شیر باز برچہ عکس گلگت بلتستان

شیر باز برچہ عکس گلگت بلتستان

30 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

رشید ارشد

( زیر تکمیل کتاب کا ایک صفحہ)

مجھے نہیں یاد کہ سن اور تاریخ کون سی تھی۔اتنا یاد ہے کہ ان دنوں گلگت میں ،،جانورں،، کے لئے تو آزادی تھی مگر انسان سے اس کی آزادی مذہب کے ٹھیکداروں نے چھین لی تھی ۔ہر کسی کو یہی خوف لاحق تھا کہ کب کس طرف سے گولی آئے اور گولی چلانے والے پر جنت واجب ہو جائے۔۔اس ماحول میں بھی ان کی محبت اور علمی شخصیت نے مجھے مجبور کر دیا کہ ان سے ملاقات کروں۔پہلی ملاقات گلگت کی تاریخی (لائبریری بڈلف )پبلک لائبریری کے سبزہ زار میں ہوئی تھی ۔ اس پہلی ملاقات میں ہونے والی گفتگو کا زائقہ اتنا رسیلا تھا کہ آج تک اس سحر سے نکل نہیں سکا اور ملاقاتوں پر ملاقاتیں ہوئیں ۔ہر ملاقات میں ان کی علمی شخصیت کی نئی سی نئی پرتیں کھلتی چلی گئیں ۔ ،،چراغ تلے اندھیرا ،،کا محاورہ ان سے ملاقات کے بعد میری زندگی کی ڈکشنری سے خارج ہو گیا ۔انہوں نے عملی طور پر چراغ تلے بھی روشنی کے ہالے بکھیرکر محاورے کو غلط ثابت کر دیا۔جنہیں جہالت کے اندھیروں اور علم کی روشنی میں فرق معلوم ہو جائے تو وہ اپنی جستجو سے چراغ تلے بھی روشنی بکھیرتے ہیں۔

اسے میری بد بختی کہیں یا خوش قسمتی کہ میں ہمیشہ لفظوں کے منظر میں رہتا ہوں ۔لفظ پڑھتا ہوں ۔لفظ گنگناتا ہوں ۔ایک ایک لفظ کے سحر میں مبتلا ہوکر لفظوں کے منظر بناتا ہوں اور ان منظروں میں کھو جاتا ہوں ۔لفظوں کے اس عشق نے مجھے مال و دولت ،چمک و دھنک ،ہرس و ہوس اور دنیا سے بیگانہ کر دیا ۔سو اس لئے مجھے کوئی عہدہ کوئی چمک دھمک اور دولت متاثر نہیں کر سکتی۔ہاں اگر مجھے متاثر کر سکتی ہے تو وہ صرف لفظوں کی طاقت ہے ۔سو اس لئے مجھے ہر اس شخص سے عشق ہو جاتا ہے جو حرف کی حرمت سے آگاہ ہو ۔

بڈلف لائبیریری کے سبزہ زارمیں میرے سامنے کرسی پر شیربازبرچہ قد کے تو چھوٹے نظر آرہے تھے مگر جیسے ہی گفتگو کیلئے لب ہلائے تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ تو بہت بڑے انسان ہیں ۔ایک ایک لفظ ان کے لبوں سے یوں نکل رہا تھا جیسے دھاگے میں تسبیح کے دانے ترتیب سے پروئے جا رہے ہوں ۔دھیمے لہجے میں ہونے والی گفتگو کی علمیت میرے دل کی گھنٹیاں بجا رہی تھی۔ایک ایک لفظ کی ادائیگی مجھے حیرت کے سمندروں میں ڈبو رہی تھی کہ گلگت کی سرزمیں جو قدرتی منظروں میں تو ڈھکی ہے لیکن نفرتوں نے اس زمیں کے حسن کو بھی گنہا دیا ہے ان نفرتوں کے ماحول میں بھی ایسی علمی شخصیت پیدا ہو چکی ہے کہ جس نے یہ عہد کیا ہے نفرت کے انگاروں سے محبت کے زمزمے کشید کرنے ہیں ۔شیر باز علی برچہ کی گفتگو سے مجھے اپنی رائے بدلنی پڑی کہ یہ ضروری تو نہیں کہ نفرت کی بستیوں میں سب نفرتوں کے اسیر ہوں۔جن کے دلوں میں علم کی شمیعں روشن ہوں وہ ہر ماحول میں محبت کے چراغ جلاتے ہیں ۔

شیر باز علی برچہ کی شخصیت کا احاطہ تو میرے لئے ممکن نہیں بس یوں کہہ سکتا ہوں کہ شیر باز علی برچہ کے قد کے چھوٹے قالب میں قدرت نے بہت بڑا انسان سمو دیا ہے ۔شیر باز علی برچہ گلگت بلتستان کے محسن بھی ہیں تو انسائیکو پیڈیا بھی ہیں ۔بڈلف کی تاریخی لائبیریری کا تاریخی ورثے کی انہوں نے نہ صرف اپنے بچوں کی طرح پرورش کی ہے بلکہ اس ورثے پر کھڑے ہو کر روز آزان بلند کرتے ہیں کہ نفرتوں کی جہالت سے لوٹ آو اور علم و محبت کے سمندروں میں تیر کر زندگی کا سمندر پار کرنا ہے تو آو اور استفادہ حاصل کرو ۔

آج کی پپلک لائبیریری ماضی کی بڈ لف لائبیریری 1877میں تاج برطانیہ کے نمائندے جان بڈلف نے قائم کیں اسی عمارت میں پو لیٹیکل ایجنٹ کی رہائش گاہ بھی ہوا کرتی تھی ابتدا میں اس لائیبریری تک رسائی صرف اشرافیہ کیلئے ہی تھی ۔آزادی کے بعد 1950میں بڈلف کی قائم کردہ لائبیریری کو پپلک لائبیریری کا نام دے کر عوام کے لئے کھول دی گئی ۔اس علمی ورثے کی نگرانی کیلئے اور بھی بہت لوگ آئے لیکن ان کا زکر اس لئے نہیں کہ انہوں نے چراغ تلے اندھیرے کے محاورے پر پوراعمل کرتے ہوئے جتنا علم لے کر اس عمارت میں داخل ہوئے تھے اسی علم کے ساتھ چلے بھی گئے اپنے علم میں اضافہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی اور نہ ہی تشنگان علم کیلئے کوئی کارنامہ انجام دے سکے ۔اس عمارت میں شیر باز علی برچہ جب منتظم کے طور پر داخل ہوئے تو انہوں نے ہر طرف علم کی روشنیاں بکھیرنے کا عزم کیا اور اپنی پوری زندگی علم کے چراغ جلاتے جلاتے صرف کر دی اور اب بھی حوصلے جوان ہیں اتنے علمی شہ پارے تخلیق کرنے کے بعد بھی ان کے اندر کے انسان کو چین نہیں آتا اور مزید ،علمی وارداتیں ،ڈالنے کے لئے کمر بستہ ہیں ۔شیر باز علی برچہ کئی نایاب کتابوں کا تحفہ قوم کو دے چکے ہیں ۔گلگت 1947سے پہلے،،تذکرہ اہل قلم و شعراء گلگت ۔ سوانح میر نظیم۔تاریخ گلگت،۔ثقافتی انسا ئیکیو پیڈیا،گلگت میں اردواورعکس گلگت بلتستان کے نام سے کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جبکہ کئی کتابیں تیاری کے مراحل سے گزر رہی ہیں ۔شیر باز علی برچہ کی خدمات پر انہیں کئی ایوارڑ اور انعامات سے سر افراز کیاگیا ہے۔

میں نے اپنی زندگی میں ایسے بھی لائیبیریرین دیکھے ہیں جو پوری زندگی کتابوں کے بوجھ تلے رہے لیکن دو لفظ پڑھنے نصیب نہ ہوئے ۔میں نے ایسے سند یافتہ جاہل بھی دیکھے جن کے پاس سندیں تو بہت ہیں لیکن علم نہیں ۔علم ڈگریوں سے نہیں، جستجو اور طلب سے ملتاہے ۔ایسے ہی کرداروں کے لئے کہا جاتا ہے کہ چراغ تلے اندھیرا۔پوری زندگی علم کے درمیان رہتے ہیں لیکن علم ان کے قریب بھی نہیں گزرتا۔شیر باز برچہ نے بڈلف لائیبریری کو نہ صرف گلگت بلتستان کے علم سے محبت کرنے والوں کیلئے سنوار کے رکھی بلکہ اسی لائیبیریری سے انہوں نے گلگت بلتستان کی تاریخ کے گمشدہ اوراق کویکجا کر کہ ہماری نسلوں کو اسلاف کی تاریخ سے ہمیشہ کیلئے روشناس کرایا ۔شیر باز برچہ نے چراغ تلے اندھیرے کے محاورے کو غلط ثابت کر دیا ۔اس چھوٹے قد کے بڑے انسان نے گلگت بلتستان کی تاریخ پر ایسی مستند کتابیں لکھی کہ اب کوئی نہیں کہہ سکتا ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ پر تاریخ کی دھول جمی ہے ۔ان کی زندگی کے ہر گوشے میں علم علم اور بس علم کی عملی تصویر نظر آتی ہے ۔ان کی شخصیت نہ صرف گلگت بلتستان کے تشنہ گان علم و ادب کیلئے انسائیکو پیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ شیر بازی برچہ عکس گلگت بلتستان ہیں ۔اگرچہ بہت ساری کتابوں کے ساتھ انہوں نے حال ہی میں عکس گلگت بلتستان کے نام سے کتاب تحریر کی ہے لیکن عملا شیر بازعلی برچہ کی علمی زات میں عکس گلگت بلتستان کی جھلکیاں دیکھ سکتے ہیں ۔گلگت بلتستان کی تاریخ کے کسی گوشے سے پردے اٹھانے ہوں تو علم کے متلاشی ان سے استفادہ کئے بغیر آگے نہیں بڑہ سکتے ہیں ۔

ہم ہمیشہ سے مردہ پرست قوم ثابت ہوئے ہیں ۔اس لئے تو بھارت کے ایک ہندو نے کہا تھا کہ ہم میں اور مسلمانوں میں بس ایک ہی تو فرق ہے کہ ہم کھڑی قبر کو پوجتے ہیں اور مسلمان پڑی قبر کو پوجتے ہیں ،خیر یہ بات تو درمیان میں آگئی ۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے مشاہیر کی زندگیوں میں تو نہ چار لفظ اچھے کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی ہماری حکومتیں ان کی حوصلہ افرائی کرتیں ہیں ۔بہت عظیم انسان تھے ۔اس لفظ کے حقدار بننے کیلئے مرنا پڑتا ہے ۔پروفیسر عثمان جیسی گوہر نایاب ہستیوں کو ہم کھو دیا ان کی زندگی میں ہم ان کی خدمات کا صلہ نہیں دے سکے ۔اللہ شیر باز علی برچہ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے ۔گلگت بلتستان کے اصل ہیرو شیرباز برچہ جیسی علمی شخصیات ہی ہیں جنہوں مٹتی ہوئی تاریخ کو اپنی پوری زندگی کا خراج دے کر محفوظ بنایا ہے ۔آئیں سب ملکر گلگت بلتستان کے اس اصل ہیرو کو سلام عقیدت پیش کریں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author