سوشل میڈیا کے سیاسی شاہ دولے

سوشل میڈیا کے سیاسی شاہ دولے

26 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

رشید ارشد

کہتے ہیں غصہ عقل کو کھا جاتا ہے۔ ۔گزشتہ کچھ روز سے گلگت بلتستان میں ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کی اپیل پر گلگت بلتستان میں ٹیکس کے خلاف ہڑتال ہے۔ مسلم لیگ ن عوامی حقوق کے تحفظ کیلئے بر سر اقتدار آئی ہے اور عوام نے پیپلز پارٹی کی چوربازاری سے تنگ آکر مسلم لیگ ن کو اعتماد بخشا ہے۔ مسلم لیگ ن کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ عوام اپنے حقوق کیلئے احتجاج کیوں کر رہے ہیں۔ عوام کو اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کا حق جمہوریت بھی دیتی ہے اور آئین و قانون بھی حق دیتا ہے لیکن پر امن جدو جہد ۔۔

میرا آج کا موضوع بحث ہڑتال نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس مومنٹ کی آڑ میں کچھ حاسدین اور سیاسی بونے اس حد تک غصے میں ہیں کہ غصے کی وجہ سے ان کے دل میں بسی گندگی باہر نکل آئی ہے ،اسی لئے کہا جاتا ہے کہ غصہ عقل کو کھا جاتا ہے ۔سوشل میڈیا میں میں سیاسی چھتری میں چھپے ،،شاہ دولہ کے چوہوں ،، نے وزیر اعلی گلگت بلتستان کی پالیسیوں پر اختلاف کرنے کے بجائے بہت جلد ہی اپنے اصل خبث باطن کا اظہار کر دیا ۔

سیاسی کارکن جس کی سیاسی تربیت ہو اس کا وطیرہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سیاسی اختلاف دلیل سے کرتا ہے ،جاہل کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ دلیل سے بات کرنے کے بجائے ذات پر کیچڑ اچھالتا ہے یہ اس کی جہالت کی انتہا ہوتی ہے۔ ہت گہری سازش اور پلانگ کے ساتھ کسی بہت شاطر لیکن بے قوف سیاسی گروہ نے ،کچھ شاہ دولے کے چوہوں ،،کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ ٹیکس کےخلاف تحریک کی آڑ میں حکومت اور وزیر اعلی گلگت بلتستان کے خلاف سازشیں شروع کرو۔ اس سیاسی گروہ سے غلطی یہ ہوئی کہ انہیں یہ تربیت نہیں دے سکا کہ کیسے سازش کرنا ہے کہ سازش کا پتہ نہیں چلے۔ چونکہ یہ شاہ دولے کے چوہے جو ٹھہر ے ، ان کی اوچھی حرکتوں، جلد بازی اور وزیر اعلی کی کردار کشی سے اصل سازش سامنے آگئی کہ یہ عناصر ٹیکس مخالف تحریک کی آڑ میں حکومت اور وزیر اعلی کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔

گزشتہ دو دنوں سے جس قسم کی بازاری اور گھٹیا زبان ،یہ سوشل میڈیا کے ،شاہ دولے استعمال کر رہے ہیں اسے دیکھ کر ان کے آقاؤں کا اصل مشن اور گند بہت جلد سامنے آگیا۔ ایک اور بات بھی کھل کر سامنے آگئی کہ ان کے آقاؤں نے انہیں یہ گر بھی بتایا ہے کہ ،وزیر اعلی اور حکومت کے خلاف صف آرا ہونے سے پہلے حکومت کی اچھی پالیسیوں کی تشہیر کرنے والوں پر حملہ آور ہو جاؤ،اس کے تحت آج کئی دنوں سے میری کردار کشی بھی شروع کر دی ہے اور مسلم لیگ کے ان ورکروں کے خلاف بھی مہم شروع کر رکھی ہے جو پرنٹ ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں حکومت کی عوام دوست پالیسی کی تشہیر کرتے ہیں۔ بیک وقت کئی پوسٹیں یہ ،،شتونگھڑے ،،مختلف انداز اور مختلف ناموں سے میرے خلاف کر رہے ہیں لیکن مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ میرا ایمان ہے کہ زندگی ،موت ،رزق اور عزت و زلت رب کعبہ کے ہاتھ میں ہے ،خوف مجھے صرف رب کا ہے ،میں دلیل سے بات کرنے کا قائل ہوں ،غلیل سے نہیں ،مجھے ان شتونگھڑوں نے اپنی اوچھی حرکتوں سے اور توانا کر دیا ہے میں میدان میں ہوں لیکن دلیل سے مقابلہ کرنے والے آجائیں ،ہم جب حکومت کے انقلابی کارناموں پر بات کرتے ہیں تو جواب میں یہ جاہل گالیوں اور کردار کشی پر اتر آتے ہیں کیونکہ جہالت کی نشانی کے تحت ان کے پاس جواب نہیں ہوتا ہے تو گالیاں دیتے ہیں اور کردار کشی کرتے ہیں ،دھمکیاں دیتے ہیں ۔

کچھ دنوں سے ان عناصر نے وزیر اعلی کی کارکردگی اور سیاسی فراست سے گھبرا کر جس قسم کی نفرت آمیزاور تعصب سے بھری گفتگو سے سوشل میڈیا کو بدبو دار کر دیا ہے اللہ کی پناہ ،یہ سب اس لئے کر رہے ہیں کہ ان کو ان کے آقاؤں نے بتا دیا ہے کہ حفیظ الرحمن کی قیادت ،سیاست اور عوامی خدمت کا مقابلہ کرنا ہمارے بس کی بات نہیں اس لئے حفیظ الرحمن اور ان کے ساتھیوں کی کردار کشی پر زور دواور ہر وہ سازش کرو جس سے حکومت کو نقصان پہنچے۔ ایک اور خطرناک سازش یہ بھی ہے کہ کچھ کردار جو سیاسی یتیم ہیں ان کی تعریفوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے انہیں تعریفوں میں الجھا کر حکومت کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور بدقسمتی سے یہ سیاسی مہرے بہت اچھے طریقے سے استعمال ہو رہے ہیں۔ ان سیاسی مہروں کے گرد سازشی جمع ہو کر نعرے بلند کر رہے ہیں ،قدم برھاو ہم تمہارے ساتھ ہیں ،آپ ہی اصل قائد ہو۔ ن نعروں کے سحر میں مبتلا ہو کر یہ مہرے بہت تیزی سے اچھل رہے ہیں حالانکہ ان کا کردار صرف اتنا ہی ہے جو پاکستانی سیاست میں بہ وقت ضرورت کچھ مہروں کا ہوتاہے جب ضرورت پڑے استعمال کرو جب ضرورت ختم ہو اپنی اوقات دکھاو۔

حکومت مخالف حاسدین کو اس بات کی خبر ہو چکی ہے کہ اگر حفیظ الرحمن کی قیادت میں حکومت نے اپنی مدت پوری کر دی تو گلگت بلتستان میں معاشی انقلاب آئے گا کیوں کہ پچھلے ستر برسوں میں جتنے کام نہیں ہوئے اتنے کام ڈھائی برسوں میں ہوئے۔ اگرحکومت کو فرصت دی گئی تو باقی جماعتوں کا ،،سیاسی کریا کرم ،،ہوگا۔ یہ ہے وہ خوف سیاسی حاسدین کو جس کی وجہ سے جلدی میں ہیں ،اس کے علاوہ ایک طبقہ ایسا ہے جنہیں حفیظ الرحمن کا سیاسی وجود قبول نہیں۔ الغرض یہ سارے حاسدین مل کر بہت ہی اوچھے طریقے سے مہروں کو استعمال کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں جسے اللہ عزت سے نوازتا ہے اس پوری دنیا مل کر بھی زلیل نہیں کر سکتی۔ ان مہروں کو خبر ہی نہیں کہ جتنا حفیظ الرحمن کی کردار کشی کریں گے اتنا ہی عوام انہیں چاہیں گے کیونکہ اللہ نے انہیں قیادت کی تمام اوصاف سے بیک وقت نوازا ہے ۔

کرٹ لیوین نامی سوشل سائکالوجسٹ نے سب سے پہلے لیڈرشپ کے نظرئے پر کام کرکے قائد کی صفات بیان کیں ہیں۔ لیوین کے بعد قیادت کو باقاعدہ درسی محور میں لایا گیا اور لیڈرشپ کے نت نئے نظرئے سامنے آئے جن میں ٹرانسفورمیشنل لیڈرشپ، ٹرانزیکشنل لیڈرشپ او کرشماتی قیادت قابل ذکروغور ہیں۔ قائد کی خوبیوں کو باقاعدہ جانچا گیا۔ ٹیم مینیجمنٹ، موٹیویشن، فیصلہ سازی، پیروکاروں سے روابط اور قائد کی ذمہ داریاں جیسے مباحث پر سیرحاصل معلومات سامنے لائی گئیں۔

قصہؑ مختصر، ایک بہترین قائد میں کونسے خواص ہونے چاہیں جسکی بناء پر وہ گروپ کے دوسرے لوگوں سے ممتاز نظر آئے۔ اب تک کے ریسرچ کے مطابق، درجہ ذیل باتیں ایک مثالی قائد کی پہچان ہوتی ہی؛۔ بولنے کی صلاحیت: تقریر ہو یا تحریر، قائد کے پاس دوسروں تک موثر طریقے سے اپنا پیغام پہنچانے کا گر ہونا چاہیئے۔اچھا قائد اگر اس کے پاس حکومت ہے تو اگلے الیکشن کا نہیں اگلی نسل کے مستقبل کا سوچتا ہے۔ اگر حفیظ الرحمن کے شدید سیاسی مخالفین سے بھی پوچھا جائے تو اعتراف کریں گے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن حفیظ الرحمن میں قائد کی تمام خصوصیات ہیں۔

قارئیں اصل فرق محسوس کرو ، قائد اور مہروں کا۔ حفیظ الرحمن اگلی نسلوں کے مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلے کر رہے ہیں اور سیاسی مہرے صرف اگلے انتخابات کے لئے جلدی میں ہیں۔

حرف آخر ،اگر حفیظ الرحمن کی قائدانہ صلاحیتوں کا مقابلہ کرنا ہے تو متبادل مقابلے کی قیادت سامنے لاو جس میں حفیظ الرحمن کی طرح سیاسی بصیرت،عوامی خدمت کا جذبہ اور قائدانہ صلاحیتیں ہوں۔ سوشل میڈیا میں کردار کشی تو ،شاہ دولے کے چوہوں کا کام ہے ،اب فیصلہ سوشل میڈیا کے شاہ دولے نے کرنا ہے کہ وہ واقعی شاہ دولے کے چوہے ہیں یا تھوڑی بہت اخلاقیات ،روایات اور سیاسی بصیرت بھی رکھتے ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author