پہلا گلگت بلتستان ادبی میلہ

65 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان کی تاریخ کاپہلا دوروزہ ادبی میلہ گزشتہ روز قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت میں اختتام پذیر ہوگیا مقامی زبانوں کی ترویج و تدوین سمیت ریسرچ اکیڈیمی کے قیام کے منعقدہ دوروزہ سیمینار کے پہلے روز دو سیشن رکھے گئے پہلے روز کے پہلے سیشن میں ملک بھر اورچاروں صوبوں سے آئے ہوئے مندوبین، مختلف لسانی تنظیموں اوراداروں کے نمائندوں نے لیکچرز اور پریزینٹیشن دئے ابتدائی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ڈاکٹر کاظم نیاز جو کہ لسانی امور کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کی سرپرستی کررہے ہیں،نے کہا کہ میرے لئے یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ گلگت بلتستان کی مقامی زبانوں کے ترویج و تحفظ سمیت ان زبانوں کو تحریری شکل میں لانے کے لئے کام کرنے کا موقع ملا ہے زاتی طور پر ادبی شعبہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے مجھے زبان کی اہمیت اور ان کی تحریری شکل میں نہ ہونے کی کمی شروع سے محسوس رہی ہے گلگت بلتستان ثقافت اور ادب کے لحاظ سے ایک خوبصورت گلدستہ ہے یہاں قدم قدم پر ایک الگ اور خوبصورت ثقافت اور زبان دیکھنے کو ملتی ہے اتنی خوبصورتی اتنے علاقے میں دنیا کے کسی کونے میں نہیں ہوگی اس سے قبل بلوچستان میں مجھے لسانی امور پر کام کرنے کا موقع ملا اوراب دوسری بات گلگت بلتستان میں کام کرنے کا موقع ملا ہے جو میرے لئے ایک اعزاز ہے انہوںں نے کہا زبان کسی بھی علاقے کی شناخت ہوتی ہے اور گلگت بلتستان میں وسیع تنوع پایا جاتا ہے ،یہاں کی ثقافت رنگارنگ اور دلچسپیوں سے بھرپور ہے ۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی دلچسپی اور انتظامیہ کی کوششوں کے باعث اس خطے کی زبانوں کو محفوظ رکھنے اور ان کی ترقی کے لئے ریسرچ اکیڈیمی کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے ۔صوبے میں پہلی دفعہ ادبی میلے کا انعقاد اس ضمن میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے طلبہ کے لئے اس ادبی سرگرمی میں شرکت ایک اہم موقع ہے جہاں ہماری آنے والی نسلیں اور مستقبل کے معمار اپنے کلچر ، زبان اور ادب کے حوالے سے بہتر طور پر روشناس ہوسکیں گے ۔گلگت بلتستان ادب اور تاریخ کے میدان میں بھرپور مقام رکھتا ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات کئے جائیں ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ادبی میلے کا انعقاد اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے ،آنے والے دنوں میں اکیڈیمی کے قیام کی راہ ہموار کرنے کے لئے ہمیں ملک بھر سے ماہرین کی تجاویز درکار تھی جس کے لئے اس ادبی میلے کو پلیٹ فارم بنایا گیااور نامور ادبی شخصیات کو اس خطے میں مدعو کیا گیا ہے ۔ انہوں نے اس امید کااظہار کیا کہ اس دوروزہ ادبی سرگرمی کا حاصل نہایت ہی مثبت ہوگا اور ماہرین کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کی روشنی میں گلگت بلتستان میں اکیڈیمی کے قیام کے لئے راہ متعین ہوگی ۔ حکومت ان تجاویز کی روشنی میں سنجیدہ اقدامات کرے گی اور اس قیمتی ورثے کو کامیابی سے محفوظ رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریگی تاکہ آنے والی نسلیں اپنے آباو اجداد کی زبان کو مزید پھلتا پھولتا دیکھ سکیں۔

مقامی زبانوں کے تحفظ کے لئے بنائی گئی اس کمیٹی کے سیکریٹری و معروف ادبی شخصیت نے ظفر وقار تاج نے اس سے قبل صحافیوں کو اس دوروزہ ادبی میلے کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ گلگت بلتستان کے مقامی زبان اس وقت ایک تاریخی موڑ پر ہیں 70سالوں سے نظر انداز رہنے والے اس شعبہ میں پہلی بار سنجیدگی سے کام کیا جارہا ہے دوروزہ ادبی میلہ علاقے میں لینگویج اینڈ ریسرچ اکیڈیمی کے قیام اور مقامی زبانوں کی اشاعت و ترویج کے لئے سنگ میل ثابت ہوگا مقامی زبانوں کی اپنی ایک مسلمہ اہمیت ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔گلگت بلتستان کی زبانیں چونکہ اس مقام میں نہیں جس مقام پر ملک کے دیگر زبانیں موجودہیں اس لئے ان زبانوں کی اشاعت وترویج کے لئے بنیاد سے ہی کام شروع کررہے ہیں اس سلسلے میں ملک بھر کے معروف ادبی و لسانی ماہرین کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ آئیں اور اس اہم معاملے میں ہماری رہنمائی کریں ۔

2روزہ ادبی میلے کے پہلے روز ابتدائی سیشن میں مختلف اداروں کے نمائندوں نے زبان کی اہمیت پر لیکچرز اور پریزنٹیشن دئے جن میں براہوی اکیڈیمی کے چیئرمین صلاح الدین مینگل نے براہوی زبان کی ترویج کے حوالے سے درپیش مسائل اور ان کی اکیڈیمی کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات سے حاضرین کوآگاہ کیا اور کہا کہ براہوی اکیڈیمی 1960میں قائم ہوئی ہے اور 1992 سے اس ادارے کی زمہ داری میرے پاس ہے براہوی اکیڈیمی کا یہ اعزاز ہے کہ انہوں نے اب تک 350سے زائد کتابیں براہوی زبان میں شائع کئے ہیں اور اس اکیڈیمی کی کوششوں سے 1994میں براہوی نصابی زبان بن گئی اور ہمارا اگلا ہدف براہوی زبان کو سی ایس ایس میں بطور مضمون شامل کرانا ہے ۔

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی شعبہ ماڈرن لینگویجز کی اسسٹنٹ پروفیسر فوزیہ منصور نے اپنے شعبے کی نمایاں کارکردگی سمیت مقامی زبانوں کے ترویج کے لئے اقدامات پر پریزنٹیشن دی اور کہا کہ شعبہ ماڈرن لینگویجز 2011میں قائم کیا گیا ہے جس سے اب تک 300سے زائد طلبہ اپنا تعلیمی سفر مکمل کرچکے ہیں انہوں نے مقامی زبانوں کو درپیش چیلنجز، لینگویج اکیڈیمی کی ضرورت، مقامی آبادی کو اس حوالے سے شعور کی آگاہی ، مقامی زبانوں کو اندرونی و بیرونی خطرات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اس شعبے کے زیر اہتمام اب تک شینا، بلتی ، وخی اور ڈوماکی زبان پر درجنوں ریسرچز مکمل کئے گئے ہیں ۔

زبیر توروالی، سربراہ ایف ایل آئی

فورم فار لینگویج انیشیٹیوز کے نمائندہ امیر حیدر بگورو نے مادری زبان پر مشتمل نصاب تعلیم کی ضرورت اور روایتی سکول سسٹم کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے پریزنٹیشن دی اور بتایا کہ FLIشمالی پاکستان کے 30زبانوں پر کام کررہی ہے جن میں 18زبانوں کا کام تکمیل کے قریب ہے ہم نے مختلف علاقوں میں مادری زبان پر مشتمل نصاب تعلیم کے پائلٹ پراجیکٹس شروع کئے ہیں جن میں طلبہ کی کارکردگی دیگر سکول کے طلبہ کی نسبت بہت بہتر ہے انہوں نے کہا کہ نصاب تعلیم مادری زبان میں نہ ہونے کی وجہ سے 50فیصد سے زائد طلبہ سکول سے باہر ہوتے ہیں ترقی یافتہ ممالک کا نصاب تعلیم اپنی ہی زبان پر مشتمل ہوتا ہے انہوں نے حکومت کو تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ زبانوں کے تحفظ اور ترویج کے لئے اتھارٹی کی ضرورت ہے جو اخبارات اور دیگر زرائع ابلاغ کے لئے زبان کے آرتھو گرافی بنائے ۔مقامی زبان کی کتابوں پر مشتمل ایک لائبریر ی قائم کی جائے ۔اسلامک یونیورسٹی و دیگر اداروں سے روابط رکھے جائے اور اس شعبہ پر کام کرنے والوں کو سالانہ ایوارڈز اور ٹریننگز دئے جائے ۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی شعبہ پاکستانی زبانوں کے ڈاکٹر عبدالواجد نے AIOUمیں جاری مختلف لسانی پروگراموں سے شرکاء کو آگاہ کیا اور کہا کہ ہمارے پروگراموں میں گلگت بلتستان کے شینا،بلتی اور کھوار زبان بھی شامل ہے ۔انہوں نے دوروزہ ادبی میلے کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں بنیاد سے ہی کام کرنے کا موقع ملا ہے بنیاد ٹھیک ہوگی تو آگے منزل بھی ٹھیک ہوگی انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں بولی جانے والی تمام زبانوں کو یکساں اور برابر نمائندگی دیکر اکیڈیمی قائم کی جائے کیونکہ زبان چھوٹی یا بڑی نہیں ہوسکتی البتہ بولنے والوں کی تعداد میں فرق ہوسکتا ہے ۔حکومت ابتدائی طور پر سرٹیفکیٹ اور ڈپلومہ کورسز شروع کرائے ۔

اسلامیہ یونیورسٹی پشاور کے شعبہ پشتو کے چیئرمین ڈاکٹر اباسین یوسفزئی نے مجوزہ گلگت بلتستان لینگویج اکیڈیمی کے تنظیمی ڈھانچے میں تجویزی پریزینٹیشن دی انہوں نے کہا کہ ہر زبان کی اپنی ایک الگ عظمت ہوتی ہے ملک بھر سے ہر زبان کے بولنے والوں کو ایک چھت کے نیچے جمع کرکے خوبصورت پیغام دیا ہے ۔کمیونٹی فار کامن گڈ کی نمائندہ ثروت صغریٰ وزیر نے اپنے غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے مقامی زبانوں کے ترویج کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے شرکاء کو آگاہ کیا

جبکہ آخر میں بلوچی اکیڈیمی کے ممتاز یوسف ، لوک ورثہ کی ڈائریکٹر جنرل فوزیہ سعید نے پریزنٹیشن دی اور اپنے ادارے کی جانب سے گلگت بلتستان کے مقامی زبانوں کے ترویج و اشاعت کے لئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ابتدائی سیشن کی صدارت چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ڈاکٹر کاظم نیاز نے کی جبکہ آئی جی پولیس صابر احمد، وائس چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی ڈاکٹر خلیل احمد سمیت بڑی تعدا د میں شعراء ، ادباء سمیت طلبہ و طالبات نے شرکت کی نظامت کے فرائض ضیاء اللہ شاہ اور اشتیاق یاد نے ادا کئے جبکہ تلاوت کی سعادت اسلام الدین نے حاصل کی۔

ادبی فیسٹیول کے پہلے روز دوسرے سیشن میں مقامی زبانوں پر مشتمل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جنہوں نے اپنی اپنی زبان میں شاعری پیش کی اور حاضرین سے خوب داد وصول کی شینا زبان میں شاعری پیش کرنے والوں میں نظیم دیا ، غلام عباس صابر، نذیر حسین نذیر، حورشاہ حور، عزیز الرحمن ملنگی ، عبدالحفیظ شاکر ، جہانگیر بابر، ظفر وقار تاج ، جمشیدخان دکھی ، عبدالخالق تاج ، پروفیسر امین ضیاء شامل تھے ۔وخی زبان میں شاعری پیش کرنے والوں میں لیلیٰ غازی ، لال جہان ، عصمت اللہ مشفق نیازی ، علی قربان ، سیف شامل تھے ۔ بلتی زبان میں شاعری پیش کرنے والوں میں عاشق حسین عاشق، رضا بیگ گھائل ، اخوند ابراہیم شامل تھے ۔بروشسکی میں شاعری کرنے والوں میں رضا عباس تابش ، شیرباز علی گنشی جبکہ کھوار میں شاعری پیش کرنے والوں میں شمس نوازش غذری ، نیت شاہ قلندری اور جاوید حیات کاکا خیل شامل تھے ۔ڈاکٹر اباسین یوسفزئی ، شمس محمد مہمند نے پشتو ، ڈاکٹر صغریٰ صدف نے پنجابی اور پروفیسر اسحاق سمیجو نے سندھی زبان میں شاعری کی ۔

دوسرے سیشن میں ڈاکٹر اباسین یوسفزئی نے صدر محفل ، سینئر صوبائی وزیر ڈاکٹر اکبر تابان مہمان خصوصی جبکہ صوبائی وزیر و چیئرمین برائے لینگویج کمیٹی فدا خان فدا نے چیف گیسٹ کے فرائض سرانجام دئے جبکہ پروفیسر امین ضیاء اور ڈاکٹر صغریٰ صدف بھی سٹیج پر موجود تھے ۔ اس موقع پر سینئر صوبائی وزیر ڈاکٹر اکبر تابان اور صوبائی وزیر فدا خان فدا نے ملک بھر سے آئے ہوئے مہمانوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے دوروزہ ادبی میلے سے اس امید کااظہار کیا کہ یہ میلہ مقامی زبانوں کی ترویج و اشاعت کے لئے دور رس نتائج فراہم کرے گا۔

دوسرے دن کی روداد

دوروزہ ادبی میلے کے دوسرے روز پہلے نشست میں وفاقی وزیر برائے امور کشمیر چوہدری برجیس طاہر سمیت وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے خصوصی شرکت کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان چوہدری برجیس طاہر نے کہا ہے کہ ملک بھر سے ادیبوں اور شعراء کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرکے حکومت گلگت بلتستان اور عوام گلگت بلتستان نے حقیقی پاکستان کا تصور پیش کیا ہے زندہ قوموں کی نشانی ہے کہ وہ اپنے ثقافت اور زبان سے محبت رکھتے ہیں گلگت بلتستان میں ادبی میلے کا انعقاد اور لینگویج اکیڈیمی کا قیام قائد مسلم لیگ نوازشریف کے ویژن کی عکاسی ہے جنہوں نے اس علاقے سے محبت کا ثبوت دیتے ہوئے اکادمی ادبیات میں نمائندگی سمیت جی بی کے زبانوں کو قومی دھارے میں لانے کے ل ئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے وفاقی حکومت اس اثاثے کے ترویج و تحفظ کے لئے ہر قسم کا تعاون کریگی انہوں نے کہا کہ حکومتوں کے مقابلے میں قلم کار مضبوط اور وسیع حلقہ اثر رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا میں سقراط اور افلاطون جیسے نام صدیوں بعد بھی زندہ ہیں ۔قیام پاکستان کے پس منظر میں بھی علامہ محمد اقبال ؒ کا خواب اور ان کی قوم کو جھنجوڑنے والی شاعری کارفرما تھی جسے بعد ازاں قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک تحریک کی شکل دیدی۔بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ کتاب اور قلم دوستی سے دور ہوتا جارہا ہے ایسے موقع میں گلگت بلتستان میں ادبی میلے کا انعقاد نہ صرف کتاب دوستی کی طرف راستہ دکھا رہا ہے بلکہ اس علاقے کے زبانوں کے تحفظ اور ترویج کے لئے بھی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ بحیثیت وفاقی وزیراس بات کی یقین دہانی کراتا ہوں کہ اکیڈیمی کے قیام سمیت ادبی اور ترقیاتی پروگراموں میں وفاقی حکومت میں اس علاقے کے نمائندے کے طور پر بات کروں گا انہوں نے لینگویج اکیڈیمی کے قیام اور مقامی زبانوں کی ترویج و اشاعت کے لئے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ڈاکٹر کاظم نیاز کی کووشوں کو سراہا ۔

تقریب سے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ملک بھر سے آئے ہوئے مہمانوں کا شکریہ کرتے ہیں جنہوں نے اپنی گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال کر اس خطے کے عوام سے اپنی محبت کا ثبوت دیتے ہوئے اس ادبی میلے میں شرکت کی انہوں نے کہا کہ میاں محمد نوازشریف کی دلچسپی کے باعث آج ہم قومی دھارے میں شامل ہورہے ہیں اکادمی ادبیات جیسے فورمز میں گلگت بلتستان کو نہ صرف نمائندگی ملی ہے بلکہ ریجنل دفتر کے قیام کی منظوری مل چکی ہے دو روزہ ادبی میلہ اکیڈیمی کے سمیت مقامی زبانوں کو تحریری صورت میں لانے میں سنگ میل ثابت ہونگے آئندہ سال گلگت بلتستان کے پانچوں زبانوں کو باقاعدہ طور پر تعلیمی زبان کے طور پر نصاب میں شامل کیا جائیگا اور ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جائیگا انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے 2 اہم ترین اقدامات اٹھائے ہیں جن میں 1آپریشن ضرب عضب تھا جس نے دہشتگردوں کی کمرتوڑ کررکھ دی جبکہ دوسرا ضرب قلم ہے جو کہ معاون خصوصی برائے وزیراعظم عرفان صدیقی کی سربراہی میں قلمی انقلاب برپا کرنے کے لئے کام کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ماضی میں صرف ناچ گانے کو کلچر قرار دیا گیا جس کی وجہ سے ایک موثر حلقہ ہم سے کٹ کررہ گیا گلگت بلتستان کی تاریخ میں آج تک کوئی ادبی میلے کا انعقاد نہیں ہوا اور مقامی زبانوں کی سرپرستی نہیں ہوئی چیف سیکریٹری گلگت بلتستان اور ان کی پوری ٹیم اس حوالے سے مبارکباد کی مستحق ہے جنہوں نے زاتی دلچسپی لیکر اس ادبی میلے کو کامیاب بنایا اب مقامی زبانوں کی سرپرستی حکومت کریگی اور آئندہ دنوں ریسرچ اکیڈیمی مکمل طور پر قائم ہوگی انہوں نے کہا گلگت بلتستان چند سال قبل ایک ایسی صورتحال میں تھا جہاں ہوٹلوں کو توڑ کر مارکیٹیں بنائے جارہے تھے اب پر امن گلگت بلتستان کی وجہ سے سیاحت کا شعبہ اپنے عروج پر ہے پہلی بار گلگت بلتستان کی آبادی سے بھی زیادہ سیاحوں نے اس علاقے کا رخ کیا ۔

دوسرے سیشن کے پہلے روز زبان کی اہمیت اور ان کی ترویج و اشاعت کے موضوع پر مختلف مقالے پیش کئے گئے جن میں ڈاکٹر اباسین یوسفزئی نے اسلامیہ کالج پشاورمیں شعبہ پشتو کے لئے اٹھائے گئے اقدامات اور لینگویج اکیڈیمی کے قیام پر ، سندھ اکیڈیمی (سندھالوجی )کے پروفیسر ڈاکٹر اسحاق سمیجو نے سندھی زبان ، شمس محمد مہمند نے مادری زبان و ادب پر مقالہ جات پیش کئے جبکہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر عبدالواحد نے شعبہ لسانیات کی لائبریری اور الیکٹرانک کتب ،ڈاکٹر صغریٰ صدف نے انفارمیشن اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں مقامی زبانوں کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات جبکہ سوات سے تعلق رکھنے والے ماہر لسانیات زبیر توروالی نے ’مرتی تہذیبیں اور خاموش آوازیں‘کے عنوان سے پریزنٹیشن دی اور کہا لوگوں کا مزاج ان کی مٹی جیسا ہوتا ہے اپنے علاقے کے ہوا ، پانی اور پھل پھولوں سے ایک روحانی تعلق ہوتا ہے مقامی زبانوں کی اہمیت کا اندازہ صرف ایک بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے جب چین کے صدر کو انگریزی میں بات کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ ’چین گونگا نہیں ‘۔ انہوں نے اس موقع پر مقامی زبانوں کو تحریری شکل میں لانے کے لئے درپیش مشکلات ، عالمگیریت کے اثرات ، ثقافتی پہچان ، ریسرچ کی کمی اور دیگر موضوعات پر لیکچر دیتے ہوئے حکومت کو تجویز دی کہ ای سی ڈی اور پرائمری تعلیم مقامی زبان میں کرتے ہوئے ثانوی تعلیم تک مقامی زبانوں کو ایک مضمون کی شکل دی جائے ۔دنیا کی واحد شے زبان ہے جس کو ماں سے تشبیہہ دی گئی ہے ۔

معروف شعراظفر وقار تاج اور عبدالرحمن ملنگی کے ساتھ فہیم اختر کی دوران میلہ لی گئی ایک تصویر

ادبی میلے کے آخری سیشن میں اردو مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جن میں عالمی شہرت یافتہ شاعر انور شعور ، مشہور شاعر خالد شریف ، نوجوان شاعر رحمان فارس ، سینئر صوبائی وزیر حاجی اکبر تابان ، ڈاکٹر صغریٰ صدف ، ڈاکٹر اباسین یوسفزئی ، ممتاز یوسف ، عبدالخالق تاج ، خوشی محمد طارق ، جمشید خان

دکھی ، ظفر وقار تاج ، فدا علی ایثار ، حشمت کمال الہامی ، حفیظ شاکر ، محمد امین ضیاء ، میر اسلم سحر ، احسان علی دانش ، زیشان مہدی ، فیض اللہ فراق ، اسماعیل ناشاد ، حلیم فیاضی ، فرمان خیال ، عارف سحر ، مشتاق احمد راہی ، میمون عباس ، شاہ جہان مظفر ، ناصر نگری ، رضا بیگ گھائل ، اباسین یوسفزئی ، رضا عباس تابش ، توصیف حسن توصیف ، ناصر حسین نصیر، تہذیب حسین برچہ ، رحمن آہی ودیگر نے اپنی شاعری پیش کرکے حاضرین سے خوب داد وصول کی ۔ اختتامی سیشن کے صدر محفل انور شعور جبکہ میر محفل سینئر صوبائی وزیر اکبر تابان تھے ۔نظامت کے فرائض یونس سروش اور سیدہ طاہرہ بتول نے ادا کئے ۔

ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے تمام مہمان گلگت بلتستان حکومت کی مہمان نوازی اور علاقے کی خوبصورتی کی تعریفیں کرتے رہے اور کہا کہ یہ علاقہ خوبصورتی میں سوئزرلینڈ سے کم نہیں یہاں کے لوگ مہمان نوازی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے ہیں ۔اس علاقے سے محبتوں کا خزانہ لیکر واپس جارہے ہیں۔ اور اپنے حلقوں میں آئندہ گلگت بلتستان کی بھرپور نمائندگی کریں گے اور کوئی بھی ایسا موقع ضائع نہیں کریں گے جہاں گلگت بلتستان کے عوام، ادیبوں اور شعراء کو بلانا ہوگا۔

صوبائی حکومت گلگت بلتستان کے زیر اہتمام منعقدہ اس دوروزہ ادبی میلے کی سرپرستی حکومتی کمیٹی نے کی جس کے چیئرمین صوبائی وزیر فدا خان فدا جبکہ کمیٹی کے سیکریٹری ظفر وقار تاج سیکریٹری محکمہ برقیات ہیں جبکہ دیگر ممبران میں سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بابر امان بابر، سیکریٹری فنانس تقی اخونزادہ ، سیکریٹری سیاحت رشید ، سیکریٹری اطلاعات فدا حسین اور کمشنر گلگت ڈویژن سبطین احمد شامل ہیں۔

میلے کے دوران کتابوں کے سٹالز بھی لگائے گئے تھے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

فہیم اختر

فہیم اختر پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ گلگت بلتستان کے صدر ہیں اور مقامی اخبارات میں صدائے گلگت کے نام سے کالم لکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ پامیر ٹائمز کے مستقل کالم نگار ہیں۔