علمِ عَروض ۔۔۔۔۔ ایک تعارف

علمِ عَروض ۔۔۔۔۔ ایک تعارف

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: محمد جواد شگری

مقدمہ:

عَروض عربی زبان کا لفظ ہے جسکا لغوی معنی ہے ’’ خیمہ کا مرکزی ستون جس پر خیمہ تانا جاتا ہے‘‘۔ جبکہ اسکا اصطلاحی معنی ہے ’’ وہ علم جس کے ذریعے کسی شعر کے وزن کی صحت دریافت کی جاتی ہے‘‘۔ یہ علم دراصل منظوم کلام کی کسوٹی ہے۔اس علم کے ذریعے کسی بھی کلام کی بحر بھی متعین کی جاتی ہے۔اس علم کیبانی مشہور مسلمان ادیب خلیل ابن احمد فراہیدی ہیں۔جو کہ حضرت علی? کے شاگرد اور معتمد خاص بھی تھے اور انہوں نے قرا?ن مجید پر اعراب لگانے کا ا?غاز بھی کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خلیل احمد سے پہلے اشعار بغیر اوزان کے ہوتے تھے۔ عرب والے بہترین شاعری کرتے تھے لیکن کسی کی شاعری کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کا معیار ذوقِ سلیم تھا۔ شاعری میں اوزان کی غلطیاں ہوتی ہیں۔ اس سے عام لوگ ا?گاہ نہیں ہوتے۔ علمِ عروض کے ذریعے اوزان وجود میں نہیں ا?ئے بلکہ اوزان کو علمِ عروض کے ذریعے مشخص کیا گیا اور خاص نام دئیے گئے۔ اس علم پر پہلی مستقل کتاب تیسری صدی ہجری میں ابو اسحاق زجاج م ۰۰۳ ھ نے لکھی۔ لیکن اس موضوع پر سب سے مشہور کتب شمس قیس رازی کی ’’ المعجم‘‘ اور نصیر الدین طوسی کی ’’ معیار الاشعار‘‘ ہیں۔

اردو میں اس موضوع پر بہترین کتاب مولوی نجم الغنی رامپوری کی ’’بحر الفصاحت ‘‘ہے جو پانچ حصوں پر مشتمل ہے۔اور دوسرا حصہ علم عروض پر ہے۔ اس کتاب کا ترمیم اور اضافہ شدہ حصہ مصنف نے? 1924ء میں شائع کیا۔ جو اب تک مروج ہے۔اس موضوع پر دوسری اہم کتاب مرزا یاس یگانہ چنگیزی کی’’ چراغِ سخن ‘‘ہے۔جو ۱۹۲۴ میں پہلی بار طبع ہوئی۔

شاعری کے اوزان:

کسی بھی کلام کے شعر ہونے کیلئے تین معیار بتائے جاتے ہیں۔ جوکہ وزن، قافیہ اور قصد و ارادہ کے ہیں۔ یہاں قصد و ارادہ شاعری کا ہونا اسلئے ضروری ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کی بہت سی آیات بھی علم عروض کے اوزان پر پوری اترتی ہیں۔ مثلاً

لَنتنالواالبِرَّحَتّیٰتْنفِقْوا۔۔۔۔۔

اس ایت کا یہ حصہ بحرِ رْمَل کے وزن پر پورا اترتا ہے جو کہ یہ ہے۔

فاعِلاتْنفاعِلاتْنفاعِلْن

اسی لئے قرآنی آیات کو مشرکین عرب نے شاعری کہا تھا۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ شاعری کا نہیں تھا۔ اور اسکی تائید سورہ یاسین کی آیت ۹۷ سے بھی ہوتی ہے۔پس شاعری کیلے قصد و ارادہ لازمی ہے۔ جہاں تک علم عروض کی بات ہے۔ خلیل احمد فراہیدی نیاس علم کے پندرہ اوزان ایجاد کئے جبکہ انکے شاگرداخفش اوسط نے ایک وزن کا اضافہ کیا (جسے بحر المتدارک کہا جاتا ہے)۔ پھر ایران والوں نے ان میں چند بحور کا اضافہ کیا۔ اس وقت سالم حالت میں انیس بحریں ہیں۔ لیکن مختلف بحور میں اضافہ یا کمی کرکے جو بحریں بنائی گئی ہیں۔ جنہیں زحافات یا مجزوء4 وغیرہ کا نام دیا جاتا ہے، انہیں ملا کر سینکڑوں بحریں بنتی ہیں۔ ہر وزن کو شاعری کی زبان میں بحر کہا جاتا ہے۔ جو کہ درج ذیل ہیں۔

(حوالہ: جواہر البلاغہ، احمد ہاشمی،قم، ص ۱۰۳، یہاں آسانی کیلئے تنوین کی جگہ نون لکھا جارہا ہے)

۱۔ بحرِ طویل: اسکا وزن ہے۔فَعْولْنمَفاعِیلْن فَعْولْنمَفَاعِیلْن

۲۔ بحر مدید: اسکا وزن ہے۔ فاعلاتْنفاعلْنفاعلات،فاعلاتْنفاعلْنفاعلات

۳۔ بحر بسیط: اسکا وزن ہے۔مْتفاعلْنمتفاعلنمتفاعلن،متفاعلْنمتفاعلنمتفاعلن

۴۔بحر وافر: اسکا وزن ہے۔ مفاعلاتْنمفاعلاتْنفعولْن،مفاعلاتْنمفاعلاتْنفعولْن

۵۔ بحر کامِل: اسکا وزن ہے۔ متفاعلْنمتفاعلْنمتفاعلْن،متفاعلْنمتفاعلْنمتفاعلْن

۶۔ بحر ہزج: اسکا وزن ہے۔مفاعیلْنمفاعیلْنمفاعیلْن،مفاعیلْنمفاعیلْنمفاعیلْن

۷۔ بحر رجز: اسکا وزن ہے۔مستفعلْنمستفعلْنفعیلْن،مستفعلْنمستفعلْنفعیلْن

۸۔ بحر رْمَل: اسکا وزن ہے۔فاعلاتْنفاعلاتْنفاعِلْن،فاعلاتْنفاعلاتْنفاعِلْن

۹۔ بحرِسریع:اسکا وزن ہے۔مْستفعِلْنمْستفعِلْنمْستفعِلْن،مْستفعِلْنمْستفعِلْنمْستفعِلْن

۰۱۔ بحر منسرخ: اسکا وزن ہیمستفعلْنمفعولاتْنمستفعلْن،مستفعلْنمفعولاتْنمستفعلْن

۱۱۔ بحر خفیف: : اسکا وزن ہے۔فاعِلاتْنمْستفعِلْنفاعِلاتْن،فاعِلاتْنمْستفعِلْنفاعِلاتْن

۲۱۔ بحرِ مضارع:: اسکا وزن ہے مفاعیلْنفاعلاتْن،مفاعیلْنفاعلاتْن

۳۱۔ بحر مقتضب: : اسکا وزن ہے۔ فاعلاتْنمْفتعلْن،فاعلاتْنمفتعلْن

۴۱۔ بحر مجتث:: اسکا وزن ہے۔مستفعلْنفاعلاتْن،مستفعلْنفاعلاتْن

۵۱۔ بحر متقارب:: اسکا وزن ہے۔مفعولْنمفعولْنمفعولْنمفعولْن،مفعولْنمفعولْنمفعولْنمفعولْن

۶۱۔ بحر متدارک:: اسکا وزن ہے۔فاعلْنفاعلْنفاعلْن،فاعلْنفاعلْنفاعلْن

اختتامیہ:

یہ اوزان میں نے ایک عربی کتاب سے نقل کئے ہیں۔ چونکہ میں خود اردو ادب سے شغف رکھتا ہوں لیکن نہایت قلیل معلومات رکھتا ہوں۔ لہٰذا علمِ عروض پر گرفت رکھنے والے افراد سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس موضوع پر مزید روشنی ڈالیں تاکہ شعر و شاعری کے شوقین افراد کیلئے رہنمائی مل سکے۔ ا?خر میں قارئین کیلئے ایک تحفہ ضرور دینا چاہوں گا۔ اگر ا?پ اردو ادب کے کسی موضوع پر تفصیلی مطالعہ یا تحقیق کرنا چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل ویب سائٹ کو ضرور کھولیں، جسے ریختہ فانڈیشن نے بڑی محنت سے تیار کی ہے۔ www.rekhta.org

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔