عربی زبان اہمیت اور عشاق العربیہ کی کاوشیں

عربی زبان اہمیت اور عشاق العربیہ کی کاوشیں

22 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: امیرجان حقانیؔ

عربی زبان عالم اسلام کی مشترکہ علمی و ادبی اور ثقافتی زبان ہونے کے ساتھ فی زمانہ ابلاغی و سفارتی زبان کا درجہ بھی پاچکی ہے۔اگر کسی زبان کے اندر عالمی زبان بننے کی صلاحیت ہے تو وہ فقط عربی زبان ہی ہے۔اسلامی دنیا کا سب سے زیادہ علمی ورثہ اور بنیادی مراجع و مصادر بھی عربی زبان میں ہی ہیں۔عربی زبان کی تدریسی و تحقیقی اہمیت اور موجودہ دور میں اس کی ابلاغی و سفارتی اہمیت سے بھی انکار کرنا محال ہے۔علمی، تحقیقی، ادبی، سفارتی، ابلاغی اور صحافتی و قانونی، تجارتی اور عوامی اعتبار سے دنیا بھر کی زبانوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے علاوہ چارہ نہیں کہ سوائے عربی زبان کے کسی زبان کو یہ مرکزیت حاصل نہیں کہ وہ ’’ام الالسنہ‘‘ بن جائے۔

عربی زبان ہی ہے جو علوم کے خزائن کی مرکزی کنجی ہے۔عربی زبان ہی کے ذریعے تمام انبیاء و حکماء اور صالحین کے علوم وفنون اور ان کے احکام و تعلیمات تک درست طریقے سے رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔قرآن جو آئینِ اسلامی کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ حدیث اس اسلامی آئین کی سب سے بہترین اور غیرمبہم شرح ہے اور فقہاء کا اجتہادی کام اس متن و شرح کی مزید توضیح و تشریح ہے اور پھر کروڈوں کتابوں کے اندر علم و حکمت کی جو موتیاں ہیں وہ سب کی سب عربی زبان میں ہیں۔ اور آج کے دور میں دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اہل عرب پر مشتمل ہے۔ اور غیر عرب ممالک بالخصوص مغربی ممالک میں بھی عربیت اور اس کے علوم کو سنجیدگی سے پڑھایا جاتا ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ عربی زبان ہماری دنیاوی اور اُخروی مجبور ی ہے۔اس کے لیے مملکت عزیز میں اس کے فروغ اور اس کے ترویج کے لیے بہترین محنت کی ضرورت ہے۔ آئین پاکستان کا بھی تقاضہ ہے کہ عربی زبان کی تعلیم و فروغ کو یقینی بنایا جائے۔اور اس کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

گزشتہ دنوں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ٹیچر کلب میں ’’جمیعۃ عشاق العربیہ ‘‘کے زیر اہتمام ایک ادبی نشست کا انعقاد کیا گیاجس میں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا۔عشاق العربیہ کی یہ چھٹی نشست تھی۔ جس کے مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر محمد منیروائس پریزیڈنٹ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد تھے جبکہ صدر مجلس ،ڈاکٹر محمد بشیر ڈین عربک فیکلٹی تھے۔اس مختصر سی محفل میں عربی زبان کے نامور اساتذہ و پروفیسروں نے شرکت کی اور اپنے خطبات سے سامعین کو محظوظ کیا۔جن حضرات نے خصوصیت کے ساتھ عربی زبان کی ترویج و تنفیذ اور مملکت خدادا پاکستان کے تمام دینی و عصری تعلیمی اداروں کے لیے عربی کی ضرورت و اہمیت پر جو گفتگو کی بہت ہی اہمیت کے حامل تھی۔

اسلام آباد میں قائم سعودی سکول کے پرنسپل ڈاکٹر مبارک، میرے پیارے استاد محتر م ڈاکٹر لشیخ ولی خان المظفرؔ نے بھی عربی زبان کے متعلق اپنی ٹکسالی عربی میں ایک شاندار خطبہ دیا۔نمل یونیورسٹی میں برونائی دارالسلام کے یونیورسٹی سے تشریف لانے والے ڈاکٹر مصطفی السواحلی بھی اس نشست میں خصوصی دعوت پر تشریف لائے اور اپنے خطبے سے اہل علم وادب کو نوازا۔اسلامک یونیورسٹی کے عربک فیکلٹی کے اساتذہ، مصری اساتذہ، شعرا ء دیگر عربی ادب اور عربی زبان کے دلدادے اس محفل میں شریک تھے۔ برادرم جنید انوار نے لاہور سے اس محفل کو جوائن کیا تھا جبکہ راقم الحروف کو بھی اس محفل سے گفتگو کرنی تھی لیکن گفتگو سے معذورت کیا۔ البتہ جمعیۃ عشاق العربیہ کے منتظمین نے ہماری عربی سے محبت و مودت کی وجہ سے ہمیں ایک شیلڈ بھی عنایت کیا جو کہ ہم نے ڈاکٹر منیر، ڈاکٹرمحمد بشیر اور ڈاکٹر مبارک کے ہاتھوں وصول کیا۔الحمدللہ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ سال۲۰۱۷ ء کو گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جامعہ نصرۃ الاسلام میں مدارس واسکول کے طلبہ کے لیے ’’یک ماہی عربی کورس‘‘ کا اہتمام کیا جس سے طلبہ کو بہت فائدہ ہوا۔اس کورس میں خصوصیت کے ساتھ الطریقۃ العصریہ، العربیۃ بین یدیک اور الناشین پڑھایا۔ سب سے زیادہ تکلم پر
زور دیا۔آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے بھی جدید عربی سے متعارف کروایا۔

عشاق العربیہ کی اس پروقار ادبی محفل سے اہل علم حضرات نے عربی زبان کی اہمیت وفضیلت اور اس کے ایک جاندار علمی و تحقیقی اور عوامی و صحافتی زبان ہونے کے حوالے سے نہایت مفید گفتگو فرمائیں۔بین الاقوامی یونیورسٹی کے نائب صدر پروفیسر ڈاکٹر منیر صاحب نے پاکستانی آئین میں عربی زبان کے حوالے سے جو شقیں موجود ہیں ان کی نشاندہی کی اور کہا کہ عربی زبان کی حفاظت و ترویج ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے۔استاد محترم الدکتور الشیخ ولی خان المظفرؔ نے اپنے مفصل خطبے میں کہا کہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب جانے والے تمام احباب کے لیے عربی زبان سیکھانے کے مختصر کورسز کا اہتمام کریں۔ جو بھی عربی ممالک میں جائے گا ان کے لیے یہ قانون بنایا جائے کہ وہ وہاں ملازمت کے لیے جانے سے پہلے عربی شارٹ کورسز کے ذریعے عربی سکھیں جیسا کہ انگریزی ممالک میں جانے سے پہلے ان کی زبانیں سکھائی جاتی ہیں۔ چین اورآسٹریلیا وغیرہ میں ان کو ویزہ دیا جاتا ہے جو ان کی زبانیں سیکھ چکے ہیں، تو عرب سفارت خانوں کو بھی اس چیز کا خصوصیت کے ساتھ اہتمام کرنا چاہیے۔

دیگر مقررین نے بھی موضوع ’’ اللغۃ العربیہ والتقنیات الحدیثہ‘‘ یعنی عربی زبان اور جدید ٹیکنالوجی ، پربڑے مفصل و زبردست خطبات ارشاد کیے۔انہوں نے جدید دور میں ٹیکنالوجی کی اہمیت اور اس کے ذریعے عربی کیسے سیکھی جاسکتی ہے۔ موبائل ، آئی فون، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے عربی سیکھنے اور اس کو رواج دینے کی بھی بات کی اور اس کی سہولتوں اور پھر آج کے دور میں عربی علوم کے حوالے سے تیار کیے جانے والے سوفٹ ویئرز، عربی چینل، ویب سائٹ اور مجلات پر بھی گفتگو کی۔اور واٹس آپ ، ٹیوٹر اور مسینجر، فیس بک اور سوشل میڈیا کے ذرائع وغیرہ پر ہونے والے مباحثات، مناقشات، مناظرات اور مکالمات پر بھی گفتگو کی اور افادیت کو اجاگر کیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔