میں کون ہوں!!

میں کون ہوں!!

36 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 گل نیاب شاہ کیسر

 کچھ دن پہلے میں نے ایک غزل تحریر کی جس میں سے ایک شعر آپ کی نظر کرتا ہوں. جو یوں ہے

اس دور میں وہ شخص بھی ہے معترض بنا
جو گزرا تک نہیں ہے کبھی اپنی گلی سے

میری اس کم عرصہ حیات میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ میں نے شعر لکھا ہو اور خود اس کو سمجھنے کی کوشش کی ہو. یہ وہ شعر ہے جس نے میری کئی راتوں کی نیندیں حرام کی ہے۔ میں نے جب خود اس کی تشریح کرنے کی کوشش کی تو میرے فہم نے اس کی وضاحت کچھ اس طرح سے دیا. کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہے جو اپنی وجود سے دور تک آشنا نہیں اور دوسروں کے معاملات میں بےوجہ ٹپکنے میں بہت دلچسی رکھتے ہیں. اور یہ کہ وہ اپنی حثییت سے نالا اور اپنی اردگرد سے بے خبر یعنی اپنی گلی کی ان کو خبر تک نہیں ہوتی. یہ بات کہنے میں مجھے کوئی دقت نہیں ہوگی کہ باسیان گلگت بلتستان کا شمار بھی انھیں لوگوں میں ہوتا ہیں. یہ وہ بد قسمت لوگ ہیں جن کو موہنجوڑارو اور حراپا کی تاریخ بخوبی معلوم ہے, آزادی پاکستان کے ہیروز کی بچوں کی حد تک علم رکھتے ہیں, پاکستان کی دیگر جگہوں میں منائی جانے والی تہوار جس میں بسند, یوم اجرک وغیرہ کا بھی وصیع علم رکھتے ہیں. تمام زبانوں سے بھی اگاہی, پوشاک سے لے کر رہن سہن تک ہر شعبے کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں.

ان سب باتوں کے بعد آج کے گلگت بلتستان کا ہر نوجوان کے لب پر یہی الفاظ ہیں اور چہرے پر یہی پریشانی کہ “آخر میں کون ہوں” .میرا سوال گلگت بلتستان میں ستر سالوں سے رائج نصاب کے بارے میں ہے کہ آخر کیوں ہمیں اس قدر مہروم رکھا جا رہا ہیں. آج مجھے یہ خبر نہیں کہ مرزا حسن خان کون تھا, شیر علی انچن اور صفی لللہ کون تھے. اج مجھے یہ خبر نہیں کہ “گنانی” کیا ہے, مجھے یہ خبر نہیں کہ “بو فوؤ” کیا ہے اس میں کون سے کام کس مناسبت سے ہوتے ہیں. آج مجھے خبر نہیں کہ میرے کس پہاڑ میں حیرہ ہے اور کس میں چاندی? مجھے خبر نہیں کہ میرے شمال میں کون ہے اور جنوب میں کون.

اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ 2000 ء سے پہلے یہاں کے لوگ سیاسی طور پر مضبوط نہیں ہیں لیکن دو ہزار کے بعد بھی سترہ سال ہو چکے ہیں اور کسی بھی گلگت بلتستان کے مخلص سپوت نے اس معاملے پر غور نہیں کیا. جس کی وجہ سے ہم دیار غیر سے تو بہت کچھ سیکھ گئے مگر اپنے گھر سے مکمل طور پر اجنبی ہو گئے. جس کی وجہ سے بیرون سازشوں خوب اپنا روپ جی بی پر جمایا اور حق حاکمیت سے لے کر معاش تک سے محروم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی. اور جب ہم پاکستان کے دیگر صوبوں میں گلگتی سمجھ کر ہماری تاریخ پوچھتے ہے تو سوائے تاروں کی گنتی کے ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہوتا. اسکول ہی وہ واحد درس گاہ ہے جہاں بچوں کو ان کے شناخت سے واقف کرایا جاتا ہے جس کے بعد مستقبل کا تعین کیا جاتا ہے. مگر باسیان جی بی اس سے بھی محروم ہیں. مختصر یہ کہ میں گلگت بلتستان کا باسی خود سے نا اشنا ہوں.

ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرتی علوم کو اس طرح سے ترتیب دیا جائے کہ گھر والے کو اپنے درودیوار کا کم از کم ادراک ہو پھر جا کے وہ دوسروں کی گلی میں بات کر سکے گا.

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔