ضلع کوہستان سے شائع ہونے والی پہلی کتاب کی تقریبِ رونمائی، مشاعرے کا بھی اہتمام کیا گیا

کوہستان(نامہ نگار)ڈسٹرکٹ کونسل ہال کمیلہ میں کوہستان سے شائع ہونے والی پہلی کتاب’’ کہاں کھڑا ہے آج قائد کا پاکستان‘‘ کی تقریب رونمائی اور محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔جس میں ضلع بھر سے سماجی کارکنوں ، علماء اورسرکاری عہدیداران نے شرکت کی ۔منگل کے روز کوہستان یونین آف جرنلسٹ کے زیر اہتمام منعقدہ ہ پروقار تقریب میں ڈپٹی کمشنر کوہستان محمد آصف مہمان خصوصی تھے جبکہ اُن کے ہمراہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سکندر جہانگیر ، ٹی ایم او داسو اویس خان اور ایس ایچ او کمیلہ نصیر الدین بابر بھی موجود تھے ۔ کتاب کی رونمائی اور محفل مشاعرہ کی تقریب کے آغازمیں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سکرٹری کوہستان یونین آف جرنلسٹ شمس الرحمن شمسؔ نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب صحافیوں کی دیرینہ محنت کا نتیجہ ہے اور ہم نے اپنے وسائل سے کوہستان کے پہاڑوں میں ٹیلنٹ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ بھرپورہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی صلے اور ستائش کی ضرورت نہیں صحت مند تقریبات سے عوامی بھائی چارگی اور ٹیلنٹ کو فروغ دینا مقصود ہے ۔ تقریب سے مقررین میں سے ماہ نور خان، ضیا الرحمن ، طالب جان ، محمد منظور، مولوی ولی اللہ ، مولانا سعیدالرحمن ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کوہستان کی سرزمین سے شائع ہونے والی پہلی کتاب اور مصنف کی تعریف کی اور ہر ممکن مدد کا یقین دلایا اور اسے کوہستان کی ترقی کیلئے سنگ میل قرار دیا۔ مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر کوہستان محمد آصف نے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُسے اچھی کاوش قراردیااور معلوماتی پلیٹ فارم کی تیاری پر مسرت کا اظہار کیا ۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم ایسی سرگرمیوں کو ضلع بھر میں سپورٹ کرینگے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوے مصنف کتاب’’ کہاں کھڑا ہے آج قائد کا پاکستان‘‘ نیازی مسکراہٹ نے کہا کہ اس کتا ب کا مقصد لوگوں کے علم میں اضافہ کرنا اور پاکستانیت کے جذبے کو اُبھارناہے ۔کتاب کی تقریب رونمائی کے بعد محفل مشاعرہ کا اہتمام ہواجہاں شعراء میں سے مظفر خان صحرا، عبدالغفار فراقؔ ، منظورکوہستانیؔ ، طالب جان اباسندھیؔ و دیگر نے اپنے کلام پیش کئے جن پر ہال تالیوں سے گونجتارہا۔ تقریب کی منتطمین میں زاہدحسین، سیف اللہ ساگر، عبدالمالک ساگر، محمد سلیم ، ایس خان سامی و دیگر شامل تھے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments