عوام ہیں تو آپ حاکم ہیں

تحریر:مجیب الرحمان

دھول اڑاتی فراٹے بھرتی ہارن بجاتی گاڑیاں ،آج یکدم سے سڑک سنسان ،سڑک کنارے واقع دکانوں اور ہوٹلوں میں بھی گاہکوں کا رش معمول سے بہت کم کو ئی دکان میں لگی خراب لائٹیں ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو کوئی صفائی میں مصروف چھت پر بنے مکڑی کے جھالے اتار رہا ہے۔ ہوٹل مالکان بھی ٹیبلوں کے اوپر لگی پھٹی شیٹ کو اتار کر نئی شیٹ لگا رہا ہے اور ڈھیلی کیلوں کو ٹھونک رہا ہے۔کچھ تو کچن میں الماری کے برتنوں کے نیچے رکھے پرانے اخبار تبدیل کر رہے ہیں۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ انہیں آج اچانک فرصت ملی ہے اور موقعے کو غنیمت جان کر دل پر بنے بوجھ کو اتار رہے ہیں۔

دو عظیم ممالک کے مابین شہد سے میٹھی ،ہمالیہ کے پہاڑوں سے اونچی،اور سمندر سے گہری دوستی کی عظیم مثال شاہراہ قراقرم پر خاموشی محسوس کر کے وجہ جاننے کی کوشش کی تو کہا گیا کہ کوہستان کے علاقے ہربن کے مقام پر عوام کا احتجاج ہو رہا ہے۔جس کی وجہ سے تمام ٹریفک معطل ہے۔

یہ منظر آج سے ٹھیک چھے سال قبل اس وقت دیکھنے کو ملا جب کوہستان کے متاثرین دیامر بھاشا ڈیم اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج پر مجبور ہوئے۔اور شاہراہ قراقرم پر دھرنا دیکر بلند و بانگ پہاڑی سلسلوں میں دبی ہوئی اپنی آواز دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کر رہے تھے۔

صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی خاطر جائے احتجاج پر پہنچا ۔بڑے بڑے پتھر گرا کر سڑک کے دونوں اطراف ٹریفک روک دی گئی تھی۔مال بردار ٹرکوں ،مسافر گاڑیوں اور دیگر ٹریفک کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ہر عمر کے لوگوں کی بڑی تعداد بیچ سڑک بیٹھے اپنے مطالبات کے حق میں جذباتی نعرے لگا رہے تھے۔حسب روایت فوٹیج اور تصویر کشی کے بعد کسی ذمہ دار سے بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو کہنے لگے ان کے علاقے سے منتخب ہونے والے ایم پی اے بھی اسی دھرنے میں موجود ہیں۔یہ سنتے ہی حیرانگی سی ہونے لگی۔اسی اثناء میں ایک نوجوان جو روایتی لباس میں ملبوس سر پر کوہستانی بڑی سی ٹوپی سجائے،معمولی سی قیمت کا سویٹر پہنے ہمارے سامنے کھڑا ہوا۔اور پر خلوص انداز میں سلام کرنے لگا۔سلام دعا کے بعد ان سے ہی ہمکلام ہوا اور کہا کہ آپ لوگوں کا ایم پی اے کہاں ہے۔ان کا موقف جان کر واپس موبائل سگنل میں جا کر رپورٹنگ بھیجی جا سکے۔انہیں شاید اندازہ ہوا کہ میں نے انہیں پہچانا نہیں ہے۔انہوں نے چہرے پر ہلکی سی مسکان سجا کر کہا وہی ایم پی میں ہی ہوں ۔

عبدالستار میرا نام ہے اور مجھے اس علاقے کی عوام نے اپنا خادم نامزد کیا ہے۔میں ایک لمحے کے لئے انہیں غور سے دیکھتا رہا۔پھر ان سے گویا ہوا کہ سر میں سوچ رہا تھا کہ آپ بڑی رعب داعب کے ساتھ باڈی گارڈز کے ہمراہ کسی فائیو سٹار ہوٹل میں قیام پذیر ہونگے یا اے سی والی گاڑی میں بڑے پروٹوکول کے ساتھ سفر کر رہے ہونگے۔آپ عوام میں اور پھر سرد ہواؤں میں ٹھٹھرتے ہوئے تارکول کی سڑک پر بغیر بچھونے اور تکیے کے مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔کہنے لگے بھائی مجھے عوام نے اپنی نمائندگی کے لئے منتخب کیا ہے۔میری عوام سڑکوں پر ہو مجھے کیسے چین آئے گا، میں ایسے پروٹوکول اور عیاشی پر لعنت بھیجتا ہوں۔میں اپنی عوام کے ساتھ رات بھی اسی سڑک پر ہی گزار لوں گا۔جب تک عوام کے مطالبات تسلیم نہیں ہونگے اور ہماری آواز اقتدار کے ایوانوں تک نہیں پہنچے گی تب تک کچھ کھا پی بھی نہیں لوں گا۔ میں نے اسمبلی میں بھی اپنی عوام کی آواز اٹھائی ہے اور ہر فورم پر اپنی عوام کی نمائندگی کرتا رہوں گا۔اور علاقے کے مسائل کو ضرور حل کروا کر دم لوں گا۔اس وقت تک روڈ سے نہیں ہٹوں گا جب تک متعقلہ حکام یہاں آکر میری عوام کے مطالبات تسلیم نہیں کرتے۔

یہ سننا تھا کہ سڑک پر بیٹھے احتجاجی مظاہرین کے حوصلے مزید بلند ہوگئے اور اپنے خادم کی حق میں شدید نعرے بازی کرنے لگے۔یہ منظر دیکھ کر بے اختیار ذہن میں خیال آیا کہ کتنی خوش قسمت عوام ہے۔جن کا لیڈر ہی انکے شانہ بشانہ کھڑا رہ کرحوصلہ بڑھا رہا ہے۔ ایسی قوم کے حقوق پر کوئی بھی بڑی طاقت ڈاکہ نہیں ڈال سکتی ہے۔اس کے دوسرے روز ہی اعلیٰ حکام ہیلی کاپٹر پر مظاہرین کے پاس پہنچ گئے اور انکے مطالبات تسلیم کر کے ان پر عملدرآمد کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کر دیا گیا۔

ان مناظر کو دیکھ کر گلگت بلتستان کے لیڈروں کی جانب خیال گیا۔ جن کو جتانے کی خاطر بھائی بھائی سے ناراض،والد بیٹے سے تمام رشتے ناطوں تعلقات کو خیر باد کہہ کر راتوں کی نیندیں اڑا تے ہیں۔ کمپین کے دوران کتنی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔کتنے خاندانوں کے بیچ دشمنیوں کا بھی آغاز ہوچکا ہے۔ ووٹ ڈالتے وقت کھانے پینے کو بھول کر دھکے کھاتے پولیس کے ڈنڈے سہتے ،اپنی مغفرت کی دعاؤں کے بجائے ان کی جیت کی دعائیں مانگ مانگ کر آخر اسمبلی تک پہنچاتے ہیں۔ حلف کے بعد ہی سے انکی نظریں عوام سے پھیر جاتی ہیں۔ پتا نہیں حلف نامے میں کون سا ایسا لفظ شامل ہے کہ اپنی عوام کو مکمل بھول ہی جاتے ہیں۔

اسمبلی میں بیٹھ کر عوام کی مفاد کی خاطر قانون بنانے کے بجائے عوام مخالف قوانین بڑے دلیرانہ انداز میں پاس کرتے ہیں۔اور غیر قانونی طریقوں سے ٹیکسز کی مد میں عوام کی ووٹوں کے بعد جیبوں پر بھی ہاتھ صاف کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔عوام اپنی جائز مطالبے کے لئے جب احتجاج کرتے ہیں تو اگلے دن اخبارات میں ان ممبران کا بیان پڑھنے کو ملتا ہے کہ یہ ہمارے مخالفین کی سازش ہے۔یہ ملک دشمن قوتوں کے آلہ کار ہیں۔ان کے خلاف انسداد دہشتگردی اور ملک دشمن سرگرمیوں کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہونگے۔ساتھ ہی ساتھ کچھ وظیفہ خوروں کی پھرتیاں الگ سے عوام کو مزید ذہنی کوفت دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ہیں۔

آج تک کسی بھی احتجاج میں کوئی بھی عوامی لیڈر عوام کی نمائندگی کرتے نہیں پایا گیا ہے اور نہ ہی عوام ایسا سوچ کر اپنا وقت ضائع کرے۔گلگت بلتستان میں آج تک عوام کی جانب سے کوئی بھی اجتماعی جدو جہد منظم انداز میں ہوئی کسی بھی طریقے سے کسی پارٹی کا یا کسی فرد واحد کا ذاتی مفاد ہر گز شامل ہی نہیں تھا اور نہ ہوگا۔سب کا اجتماعی مفاد اسی میں شامل ہے۔غریب امیر بیواؤں یتیموں تک سب کو اس سے فائدہ مل رہا ہے۔ گندم سبسڈی کی ہی مثال سب کے سامنے ہے اب ٹیکس کا خاتمہ ہوگا تو بھی سب کا ہی فائدہ ہے۔عوام کا اپنے حقوق کے لئے اٹھانے والی جائز آواز کو دبانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال میڈیا ہاؤسز پر دباؤ کے ذریعے کوریج رکوانا خطے کی پسماندگی میں اضافہ کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

ذرا اپنے ہمسایہ خطہ آزاد کشمیر کی جانب نظر دوڑائیں۔ کہا جا رہا ہے کہ منگلا ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد افتتاحی تقریب منعقد ہو رہی تھی اور اس تقریب میں ملکہ برطانیہ بھی شریک ہونے پہنچی تھیں۔منگلا کے متاثرین نے مرتا کیا نہ کرتا کے مطابق اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر لیٹ گئے۔ حکومت نے انکے مطالبات تسلیم کئے اور انکے ڈیمانڈ کے مطابق ہی معاوضے اور مراعات دئے جبکہ اس کے بر عکس پنجاب والے خاموش رہے۔ ڈیم میں کشمیریوں سے زیادہ زمین پنجاب کی زیر آب آگئی ہے ۔انہیں کوئی خاص معاوضہ یا مراعات ملے ہی نہیں۔ ملکہ برطانیہ نے بھی احتجاج کی وجہ سے منگلا ڈیم کے متاثرین کے لئے اپنے ملک کی شہریت دینے کا اعلان کیا۔آج میر پور سٹی کو یورپ کا درجہ حاصل ہے۔لوگوں کا لائف سٹائل ہی تبدیل ہو چکا ہے۔گھاس کھانے والے آج کوٹھیوں کے مالک ہیں اور انہیں کسی قسم کی کوئی پریشانی ہی نہیں ہے۔پہلے سے خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اپنے مطالبات منوانے کی خاطرپر امن احتجاج عوام کا حق ہے۔ اپنی حکومت بچانے کی خاطر گلگت بلتستان کے غیور اور محب وطن عوام کو ایجنٹ کے القابات سے نوازنے والوں کا اپنے کہے جانے والے الفاظ واپس لینے ہونگے اور عوام کی دل آزاری پر معافی مانگنی چاہئیے۔ کیونکہ عوام ہیں تو آپ حاکم ہیں۔ کل کو پھر اسی عوام کے سامنے آنا ہے۔اس وقت منہ چھپانے سے بہتر ہے کہ آج ہی ایم پی اے عبدالستار کی طرح اپنی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں اور جھوٹے وعدوں دعوؤں سے ٹرخانے کے بجائے سنجیدگی سے عوامی مطالبات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔تاکہ آئندہ کے لئے عوام عبدالستار کی طرح بھاری اکثریت سے اسمبلی میں بھیجے گی اور عوام کو سیاسی قیادت کے فقدان کا احساس بھی نہ ہو۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments