادت خانے کے ساتھ ذیادتی تھی اور یہ مسئلہ گزشتہ چار دہائی سالوں سے چلا آرہا تھا ا ور ضلعی انتظامیہ کے کئی سابق افسران شاہی مسجد کی زمین کو چھڑانے میں ناکام ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ انتظامیہ نے ان دکانوں کی مالکان کے ساتھ ازسرنو معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں چار سو روپے کی بجائے 33ہزار روپے تک کرایہ پہنچ گئی جوکہ ایک کامیابی ہے۔اسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالاکرم نے کہاکہ سرکاراورشاہی مسجد جس وقت بھی چاہیے موقع پرموجودعمارتوں کوگراکرنیاتعمیرکرسکتاہے جس میں خلاف ورزی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس موقع پر حاجی منظور،خیراعظم اوردیگرنے کہاکہ اسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالاکرم نے فیصلہ کن قدم اُٹھاتے ہوئے 32سالوں کے زیرالتواء مسئلے کوبہترین طریقے سے حل کرنے میں کامیاب ہوئے انہوں نے کہاکہ اسسٹنٹ کمشنر چترال نے گذشتہ تمامعاہدات وغیرہ کوغیرقانونی غیرشرعی اورانصاف کے تقاضوں کامنافی قراردیکرختم کردیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments