میرا نگر: گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اور نئے اضلاع میں مسائل

میرا نگر: گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اور نئے اضلاع میں مسائل

26 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : اقبال حسین راجوا

زیر نظر عنوان سے راقم الحروف نے کئی کالم تحریر کئے ہیں لیکن کبھی بھی صوبائی حکومت کی کار کردگی سے متعلق سوچ کر اور معلومات جمع کر کے کوئی باقاعدہ کالم تحریر نہیں کیا ہے۔ دوستوں کا مجھ سے اکثر گلہ رہا ہے کہ میں اپنے کالموں میں صوبائی حکومت کی کار کردگی سے متعلق کوئی بات نہیں کرتا ہوں ۔ آج بہت عرصے بعد کسی عوامی محفل میں کچھ دیر بیٹھنے بلکہ محفل میں شامل ہو کر سٹیج سیکریٹری کی دعوت پر اظہار خیال کا موقع ملا ۔ اگرچہ ایک لکھاری ہونے کے ناطے بندہء حقیر کو الفاظ ایک خوبصورت لڑی میں پرو کر فن خطابت کا کوئی تجربہ تو نہیں لیکن اچانک خیال آیا کہ بحر حال اپنی معلومات کو تجزیاتی انداز میں سامعین تک اپنے بساط کے مطابق اچھے الفاظ میں گوشگذار کرنے کی کوشش کی جائے، یہی سوچ کر اللہ کے نام سے ابتداء کی اور سامعین کے دلچسپی کو دیکھتے ہوئے میں نے اس کی ابتداء اپنے ضلع اور اپنے ضلع کے ساتھ قائم شدہ دیگر تین اضلاع میں مسائل کے حل کے لئے صوبائی حکومت کی کار کردگی کے حوالے سے بات کرنا زیادہ ہی مناسب جانا۔ اور یوں گویا ہوا :

جناب والا، ضلع نگر اور اس کے ساتھ اعلان کردہ دیگر تین اضلاع،ضلع ہنزہ،ضلع کھرمنگ اور ضلع شگر میں عوامی مسائل کے حل میں ضلعی اداروں کی کار کردگی کےبارے میں بات کرنا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں کیوں کہ تینوں اضلاع کے مسائل ایک ہی طرح کے ہیں جن کا براہ راست تعلق عوامی زندگی سے ہے ۔ ضلع نگر کی آبادی حالیہ مردم شماری کے مطابق 75ہزار ہے اور یہ آبادی ضلع کے تین تحصیلوں میں مقیم ہے ۔ ضلع نگر CPEC کا دھانہ ہونے کی وجہ سے سرحدی ضلع ہنزہ سمیت دوست ملک چین دونوں کے لئے داخل ہونے کے لئے اکلوتی اور لازمی رستہ ہے۔

ضلع نگر کی عوامی اور عوامی سطح کی سب سے بڑی تنظیم حسینیہ سپریم کونسل نگر کا ہیڈ کوارٹر سے متعلق متفقہ فیصلے کے بعد سب سے پہلے حکومت کی طرف سے بھی نگر کے ضلعی ہیڈ کوارٹر کا اسی مقام پر ہی قیام کا فیصلہ کیاگیا ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کچھ لوگ اور تعلیم یافتہ تجزیہ کار جن کا تعلق ضلع نگر سے نہیں ہے کا خیال تھا کہ ضلع نگر کے ہیڈ کوارٹر پر نگر کی عوام ضلع استور کی طرح آپس میں دست و گریباں ہونگے اور جھگڑا ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں لیکن ایسے افراد کا خیال غلط ہونے کے ساتھ ایسی خواہشات رکھنے والے افراد کو بھی اس وقت شدید مایوسی ہو گئی جب عوامی متفقہ فیصلے کے ساتھ حکومتی جانب سے فیصلہ بھی عوامی فیصلے کی حمایت میں آیا ۔ مارشل قوم کہلانے والی نگر قوم ضلعی ہید کوارٹر کا فیصلہ حسینیہ سپریم کونسل نگر کی کئی اہم میٹنگوں کے بعد متفقہ طور پر ہریسپو داس میں قائم کرنے کا فیصلہ دے دیا ۔ جسے میرے خیال میں نگر کی عوام بالخصوص حسینیہ سپریم کونسل نگر کے معزز ممبران کا تاریخی اور بہترین فیصلہ کہنا ہی مناسب ہوگا۔

اس فیصلے کے بعد نگر کی عوام کو ایک امید کی کرن نظر آئی کہ بہت جلد حکومتی اہلکار بھی نگر کے ضلعی سیٹ اپ کے لئے یقینی اور فوری اقدامات کریں گے۔ لیکن بد قسمتی سے ایسا ہونا تو درکنار اس ضلع کے لئے کسی خاص منصوبہ بندی سے افتتاحی پروگرام بھی آج تک منعقد نہیں کیا جا سکا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الر حمن ضلعی ہیڈ کوارٹر افتتاح کی غرض سے چند لمحوں کے لئے ضلع نگر کے نو تجویذ کردہ جگہ ہریسپو داس آئے تو ضرور لیکن فوری طور پر ہمسایہ ضلع ہنزہ میں کسی پل کے افتتاحی تقریب کا بہانہ کر کے ضلع نگر کے ہیڈ کوارٹر سے چند قدم آگے منعقدہ ایک پروگرام میں چلے گئے۔ اسی پرو گرام میں اپنی خطاب میں انہوں نے کہا کہ میں نے ضلع نگر اور دیامر کو فوج کے حوالے کیا ہے اور پیسے بھی فوج کو دئے ہیں۔ بحر حال ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان ان کے سیاسی قائد میاں محمد نواز شریف کے اعلان کردہ ضلع نگر کے افتتاح کا بڑا پروگرام کرتے اور ضمناً ہنزہ خضر آباد پل کا افتتاح بھی اسی پروگرام کے بعد کرنے چلے جاتے لیکن یہاں معاملہ الٹا تھا۔ کسی ایک پل کے افتتاح کے دوران وقفے کے طور پر ضلع نگر کے ہیڈ کوارٹر کے افتتاح کی رسم پوری کرائی گئی یعنی اس کا مطلب نگر کے عوام کو یہ پیغام دیا گیا کہ ضلع نگر عوام نگر کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی ایک کی علحیدگی کے سبب از خود وجود میں آیا ہے چنانچہ ضلعی ہیڈ کوارٹر کے افتتاحی پروگرام سے زیادہ اہمیت ضلع ہنزہ کے لئے سابق دور سے زیر تعمیر ایک آر سی سی پل افتتاح کا پروگرام کو دے دیا گیا۔

حلقہ چار نگر کے اس وقت کے ایم ایل اے مرحوم محمد علی شیخ صاحب نے ضلع نگر کے اولین ڈپٹی کمشنر محمد آصف رضا سے ضلع نگر کا ہیڈ کوارٹر کا بڑا افتتاحی پروگرام نہ کرانے اور اس دن افتتاح کا برائے نام اور نہایت مختصر پروگرام کا ان کو اطلاع نہ کرنے پر بھر پور ناراضگی کا بھی اظہار کیا تھا۔

جیسے تیسے ضلع نگر میں CRBC کیمپ کے اندر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے بادل ناخواستہ ڈپٹی کمشنر دفتر کا افتتاح کر دیا اور ڈپٹی کمشنر نگر کے دفتر میں لگے فرنیچر کی تعریف کرتے ہوئے سابق ڈی سی نگر محمد آصف رضا کو اس کے اپنے کسی دفتر کے لئے بھی ویسا فرنیچر لانے کی خفیف فرمائش بھی کی۔ یوں ضلعی معاملات مسائل کے حل کے لئے عوام کو ایک سلسلہ چل تو نکلا اورعوام خوشی کے ساتھ اپنے عوامل اور مسائل کے حل کے لئے ہیڈ کوارٹر ہریسپو داس آنے جانے لگے۔ صورتحال بتدریج چلتی گئی اور اکا دکا محکمے ڈپٹی کمشنر نگر کے دیکھا دیکھی KKH توسیعی منصوبے پر کام کرنے والی چائینیز کمپنی CRBCکی متروکہ پلاسٹک نما ٹین کیمپ بکسز میں رنگ روغن کرا کے اپنے اپنے دفاتر قائم کر نے لگے جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے ۔

عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے اعتبار سے صوبائی حکومت کا ضلعی سیٹ اپ میں دلچسپی نہایت منافقانہ ہے جب تک مختلف اخبارات میں عوامی نمائندوں اور مختلف سماجی تنظیمات کی جانب سے مسائل کے حل کے بارے میں دھمکی آمیز بیانات نہیں ٓاتیں تب تک صوبائی حکومت عوام کو ضلعی سیٹ اپ سے متعلق کوئی اہم اقدامات اٹھانا گوارا نہیں کرتی ۔

ضلع نگر کو بنے ہوئے عنقریب تین سال ہونے کو آرہے ہیں لیکن ابھی تک مکمل طور پر سرکاری اداروں کا قیام عمل میں نہیں لایا جا سکا ۔ محکموں کا قیام تو دور کی بات ابھی تک انتہائی ضروری اور براہ راست عوام کے زندگی اور معاملات سے تعلق رکھنے والا محکمہء زراعت کا بھی دفتر قائم نہیں کیا جا سکا ۔ سب ڈویژن دور کے سرکاری مکانات جو کہ ضلع کے مختلف علاقوں میں ہیں کے اندر مختلف ملازمین کو محکموں کا سربراہان بنا کر کاغذ پنسل تھما کر بٹھا دیا گیا ہے ۔ ان اداروں کے برائے نام سربراہان سے جب عوامی مفاد میں ان کے دفتر کی کارکر دگی کا پوچھا جاتا ہے تو سادہ ساجواب دیا جاتا ہے کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔ ہم نے یہ کرسیاں اور ٹیبل بھی فلاں دکان سے ادھار لایا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ مشترکہ ضلع ہنزہ کے دور میں ضلع نگر میں صفائی ستھرائی پروگرام کی غرض سے ایک ٹرالی بغیر ٹریکٹر کے لائی گئی تھی اس کو بھی مسلسل چار سالوں سے ایک انچ تک بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلائی جا چکی ہے۔

اخبارات میں مسلسل بیانات اور عوامی مسائل کو اجا گر کرنے کے باوجود تین سالوں میں چند ایک دفاتر نے کام شروع کیا ہے لیکن ابھی تک ان اداروں کے لئے اپنے ضلعی دفاتر کی تعمیر اور باقاعدہ کام کرنے کے لئے درکار فنڈز نہیں د یئے جا رہے ہیں ۔

ضلع میں ابھی تک سابقہ دور کے مختلف توانائی اور سڑکوں کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ صحت اور سڑک پل کے بعض منصوبے افتتاح کے لئے سو فیصد مکمل بھی ہو چکے ہیں۔ سابقہ دور کے بعض منصوبے تو جان بوجھ کر ٹینڈر نہیں کرا ئے جا رہے ہیں کیوں کہ علاقے میں ترقی کا عمل تیز تر نہ ہو جائے اور ان منصوبوں پر اپنی حکومت کی طرف سے خصوصی گرانٹ کا تاثر دے کر افتتاح کر دیاجائے۔

وزیر اعلیٰ نے اپنے اڑھائی برسوں میں ایک بار بھی ضلع نگر کاسرکاری دورہ نہیں کیا البتہ سابقہ10 کورپ کے تفصیلی دورہ نگرکے دوران منعقدہ ایک پروگرام میں ضرور تشریف لائے تھے اور 10کورپ کے سامنے یا مقابلے میں جوش خطابت کے دوران یہ اعلان کر گئے تھے کہ حلقہ چار نگر کے اس وقت کے ان کے ہم خیال ممبر اسمبلی مرحوم محمد علی شیخ کے پیش کردہ مطالبات میں سے نصف پر اسی سال عمل در آمد ہو جائے گا لیکن حقیقت اس کے بر عکس نکل آیا ان منصوبوں میں ایک منصوبہ ضلعی ہیڈ کوارٹر کا قیام اور تمام محکموں کے دفاتر کی تعمیر کا سر فہرست تھا۔ راقم نے مرحوم محمد علی شیخ کے لئے وہ چارٹر آف ڈیمانڈ اپنی طرف سے تیار کیا تھا۔

آجکل سننے میں آرہا ہے کہ ضلع نگر کے لئے وزیر اعلیٰ کا مجوزہ دورے سے قبل چیف سیکریٹری جناب کاظم نیاز صاحب کو حلقہ چار نگر کے ایم ایل اے جاوید حسین صاحب نے دعوت دی ہے جو عنقریب نگر کے مسائل کا خود ہی اپنے آنکھوں سے ملاحظہ فرمائیں گے اور اقدامات کے لئے خصوصی احکامات بھی جاری کریں گے ۔ چیف سیکریٹری کے دورے کے بعد اس بات کی بھی امیدکی جا رہی ہے کہ مسلم لیگ ن نگر کی دعوت پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان بھی ضلع نگر کا دورہ فرمائیں گے او ر کچھہ سابقہ دور کے تکمیل شدہ منصوبوں کا افتتاح سمیت کچھ دیگراہم منصوبوں کا اپنی طرف سے بھی اعلان کریں گے۔

اب دیکھنا یہ بھی ہے کہ ان دعوں میں کتنی حقیقت ہے کیا عوامی مسائل کے حل کے لئے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے اعلان کردہ ضلع نگر کا حقیقی معنوں میں قیام اور اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لئے کوئی عملی اقدامات بھی لئے جائیں گے یا کہ اسی طرح لیت و لعل اور آج اور کل کر کے اپنے دن اور دورے پورے کئے جائیں گے۔

ضلع نگر میں عوام کی زندگی میں کوئی تبدیلی یا عوام کو کوئی سہولیات ملے یا نہ ملے پچھلے تقریباً تین سالوں سے نگر کی عوام نے یہ ضرور دیکھا کہ نگر کو ضلع بننے کے بعد سے اب تک 2ڈپٹی کمشنرز، دو اسسٹنٹ کمشنرز اور دو ایس پیز کی ترقی اور انکا تبادلہ ضرور کیا گیا ہے اور دوسری طرف ضلع میں صفائی کے نام پر دو چینگچی رکشے صوبائی ہیڈ کوارٹر گلگت سے منتقل کر کے پچھلے نو مہینوں سے برائے نام ڈسٹرکٹ کونسل کے دفتر میں کھڑے کھڑے ضرور خراب کرائے گئے ہیں ۔

نئے ملازمین کے بھرتی کے حوالے سے ٹیسٹ انٹرویو مکمل کرنے کے بعد چھہ مہینے گزر گئے لیکن آج تک تقرریاں نہیں کی جارہی ہیں۔ عوام الناس کا کہنا ہے ضلع نگر کی بعض اہم اسامیوں پر دیگر اضلاع سے کچھ صوبائی وزراء کے نور نظر افراد کو بھرتی کیا جا چکا ہے جو ضلع نگر آج تک نہیں آ سکے ہیں ۔

خیر معاملات جیسے بھی ہوں ایک حقیقت یہ بھی ہے جو کہ ایک طرح سے صوبائی حکومت کے لئے سکون واطمینان کا باعث بھی ہے وہ یہ ہے کہ دیگر نوزائیدہ اضلاع کی مانند نگر کی عوام بھی ابھی تک ضلعی سہولیات کےبارے میں زیادہ واقف ہے اور نہ ہی ایک ضلعی سیٹ اپ اور سب ڈیژنل سیٹ اپ سے ضلعی سیٹ اپ کو بڑا یا دونوں میں کوئی بڑا فرق محسوس کرتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب تک عوام کو ضلعی سطح کے کسی کام میں مشکلات و مسائل ناقابل برداشت حد تک پیش آئیں گی تب تک اسی پر گزارہ کرتے رہنے کا فارمولہ اپنائے رہیں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔