گلگت بلتستان کا ادبی میلہ اورچندگزارشات

گلگت بلتستان کا ادبی میلہ اورچندگزارشات

45 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

دیرآیددرست آیدکے مصداق گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے مقامی زبان وادب کی ترویج کے لئے کوئی تو قدم اٹھا لیا۔ ورنہ ماضی میں دیگرشعبوں کی طرح مقامی ادب، زبان وثقافت کا شعبہ بھی حکمرانوں کی نظروں اوجھل رہنے کے سبب ہمیشہ سے اپنی بقا کے حوالے سے کسی مسیحا کا محتاج رہا ہے۔

خطے میں موجود قدیم ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے حکومتی سطح پرعدم پیش رفت کوشدت سے محسوس کرتے ہوئے بیسویں صدی کے آخری عشرے سے آغاخان کلچرسروس پاکستان نے گلگت بلتستان کے قدیم ثقافتی ورثے کومحفوظ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ جس کے تحت ابتدائی طورپر ہنزہ میں واقع آٹھ سوسال قدیم قلعہ بلتت کی بحالی اور تزین وآرائش کاکام شروع کیا گیا۔اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ادارہ ہذانے وقت کے ساتھ ساتھ التت ہنزہ، خپلواورشگرمیں واقع قدیم مگر خستہ حال قلعوں کی علاقائی ثقافت کے تناظرمیں بناؤ سنگھار کرکے نہ صرف علاقے کا ثقافتی ورثے کوتحفظ دیا بلکہ ہرسال قومی وبین الاقومی سیاحوں کی ایک کثیرتعدادکوان علاقوں کی جانب راغب کرانے میں بھی نمایاں کردارادا کیا۔

آج اگر گلگت بلتستان کے دیگرعلاقوں کی نسبت ہنزہ، شگر اور خپلو وغیرہ کی طرف سیاحوں کا رجحان قدرے زیادہ ہے تو اس کا کریڈیٹ آغاخان کلچرسروس کو ہی جاتا ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اس طرح کے قدیم نما قلعے اور دیگر ثقافتی اثار تو کم وبیش گلگت بلتستان کے ہرضلع میں پائے جاتے ہیں، مگر آغاخان کلچرسروس کی توجہ صرف ہنزہ، شگر اور گانچھے کی طرف کیوں؟

اس سوال کے جواب میں متعلقہ حکام ایسے منصوبوں کے اجراء کے لئے مقامی لوگوں بالخصوص ان قدیم ثقافتی اثار کے مالکانہ حقوق کے حامل افراد کی رضامندی اولین شرط بتاتے ہیں۔

قصہ مختصر یہ کہ گلگت بلتستان میں سرکاری سطح پر محکمہ سیاحت وثقافت سمیت درجن بھرشعبوں پر مشتمل ایک باضابطہ محکمہ، جس کا اپنا وزیر،سکریٹری بمعہ سٹاف اور ایک معقول بجٹ ہونے کے باوجود حکومت ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے وہ اقدامات نہیں کرسکی جوآغاخان کلچرسروس نے مختصر دورانیئے میں ممکن بنادیا۔

دوسرے نمبرپرزبان کی باری آجاتی ہے۔ زبان کا چونکہ ادب،معاشرہ اور ثقافت کے ساتھ ایک گہرہ تعلق ہے۔ اسی لئے ایک مثالی معاشرے کی تشکیل اور اس معاشرے میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے سلسلے میں زبان کی اہمیت کو کسی طورپربھی نظراندازنہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ جہاں پرکسی علاقے کی ثقافت اور ادب زیربحث ہو وہاں قومی اور بین الاقوامی زبانوں کی جگہ مقامی زبانوں کی اہمت قدرے بڑھ جاتی ہے۔

ایسی صورتحال میں ایک ذی شعور انسان دنیاوی ترقی کی بھاگ دوڑ کے چکروں سے نکل کراس سوچ میں گم ہوجاتا ہے کہ تیزرفتار ترقی کے اس دورمیں مادری زبانوں پر کیا بیت رہی ہے۔ پھرمقامی زبانوں کو زبوں حالی سے بچانے کی غرض سے کوئی حلقہ ارباب ذوق کی بنیاد ڈالنے لگتے ہیں۔ کوئی زبان وادب پر تحقیق کی ٹھان لیتے ہیں۔ کچھ زبان و ادب کے دیوانے اپنے گانوں اور غزلوں کے ذریعے نئی نسل کے اندر ایک ایسی روح پھونکنے میں مگن رہتے ہیں جس سے ان کے اندر مادری زبان کی افادیت واہمیت اور مقامی فن وادب کی ترویج کاشعور بیدارہو۔

ان تمام ترکوششوں کے باوجود گلگت بلتستان کی مقامی زبانیں ہمیشہ سے اپنی وجود کی بقاکے حوالے سے حکومتی توجہ کا محتاج رہی ہیں۔ یہ بات میں نہیں کہہ رہا بلکہ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے تعلیم وثقافت (یونیسکو) کی رپورٹس میں واضح ہے۔

ماضی میں مقامی زبان وادب کی ترقی وترویج کے سلسلے میں حکومتی سطح مناسب اقدامات کے فقدان کے سبب یہ شعبہ ترقی کے میدان میں بہت پیچھے رہ گیا۔چنانچہ اس خلاکو پرْ کرنے کے لئے بھی آخرکار این جی اوز کو ہی میدان میں کودنا پڑا۔اس مقصدکے تحت حالیہ برسوں ہاشوفاؤنڈیشن اور یوایس ایڈنے مقامی فن کاروں اور ادبی تنظیموں کے تعاون سے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں باضابطہ ادارے قائم کئے ، جہاں پرفن وادب کے ماہرین نوجوان نسل کومختلف شعبوں میں بہترین قسم کی تربیت فراہم کررہے ہیں۔

انہی این جی اوز کی کارکردگی کا اثر کہے یا دھرتی ماں کی پکار، بالآخر گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کی جانب سے بھی مقامی زبانوں کی ترقی وترویج کے سلسلے میں ایک مثبت قدم اٹھایا گیا۔جوکہ گلگت بلتستان کے ادبی و لسانی صحرا میں بارانِ رحمت کا پہلا قطرہ کی مانندہے۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں خطے کی تاریخ کا اولین ادبی ولسانی میلہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں سجایا گیا۔ جس میں ملک بھرسے ماہرین لسانیات نے مقامی زبانوں کی افادیت واہمیت اور ان زبانوں کوتعلیمی نصاب میں شامل کرنے کے حوالے سے اپنی ماہرانہ تجاویز دیئے۔

علاقے کے وسیع ترمفاد کی خاطر اٹھائے جانے والے اس اہم کاوش پر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اورمیلے کے تمام منتظمین مبارکباد کے مستحق ضرور ہیں، بشرطیکہ اس سلسلے کو ایک جامع حکمت عملی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔ یہاں پر خدشہ اس لئے ظاہرکیا جارہا ہے کہ ماضی میں اسی طرز کے دیگر شعبوں میں بہتری لانے کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کئے گئے ، یہاں تک قانون ساز اسمبلی سے قوانین بھی پاس کئے گئے، مگرکچھ عرصہ واہ واہ کے بعد وہ سب چیزیں بندفائلوں کی نظرہوگئیں ۔

لہذا حسب روایت زبان وادب کی ترویج کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے اس مبارک قدم کے ساتھ بھی یہی سلوک رواں رکھا گیا توپھراس خطے کا اللہ ہی مالک ہے۔ تاہم اس اقدام کے حوالے سے ایک امیدکی کرن یہ نظرآرہی ہے کہ اس مقصدکے لئے قائم کمیٹی میں سیاستدان کم بیوروکریٹس اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کی تعداد زیادہ ہے۔ وہ بھی ایسے ہمہ جہت بیوروکریٹس جنہیں متعلقہ شعبے کی زبوں حالی اور مادری زبانوں کی قدروقیمت کا بخوبی اندازہ ہے۔

سننے میں آرہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے قائم یہ ادبی ولسانی کمیٹی اگلے مرحلے میں مقامی زبانوں کوتعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کے لئے پرعزم ہے۔ اس بارے میں ایک حقیرسی گزارش یہ ہوگی کہ مقامی زبانوں کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے سے قبل ان زبانوں کی تاریخی حیثیت،جغرافیائی ارتقا،عالمی سطح پر زبانوں کی درجہ بندی میں حیثیت کے حوالے سے باضابطہ طورپر تحقیق کا عمل شروع کیا جائے۔ کیونکہ گلگت بلتستان کے ہرباسی کو اپنی مادری زبان پر کم وبیش عبورتو حاصل ہے مگرکسی کوبھی ان زبانوں کے وجود اور تاریخی پس منظر کا کوئی علم نہیں۔ چنانچہ مناسب تحقیق کے زریعے مقامی زبانوں کے حوالے سے پائی جانے والی شکوک وشبہات کو دورکئے بغیرانہیں تعلیمی نصاب میں شامل کرنا محض ایک فارمیلٹی ہی ثابت ہوسکتی ہے ۔

دوسری اہم بات یہ کہ گلگت بلتستان میں اگرچہ مجموعی طورپرپانچ زبانیں، شینا، بروشاسکی،بلتی، کھواراور وخی کثرت سے بولی جاتی ہیں، مگران میں سے بعض زبانوں کی بولیاں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ آپ ان میں سے بروشاسکی ہی کی مثال لیجئے، جوکہ یاسین، ہنزہ اور نگرمیں مختلف بولیوں (ڈائیلکٹس )کی صورت میں کثرت سے بولی جاتی ہے ، مگر یہ بولیاں الفاظ اور جملوں کی ادائیگی میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔

اسی طرح شینا زبان کے اندر بھی کچھ اس طرح کی لسانی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ مثلاً پونیال کی شینا اور استور یا دیامرکی شینا میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اب پونیال کے سکولوں میں استوری شینا یا نگرکے سکولوں میں یاسین والی بروشاسکی پرمشتمل نصاب متعارف کرائیں گے تو یہ ان بچوں کو سمجھنے میں انگریزی اور چائنیز سے بھی مشکل ثابت ہونگیں۔جس کے نتیجے میں علاقے کے اندر مختلف لسانی گروہوں کے مابین مادری زبانوں کی حاکمیت پر تنازعات جنم لے سکتے ہیں جن کا حل تلاش کرنے تک کااس ادبی ولسانی کمیٹی کااصل مقصدہی فوت ہوجائیگا۔

اس ضمن میں کمیٹی کے اندرمذکورہ بالا زبانوں کی مختلف بولیو ں کے ماہرین کی شمولیت اور لسانی پیچیدگیوں کے حوالے سے باہم مشاورت اور تحقیق سے کام لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments