آزادی، ہم اور تاریخ

آزادی، ہم اور تاریخ

23 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شرافت علی میر

ہرملک اور قوم کی اپنی ایک تاریخ ہے اور انھوں نے اپنے تاریخ سے جڑی چیزوں کو محفوظ کر کے رکھا ہے اور جن لوگوں نے ان کی آزادی کے لیے تحریک چلائی ان کے نام سے یونیورسٹی ، کالج اور ہسپتال جیسے ادارے منسوب ہے اور ان کوہمیشہ یاد کیا جاتا ہے ۔

لیکن گلگت بلتستان کی تاریخ کے ساتھ ہم نے شروع دن سے نہ صرف ناانصافی کیا بلکہ ظلم کیا گلگت بلتستان کی تاریخ جہد مسلسل اور قربانیوں سے بھری ہے ہمارے آباو اجداد ، ہمارے بزرگوں نے بے سروسامانی کے باوجود ڈوگرہ راج کو نہ صرف شکست دے دیا بلکہ گلگت بلتستان سے ان کا صفایا کرایا۔

آج ہم نے گلگت بلتستان کے ان ہیروز کو فراموش کیا ہے ان کے نام سے کوئی کالج، یونیورسٹی تو دور کی بات کوئی پرائمری سکول یا گلی بھی منسوب نہیں ہے ۔ہاں البتہ ان کے نام سے ہم نے مارکیٹ بنایا ہے اور جوتے اور لنڈے کی دوکان  کو ہم نے ان کے نام سےمنسوب کیا ہے  یا ایسے دوکان کو ان کے نام سے منسوب کیا ہے جن کےہاں ناقص ، غیرمعیاری اور دونمبر کی چیزیں بھیکتی ہے ۔

 گلگت چنار باغ میں شہیدوں اور غازیوں کے مزار اور یادگار بھی عام لوگوں کو پتہ نہیں ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ اس کو عام لوگوں کے لیے کھول دیا جائے تاکہ لوگ شہیدوں کو یاد بھی کرے اور ان کے روحوں کے لیے دعا بھی کرے۔

کارگل جنگ کے دوران گراۓ جانے والا انڈین ہیلی  گلگت  میں جوٹیال میں ایک جگہ نصب کیا ہے اور اب اس جگہ کا نام بھی ہیلی چوک رکھا گیا ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس کی گھنسارا سنگھ کے زیر استعمال مکان یعنی اس وقت کے گلگت بلتستان کے گورنر ہاوس جہاں پر گنسارا سنگھ نے ہتھیار ڈالا تھا ۔اس کو ہم لوگوں نے مسمار کرکے مارکیٹ بنایا اور عین اسی جگہ پر ایک جوتے کی دکان ہے،  اور ایک ٹائم پیس کی دوکان۔ شائد جوتے کا مطلب ہماری تاریخ کی تذلیل ہے اور ٹائم پیس کی کا مطلب یہ ہے کہ وقت تبدیل ہو چکا ہے۔

ہمارے اسکولوں کے نام بھی ہائی سکول نمبر 1 اور ہائی سکول نمبر 2 ہے اور اب ہائی سکول نمبر1  کا نام تندیل کرکے اس کا نام سرسیداحمد خان ماڈل سکول رکھا گیا ہے سیرسید صاحب ہمارے لیے قابل احتنرام ہے لیکن گلگت بلتستان کے سرسید وہ لوگ ہیں جنھوں سے ڈوگرہ راج سے ہمیں آزادی دلایا۔ ان کو ہم نے فراموش کیا ہے ۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم سٹی پارک یا چنار باغ کی بجائے آزادی پارک بناتے پارک کے اندر ایک میوزیم بناتے جہاں اپنے تاریخ سے جڑی چیزوں کو رکھتے اور ان ہیروز کی مجسمہ بناتے جنہوں نے ہمیں غلامی سے نجات دلایا اور ہمیں آزادی دلایا۔

سچی بات تو یہ ہے کہ ہم لوگوں نے اپنے ہیروز کو نہ صرف فراموش کیا ہے بلکہ جوتوں کی دوکان پہ ان کا نام لکھ کر ان کی تذلیل کی ہے ان کے نام سے کوئی ادارہ یا کوئی شاہراہ منسوب نہیں ہے اور نہ ہی نصاب کی کتابوں میں ان کا ذکر ملتا ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔