کھرمنگ: دوسال سے زائد کا عرصہ گز رجانے کے باوجود ضلعی ہیڈ کوارٹر کا فیصلہ اور تعمیرات کا کام شروع نہ سکا

کھرمنگ (سرور حسین سکندر) دوسال سے زائد کا عرصہ گز رجانے کے باوجود ضلعی ہیڈ کوارٹر کا فیصلہ اور تعمیرات کا کام شروع نہ ہونے کی وجہ سے ضلع کی عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے چہ مگوئیوں اور پروپیگنڈوں سے پریشان لوگوں نے حکومت کی طرف سے نوزائیدہ ضلع کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت کی طرفسے نئے ضلع کو ختم کرکے کسی اور علاقے کو ضلع بنانے کی ساز ش کررہی ہے یہی وجہ کہ ضلعی ہیڈ کوارٹر کے مسئلے کو سلجھانے کے بجائے آئے دن الجھا رہے ہیں جبکہ اس میں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں ڈپٹی کمشنر آفس اور ہاوٗس کا ٹینڈر ہونے کے باوجود تعمیرات میں تاخیر اس ساز ش کی کڑی ہے لوگوں نے مزید کہا کہ ضلعی ہیڈ کوارٹر کے معاملے میں کمشنر بلتستان، ڈپٹی کمشنر کھرمنگ سمیت وزیر اطلاعات اقبال حسن بے بس نظر آرہے ہیں اس معاملے میں ان کا بس نہیں چل رہا ہے سازشی عناصر ضلع کھرمنگ کو ضلع بنتے نہیں دیکھنا چاہتے ہیں ان میں مبینہ طور پر حکمران جماعت کے کئی اہم شخصیات شامل ہیں جس کے سامنے مسلم لیگ کھرمنگ کے عہدہ داران صدر سمیت بے بس ہے دیگر نوزائیدہ ضلعوں میں ضلعی دفاتر کی تعمیرات کا کام مکمل ہونے والا ہے لیکن ضلع کھرمنگ میں حکومت کی طرفسے تاخیری حربے نہیں معلوم کس کو خوش کرنے کے لئے ہیں اہل علاقہ نے کہا کہ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی طرفسے کھرمنگ کی عوام کو ضلع کا تخفہ دیا تھالیکن ابھی تک ضلع کا 30 فیصد ثمر بھی عوام کو نہیں مل سکا ہے ضلع میں ضلعی انتظامیہ کا رٹ نہیں ہے کیونکہ کئی محکموں نے ضلع میں آنے سے صاف صاف انکار کیا ہے تو کچھ محکمے سیٹ اپ مکمل ہونے کے باوجود ضلع میں آنا کسر شان سمجھتے ہیں ۔ اہل علاقہ نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی عوام کو جلد ضلع کی ثمرات سے مستفید کرانے کے لئے فیصلہ کن اقدامات کریں اور سازشی عناصرکو بے نقاب ، ہیڈ کوارٹر کا مسئلہ حل کرکے جلد تعمیرات کا کام شروع کرانے کے احکامات جاری کریں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments