کشمیرمیں بھارتی فوج ذلت کی حدیں چھو رہی ہے

کشمیرمیں بھارتی فوج ذلت کی حدیں چھو رہی ہے

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ڈاکٹر اعزاز احسن

دشمن اگر اخلاقیات اور روایات کا پاسدار ہو تو دشمنی میں بھی سواد آتا ہے لیکن اس کے برعکس دشمن بغیرت اور روایات اور اخلاقیات سے عاری ہو تو اس سے ہر وقت چوکنا رہنا ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی وقت کوئی ایسی حرکت کر سکتا ہے جس سے انسانیت شرما جائے ،بھارت چونکہ چانکیہ کا پیرو کار ہے اس چانکیہ سے اسے صرف مکاری ،عیاری،دھوکہ اور فریب ہی ملا ہے ،اخلاقیات اور روایات سے اس کا واسطہ نہیں پڑا ہے اگر معمولی بھی اخلاقیات ہوتی تو انسانیت کو شرمانے والی حرکیتں نہیں کرتا۔خواتین ،بچے ،معذور افراد اور بزرگوں پر ہاتھ اٹھانے سے جنگ میں اسلام نے سختی سے منع کیا ہے اور بالخصوص خواتین کو پورا احترام فراہم کیا گیا ہے اسلام تو مکمل ظابطہ حیات ہے لیکن مشرقی روایات میں بھی خواتین کو تحفظ حاصل ہے۔

لیکن بھارت کی فوج چونکہ کسی اخلاقیات کی پاپند نہیں اس لئے تمام اصول بالائے طاق رکھ کر ایسی حرکتوں پر اتر آئی ہے کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔بھارت کی فوج کشمیری حر یت پسندوں کا تو مقابلہ نہیں کر سکتی ہے اس لئے اب بغیرتی کی آخری حدیں بھی پار کر کے خواتیں کی عصمت دری اور چوٹیاں کاٹ رہی ہے اب تک سینکڑوں واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں لیکن نہ تو بھارت کی جمہوریت ٹس سے مس ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کے ادارے اس کا نوٹس لے رہے ہیں ۔

بھارت کے سکیو لرزم اور جمہوریت پر سیاہ دھبہ ہے کہ اس کی فوج انسانی قدروں سے عاری ہو کر ایسے اقدام پر اتر آئی ہے کہ انسانیت منہ چھپانے پر مجبور ہے ۔بھارت ایک طرف پوری دنیا میں ڈھول پیٹ رہا ہے کہ وہ دنیا کی بڑی جمہوریہ اور سیکولر ملک ہے اور دوسری طرف حالت یہ ہے کہ بھارت کی تمام ریاستوں میں اقلیتوں کے لئے زندگی پہلے ہی تنگ کی جا چکی تھی لیکن اب اس کے شر سے خواتین بھی محفوظ نہیں حالانکہ بھارت مشرقی روایات کی پاسداری کا بھی دعویدار ہے اگر یہ سچ ہے تو مشرقی روایات بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ خواتین کے ساتھ اس طرح کا شرمناک سلوک روا رکھا جائے لیکن بھارت اب شاید ٹوٹنے کے قریب ہے اس کی جمہوریت اور سکیو لرزم کا چراغ بجھنے والا ہے جب چراغ بجھنے کے قریب ہوتا ہے تو شعلے بلند ہوتے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر کے مسلمان باسیوں کو آئے روز ہی خون میں نہلانا اور جیلوں میں اذیت دینا معمول کی کاروائی بن گئی ہے۔ یہ خون آلود وادی جہاں جنت نظیر کے نام سے جانی جانتی ہے وہی اس جنت میں شہداء کا خون بھی مہکتا رہتا ہے۔ نوجوان لڑکوں کو بارود باندھ کر ٹکڑوں میں تقسیم کرنا اور بزرگ بوڑھوں کو جیلوں میں گھسیٹنا اب کھیل تماشا ہی بن گیا ہے۔ شہادت تو بہت عظیم مقصد ہے جس پر افسوس کرنا ہی غلط ہے مگر مظلوم خواتین جس جبر اور درندگی کا شکار ہیں وہ قابل برداشت نہیں۔

خواتین کے ساتھ یہ درندگی کسی بھی انسان کیلئے قابل برداشت نہیں ن واقعات سے ایک بات تو ثابت ہوتی ہے کہ بھارت کو کشمیر میں شکست ہوئی ہے اپنی زلت آمیز شکست پر پردہ ڈالنے کے لئے ایسی شرمناک حرکتیں کر رہا ہے لیکن اب یہ نوشتہ دیوار ہے کہ بھارت شکست کے قریب پہنچ چکا ہے اب تو اسے کوئی بچا نہیں سکتا ہے کشمیر میں زلت آمیز شکست سے ،بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ بھارت کی ظالم افواج زلت کا بوجھ کاندھوں میں اٹھائے نکل جائے ۔کشمیری حریت پسندوں کے جواں جزبوں کے سامنے اب بھارت کی طاقت کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہے ۔کشمیری خواتین گزشتہ سترسالوں سے درندہ صفت بھارتی فوجیوں کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں اب تک ایک لاکھ سے زائد مرد و خواتین لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق 1989 سے 2015 تک تقریباَ 79522 کشمیری خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق 10129 سے زائد خواتین کی بے حرمتی کی گئی مگر یاد رہے یہ تعداد اندازاََ بتائی گئی ہے جبکہ حقیقی تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے ہزاروں خواتین کے بیٹوں، شوہروں اوربھائیوں کو حراست کے دوران لاپتہ کر دیا۔ لاپتہ کشمیریوں کے والدین کی تنظیم کے مطابق گزشتہ26برس کے دوران 8ہزار سے زائد کشمیری دوران حراست لاپتہ ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کشمیریوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔جبکہ اب ایک نئی قسم کی واردات کی جا رہی ہے۔معصوم کشمیری خواتین کی چٹیا (بال) کاٹے جانے کے اب تک 300 سے زائد واقعات ہو چکے ہیں لیکن نہ تو مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت اس سلسلہ میں کچھ کر پائی ہے اور نہ ہی فوج اس معاملے میں ذمہ داری لے رہی ہے۔ کشمیری عوام کے بقول سادہ لباس میں فوجی اور پولیس اہلکار اس طرح کے گھناونے کام میں ملوث ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے مسلمان باسیوں کو آئے روز ہی خون میں نہلانا اور جیلوں میں اذیت دینا معمول کی کاروائی بن گئی ہے۔ یہ خون آلود وادی جہاں جنت نظیر کے نام سے جانی جانتی ہے وہی اس جنت میں شہداء کا خون بھی مہکتا رہتا ہے۔ نوجوان لڑکوں کو بارود باندھ کر ٹکڑوں میں تقسیم کرنا اور بزرگ بوڑھوں کو جیلوں میں گھسیٹنا اب کھیل تماشا ہی بن گیا ہے۔ شہادت تو بہت عظیم مقصد ہے جس پر افسوس کرنا ہی غلط ہے مگر مظلوم خواتین جس جبر اور درندگی کا شکار ہیں وہ قابل برداشت نہیں۔مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے ساتھ جاری ظلم پر عالمی برداری کا خاموش رہنا سمجھ سے بالا تر ہے، مقبوضہ میں خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے واقعات میں بھارتی ایجنسیاں اور ان کے ایجنٹ شامل ہیں خواتین پر ہندوستانی مظالم قابل نفرت اور ناقابل معافی جرم ہیں،عالمی برادری،انسانی حقوق کی تنظیموں کو خواتین پر تشدد اورظلم کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت کے خلاف عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے،بھارت تحریک آزادی میں جدوجہد کرنے والی ہماری ماؤں،بہنوں،بیٹوں اور خوف زدہ کرنے کیلئے اس طرح کی گھناؤنے فعل کروا رہا ہے لیکن وہ اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔

۔بھارتی فوج کی ان گھٹیا حرکتوں پر اقوام متحدہ سمیت عاملی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اگر عالمی برادری اس ظلم پر بھی خاموش رہتی ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دنیا سے انصاف مٹ چکا ہے اور عالمی انصاف کے ادارے صرف ڈرامہ بازی کر رہے ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔