دیامر پسماندہ کیوں؟

دیامر پسماندہ کیوں؟

140 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہمارے وزراء کرام فرماتے ہیں کہ وزیر اعلی نے دیامر کیلے کچھ نہیں کیا پھر بھی ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ بلتستان ڈویژن میں بے تحاشہ کام ہونے کے باوجود عدم اعتماد کی باتیں چل رہی ہیں۔ ظاہر ہے بلتستان ڈویژن کے سیاستدانوں کو اپنی عوام کی فکر ہے تب ہی تو محض ڈھائی سال کے قلیل عرصے میں اتنے بڑے پروجیکٹس لینے میں کا میاب ہوگئے۔ سکردو روڈ، بلتستان یو نیورسٹی، شگر اور کھرمنگ دو نئے اضلاع سمیت بے شمار چھوٹے بڑے ترقیاتی منصوبے، یہ سب بلتستان کے لیگی سیاستدانوں کی بیدار مغزی اور عوام دوستی کا منہ بولتاثبوت ہے جبکہ ادھر دیامر کے سیاستدان وہی قدیم روایات پر قائم و دائم ہیں۔

دنیا سمٹ کر اتنی جدید ہوگئی ہے کہ تمام شعبوں میں سالوں کا سفر لمحوں میں طے ہوتا ہے نت نئے سائنسی ایجادات نے انسان کو اتنا قریب کیا ہے کہ دل کی بھید کے علاوہ سب کچھ جاننے کی صلاحیت آگئی ہے۔ سمندر کی گہرائی، زمین کی وسعت پہاڑوں کی بلندی سے آگے نکل کر اب خلاؤں کو مسخر کرنے کی تگ ودو ہورہی ہے۔ انسانی تخلیق سیاروں پر تحقیقاتی اور تجر باتی عمل میں مصروف ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ کچھ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ آئندہ سو سالوں میں انسان ایک بسیرا خلا ء میں بھی دریافت کرے گا۔ ظاہر ہے تب تو ا نسانوں کی دنیا سے سیاروں کی طرف نقل مکانی ہوگی۔ وہاں پر کیا طرز معاشرت ہوگی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ جمہوریت ہوگی یا آمریت، پارلیمانی یا صدارتی نظام، شہنشاہت یا پھر چوھدراہٹ جو بھی ہوگا اْس وقت دیکھا جائے گا مگر ایک بات طے ہے کہ کرپشن، چوری چکاری، لوٹ مار، اقر با پروری، بدعنوانی، ظلم و جبر ، دوسروں کے حقوق پر شب خون مارنے کا کاروبار وہاں بھی خوب چلے گا کیوں کہ انسان یہاں سے جائینگے اور اپنے ساتھ یہاں کی حوس و لت کو بھی لیکر جائینگے۔ جس طرح اللہ تعالی کی اس خوبصورت زمین کو آلودہ کیا ہے اسی طرح فضاء بھی انسانوں کی شر سے لبریز ہو جائے گا۔

میں تو کہتا ہوں کہ اس تحقیقاتی عمل کو ہی روک دیا جائے تو بہتر کیونکہ دیامر والوں کو وہاں بھی کچھ نہیں ملنا۔ جس طرح یہاں نظر انداز ہے یہ سلسلہ وہاں بھی جاری رہے گا۔ دنیا کی اب تک حاصل شدہ جدت میں دیامر کے حصہ میں صرف مایوسی ہی آئی ہے۔ اس تیز رفتار جدید دور میں بھی بنیادی انسانی ضروریات سے آبادی کا بیشتر حصہ محروم ہے۔ بجلی، پانی، تعلیم ، صحت کے شعبے میں دیکھیں تو گزشتہ پانچ سالوں میں حکومتی یا انتظامی کار کردگی انتہائی ما یوس کن رہی ہے۔ حکمرانوں کی عدم دلچسپی کا عالم یہ ہے کہ ایک قراقرم یو نیورسٹی کا کیمپس دینے کیلے تیار نہیں ہے۔ یہ کمبخت ایک کیمپس نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں طلبہ ملک کے طول و عرض میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور دوسری طرف ایک انتظامی تقسیم جو اشد ضرورت ہے وہ ابھی تک عمل میں نہیں لا یا گیا ہے۔ ان دو معاملات کو لیکر نوجوان نسل کے اندر سخت مایوسی کے ساتھ ساتھ احساس کمتری کا رجحان بھی پیدا ہوا ہے۔ چونکہ یہ دو نوں چیزیں یعنی انتظامی تقسیم اور تعلیمی سہولیات صوبے کے دوسرے حصوں کو مل چکا ہے۔ بلتستان ڈویژں میں دو نئے اضلاع بنائے گئے، گلگت ڈویژن میں ہنزہ اور نگر دو اضلاع بنے جبکہ دیامر میں انتہائی ضرورت کے باوجود داریل تا نگیر کو ضلع نہیں بنا یا گیا۔ حالانکہ ضلع کیلے در کار آبادی اور وسائل موجود ہے۔ دوسری طرف تعلیمی لحا ظ سے سب سےزیادہ ضرورت دیامر کی ہے۔ اب جہاں ضرورت ہے وہاں پر سرکاری وسائل کے دروازے بند ہوں اور کہیں پر نوازشات کی بارش ہو تو ظاہر ہے احساس محرومی پیدا ہوگی اور دیامر میں جنم لینے والی اس احساس محرومی کے پیچھے مقامی سیاستدانوں سے زیادہ بے شعور عوام کا ہاتھ ہے۔ کیو نکہ عوام جس کو منتخب کرتی ہے اس سے کام لینا نہیں جانتی ہے۔ ہر بندہ اپنے ذاتی معاملات لیکر پریشان ہے۔ اجتماعی تو کوئی معاملہ یہاں ہے ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ووٹ شخصیات کو ملتے ، نظریات کا کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس وجہ سے روز بروز معاشرہ پسماندگی کی طرف جا رہا ہے۔ ایک متخب ممبر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ عوامی مسائل اور مطالبات کو مقتدر حلقوں تک پہنچائے مگر جیسا دیس ویسا بیس۔ جس طرح عوام کی اجتماعی سوچ نہیں ہے اسطرح نمائندے بھی انفرادیت پر ہی یقین رکھتے ہیں۔ اگر عوام ایک گریڈ ون کی نوکری کے پیچھے پڑنے کے بجائے اجتماعی مسائل کی طرف نمائندوں کا توجہ دلائے تو یقیناً معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔ جب تک عوام میں شعور بیدار نہیں ہوتا تب تک دیامر کے مسائل جوں کے توں رہینگے۔ عوام کو اپنے حقوق اورذمہ داریوں کا ادراک نہیں رہے گا تب تک دنیا کی جدت کا جھو نکا دیامر پر پڑنے والا نہیں ہے۔ عوام کو شعوری طور پر بیدار ہو نا پڑے گا۔ اس کیلے علم ضروری ہے لیکن علم کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ جب تک دیامر پر علم کی روشنی نہیں پڑے گی تب تک دیامر پسماندہ رہے گا اور جدید دنیاکے ثمرات اور جدت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author