تعزیتی ریفرنس بیاد سید مہدی مرحوم

تعزیتی ریفرنس بیاد سید مہدی مرحوم

31 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان کے صحافتی اُفق سے جدا ہونے والا درخشاں ستارہ اور مزاحمتی صحافت کے باب سید مہدی کی شخصیت اور ان کے گلگت بلتستان کیلئے قلمی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے قراقرم پبلشنگ نیٹ ورک ضلع دیامر،دیامر رائٹرز فورم اور پریس کلب چلاس کے زیر اہتمام ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔تعزیتی ریفرنس میں ضلع دیامر بھر سے سیاسی ،مذہبی اور سماجی تنظیموں کے عہدیداران ،علمائے کرام،صحافی برادری اور مختلف مکاتب فکر کے سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی ۔تعزیتی ریفرنس کے روح رواں سابق نگران وزیر اطلاعات عنایت اللہ خان شمالی تھے جبکہ میر محفل ریذیڈنٹ ایڈیٹر ڈیلی کے ٹو راجہ شاہ سلطان خان مقپون تھے اور میزبان کی حثیت سے سٹیج پر ترجمان صوبائی حکومت فیض اللہ فراق بھی تشریف فرما تھے ۔،اس کے علاوہ جزل سیکرٹری ن لیگ دیامر حاجی مختار حسین ،صدر تھک نیاٹ یوتھ قومی مومنٹ ضیاء اللہ تھکوی ،مولانا سجاء الحق ،نمبردار زبیر ،نمبردار براق نے بھی تعزیتی ریفرنس میں خصوصی شرکت کیا ۔

پریس کلب چلاس میں بوا سید مہدی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق نگران وزیر اطلاعات عنایت اللہ شمالی نے کہا کہ سید مہدی کا صحافتی دنیا میں ایک بہت بڑا نام تھا اور مرحوم نے اپنی صحافتی خدمات مرنے دم تک ارض شمال کی باسیوں کے بنیادی انسانی حقوق کیلئے وقف کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ سید مہدی مرحوم اور راجہ حسین خان مقپون مرحوم نے گلگت بلتستان کے بے زبان قوم کو روزنامہ کے ٹو اور نقارہ اخبار کی شکل میں زبان دی اور انہیں اخبارات نے گلگت بلتستان کی صیح معنوں میں ترجمانی کیا ہے ۔

تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے کہا کہ سید مہدی مرحوم نے گلگت بلتستان کے صحافیوں کو قلم پکڑنے کا سلیقہ سکھایا اور گلگت بلتستان کے سلگتے ہوئے مسائل کو ایوان بالا تک پہنچانے میں دن رات ایک کرکے اپنی عمر گنوا دی ۔مرحوم نے عمر کے آخری حصے تک قلم و قرطاس کا سہارا لیئے گلگت بلتستان کی آواز کو یہاں کے بنیادی مسائل کواور گلگت بلتستان کے محرومیوں کو ملک کے بڑے بڑے ایوانوں پر دستک دی ۔انہوں نے کہا کہ سید مہدی گلگت بلتستان کے توانا آواز تھے اور محروم طبقے کے ترجمان تھے،جس نے ہمیشہ سے زات پات رنگ نسل اور تعصبات سے بالا ہوکر صرف اور صرف انسانیت کی بات کی ۔انہوں نے کہا کہ سید مہدی میرے لیئے باپ کی حثیت رکھتے ہیں اُس نے مجھے کو بیٹے کہہ کر پکارا اور سچ لکھنے کی تلقین کی ،میں اُس شخص کے کردار ،اقدار ،اخلاقیات اور اُس کے مشن کو اپنا اُوڑھنا اور بچھونا بناوں گا ۔انہوں نے کہا کہ سید مہدی کے اندر انسانیت تھی اُس کا فرقہ بھی انسانیت،مذہب بھی انسانیت اور کام بھی صرف انسانیت کیلئے تھا ۔انہوں نے کہا کہ سید مہدی نے گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع دیامر کے اندر یہاں کے عوام کے ساتھ ہونے والی زیادیتوں کو بھی اُجاگر کیا اور مزاحمتی صحافت کے نئے باب کا آضافہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ سید مہدی آج ہم میں نہیں ہیں لیکن وہ زندہ ہیں وہ تاریخ میں امر ہوچکے ہیں ،وہ کتاب اور قرطاس کے زینت بن چکے ہیں وہ ہمارے فکر اور سوچ کے زینت بن چکے ہیں ۔ہم سید مہدی کے روح ،سوچ اور مشن کے ساتھ ہیں ،ہم نے وعدہ کیا تھا کہ سید مہدی نے جو مشن ہمیں دیا ہے اس کی تکمیل میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے ۔اور زندگی کے ہر موڑ اور میدان میں سید مہدی کے مشن اور سوچ کو لے کر آگے بڑھیں گے ۔سید مہدی کے اندر انسانیت شناسی تھی اور گلگت بلتستان کے محروم عوام کی آواز کو اُٹھانے کی سوچ تھی اور یہ سوچ ہم میں رچ بس چکی ہے اور ہماری سرشت کا حصہ بن چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سچ کیلئے انصاف کیلئے آواز ہمیشہ بلند کرتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ سید مہدی ایک مشفق ،مہربان اور تربیت کی یونیورسٹی تھے ۔انہوں نے کہا کہ اہلیان دیامر کی طرف سے سید مہدی کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریذیڈنٹ ایڈیٹر ڈیلی کے ٹو راجہ شاہ سلطان خان مقپون نے کہا کہ روزنامہ کے ٹو نے مشکل وقت میں دیامر کے عوام کی نمائندگی کی اور یہاں کے عوام کے بنیادی مسائل کو اُجاگر کیا ،جب 2005کی دہائی میں متاثرین ڈیم کے اوپر ظلم و زیادتی ہوئی تو اُس وقت کسی بھی میڈیا ہاوس نے متاثرین کے آواز کو ایوانوں تک نہیں پہنچایا ،روزنامہ کے ٹو اور سید مہدی نے تمام تر دباو اور پریشرز کی باوجود یہاں کے متاثرین کی آواز کو ایوانوں تک پہنچایا ۔انہوں نے کہا کہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں دیامر کے عوام کی جنہوں نے کے ٹو اخبار کی بندش پر شاہراہ قراقرم پر دھرنا دے کر اخبار کی بحالی کا مطالبہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ سید مہدی دیامر کے لوگوں سے بہت پیار اور محبت کرتے تھے ،ہم انشاء اللہ سید مہدی مرحوم کی مشن کو آگے لیکر جائیں گے ۔

ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی سرتاج خان نے کہا کہ سید مہدی میرے کلاس فیلو تھے وہ انتہائی شفیق اور عظیم انسان تھے ،صحافت کی میدان میں سید مہدی کی قربانیوں کوگلگت بلتستان کی قوم کبھی بھی فراموش نہیں کرے گی ۔

تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جزل سیکرٹری ن لیگ دیامر حاجی مختار حسین نے کہا کہ سید مہدی گلگت بلتستان کی صحافت کا درخشاں ستارہ تھے جو غروب ہوا جس کا خلا کبھی بھی پر نہیں ہوگا ،سید مہدی نے گلگت بلتستان کی صحافت کو جلا بخشی ہے ۔

تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین مولانا سجاء الحق نے کہا کہ گلگت بلتستان کی صحافتی سرزمین کو سید مہدی نے سیراب کیا ہے اس خطے کے تمام صحافی مرحوم کے نقش قدم پر چلیں اور مزاحمتی صحافت سیکھیں ۔

ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی شہاب الدین غوری نے کہا کہ سید مہدی میرے اُستاد تھے اور مزاحمتی صحافت کے علمبردار تھے ان کی صحافت دوست پالیسوں کے ہم متعرف ہیں ۔تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیامر رائٹز فورم کے سابق صدر حلیم فیاضی نے کہا کہ سید مہدی نے گلگت بلتستان میں سینکڑوں شاگرد پیدا کئے اور اور صحافت کے بنیادوں اصولوں سے نوجوان صحافیوں کو روشناس کرایا ۔

ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی جوائنٹ ایڈیٹر روزنامہ نقارہ اور سینئر صحافی عمرفاروق فاروقی نے کہا کہ سید مہدی ایک عظیم شخصیت تھی جس نے قدم قدم پر ہمارہ رہنمائی کی اور ہمیں قلم پکڑنے کے نئے نئے گر سیکھائے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سید مہدی کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر دم لیں گے وہ ایک شفیق باپ اور لافانی صحافتی کردار تھے جن کی سخت محنت اور جدو جہد کے بدولت آج اس خطے میں اُن کے سینکڑوں شاگرد ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ سید مہدی مرحوم مزاحمتی صحافت کے روشن باب تھے ۔ریفرنس سے تھور یوتھ کے مرکزی رہنما فداء اللہ اور شفیع اللہ نے بھی خطاب کیا ۔تعزیتی ریفرنس کے آخر میں مولانا سجاء الحق نے مرحوم سید مہدی شاہ کی ایصال و ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کرائی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔