گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا لفظ ن لیگ کی ڈکشنری میں نہیں، وزیر اعلی آئینی حقوق کے خود مخالف ہیں، سعدیہ دانش

گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا لفظ ن لیگ کی ڈکشنری میں نہیں، وزیر اعلی آئینی حقوق کے خود مخالف ہیں، سعدیہ دانش

22 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 چلاس (ڈسٹرکٹ رپورٹر )پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی سکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا لفظ نواز لیگ کی ڈکشنری میں ہی نہیں ہے۔نام نہاد آئینی کمیٹی الف لیلی کی داستان بن چکی ہے۔وزیر اعلی گلگت بلتستان آئینی حقوق کے سب سے بڑے مخالف ہیں اور انہوں نے سپیکر اور دیگر اراکین سے لو اور دو کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے آئینی حقوق کے معاملے میں خاموش رہنے کے عوض انکو ٹھیکوں اور نوکریوں کی بندر بانٹ میں کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔اس لئے نواز لیگ کے تمام وزراء اور ممبران اسمبلی و کونسل آئینی حقوق جیسے بنیادی اور اہم ترین ایشو پر شتر مرغ کی طرح آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔اور مل بانٹ کر گلگت بلتستان کے وسائل لوٹنے میں مصروف ہیں۔جس کمیٹی نے نواز شریف کی وزارت عظمی میں کچھ کام نہیں کیا وہ اب کیا خاک کام کرے گی۔دراصل یہ آئینی حقوق سے فرار حاصل کرنے کے لئے حلیے بہانوں سے وقت ضائع کر رہے ہیں۔ آئینی کمیٹی ڈرامے کی آخری فلاپ قسط بھی جلد عوام کے سامنے آئے گی۔ٹیلیفونک انٹرویو دیتے ہوئے سیکرٹری اطلاعات پیپلز پارٹی گلگت بلتستان سعدیہ دانش نے کہا کہ وفاقی وزیر برجیس طاہر نے گلگت بلتستان کو اپنی چراگاہ سمجھ رکھا ہے جہاں وہ وقفے وقفے سے کرپشن کی مد میں اپنا کمیشن وصول کرنے آجاتے ہیں۔جو حکومت ایک نااہل اور بدعنوان شخص کو اپنا قائد تسلیم کرتی ہے اور اس کی مشاورت سے چلتی ہے اس سے کسی بھی خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔نواز لیگ کی مرکزی اور صوبائی حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام کو جھوٹ،دھوکہ دہی کے سوا کچھ نہیں دیا اور کرپشن اور اقربا پروری کے عالمی ریکارڈ قائم کئے ہیں۔حفیظ سرکار نے جان بوجھ کر نہ صرف گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا سنہری موقع ضائع کردیا بلکہ انکی نااہلی سے سی پیک میں بھی گلگت بلتستان کو نظر انداز کیا گیا۔  بلتستان کو اب تک جتنے بھی آئینی پیکیج ملے ہیں اور آئینی اصلاحات ہوئی ہیں وہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے کی ہیں۔اور یہ پیپلزپارٹی کے قائدین کا اس علاقے کے عوام کے ساتھ دلی لگاو اور ہمدردی کا دوٹوک اور ناقابل تردید ثبوت ہے۔اور پیپلز پارٹی کے دئے ہوئے موجودہ سیٹ اپ کی وجہ سے ہی باقاعدہ آئینی حقوق کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔اور انشاءاللہ گلگت بلتستان کو باقاعدہ آئینی حقوق بھی پیپلزپارٹی کے نوجوان قائد بلاول بھٹو ہی دینگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔