چترال: بونی میں پریس فورم، منتخب نمائندوں کے بارے میں شکایات کے انبار

چترال: بونی میں پریس فورم، منتخب نمائندوں کے بارے میں شکایات کے انبار

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد) سب ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز بونی میں چترال پریس کلب کے زیر اہتمام منعقدہ پریس فورم میں عوام نے اپر چترال ضلعے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے میں تاخیر، بجلی کی قلت،تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کی مخدوش حالت ، بونی کی اندرونی سڑکوں کی حالت زاراور سب سے بڑھ کر منتخب نمائندوں کے بارے میں شکایات سامنے آئے ۔ فورم میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ظفر اللہ پرواز (سماجی کارکن ) نے کہاکہ پیڈو (PEDO)نے بونی اور مضافات میں اپنے ہزاروں صارفین کو بجلی کی فراہمی میں ناکامی کے بعد ایس آر ایس پی اور اے کے آر ایس پی کے زیر اہتمام بونی کے قریب بننے والی بجلی گھروں سے بجلی دینے پر ٹرخایا جارہا ہے لیکن یہ پاؤر پراجیکٹ پر کام انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے اور یہ مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان پن بجلی گھروں کی پاؤر چینل نہایت ناقص تعمیر کئے گئے ہیں جوکہ کسی بھی وقت منہدم ہوسکتے ہیں۔

رحمت سلام خان نے اپر چترال ضلعے کے اعلان کے بارے میں کہاکہ لوازمات کو پورا کرنے کے بعد ہی ضلعے کی قیام کا اعلان کیا جانا تھاجبکہ ان کی اطلاع کے مطابق اس مقصد کے لئے ایک پائی بھی مختص نہیں ہوئی۔ انہوں نے متاثریں سیلاب کے لئے کاغ لشٹ سے استفادے کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیاجبکہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال بونی میں ایکسرے، الٹراساونڈ اور دوسرے تشخیصی ٹیسٹوں کی سہولیات کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا اور ساتھ ہی بونی میں شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کے کیمپس کی بندش پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ سہولیات کے بغیر ضلع اپر چترال کا اعلان کو بھی سیاسی حربہ قرار دیا۔

گل حیات ایڈوکیٹ نے تورکھوروڈ کی انتہائی سست رفتاری سے تعمیر پر حکومتی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا اور پبلک ہیلتھ انجینئر نگ ڈیپارٹمنٹ کے زہر اہتمام تورکھو کے رائین واٹر سپلائی اسکیم کی ناقص تعمیر اور پانی کی عدم دستیابی کے بارے میں انکوائری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اپر چترال کے لئے گولین گول پراجیکٹ سے بجلی کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ شہاب الدین ایڈوکیٹ نے اپر چترال کی نوٹیفیکیشن جلداز جلد جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔

بونی کے ہی انور ولی خان نے پی ٹی وی میں چترالی زبان کیلئے وقت مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔ معروف صحافی مولانا محمد علی مجاہد نے کہاکہ ضلعے میں این جی اوز کی بھر مار ہے لیکن ان میں سے اکثر کا مقصد پیسے بٹورنا ہے جس کا سخت نوٹس لیا جائے اور ایسے اداروں کو یہاں قائم رہنے دیا جائے جوکہ عوامی مفاد میں کام کرتے ہوں۔ جنالی کوچ گاؤں کے سید بادشاہ نے جنالی کوچ کے متاثریں کے لئے کاغ لشٹ سے استفادے کی اجازت دینے اور گاؤں کو مزید دریا بردگی سے بچانے کے لئے مضبوط خفاظتی پشتے تعمیر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ جنرل کونسلر عبدالجبار نے کہا کہ سرکاری محکمہ جات سی اینڈ ڈبلیو، لوکل گورنمنٹ اور ٹی ایم اے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہاں مبینہ طور پر بدانتظامی اور کرپشن کا سخت نوٹس لیاجائے۔

تحصیل کونسل کے رکن سردار حکیم نے ضلعے کا جلد از جلد نوٹفیکیشن جاری کرنے ، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر وں کی خالی اسامیوں کوپر کرنے، چترال بونی روڈ کی صفائی، بونی کے مضافاتی علاقوں دریانو وغیر ہ میں بجلی کے کھمبوں کی کمی کو پورا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے سب ڈویژنل افیسر کو بونی دفتر میں رہ کرکام کرنے کا بھی مطالبہ کیا جوکہ بونی کی بجائے چترال میں بیٹھتا ہے جس کی وجہ سے محکمے کا کام متاثر ہورہا ہے۔ انہوں نے تحصیل کونسل کے اے ڈی پی بھی جلد از جلد ریلیز کرنے کا مطالبہ کیا۔

سردار حکیم نے بونی میں غیر معیاری اشیاء فروخت کرنے کے خلاف کاروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے ڈی۔ ایس۔ ایل سروس کو بہتر بنانے اور محکمہ خوراک کے گودام میں خراب اور ناقص گندم کی فراہمی کا نوٹس لینے پر بھی زوردیا۔

سیدسردار حسین شاہ نے کہاکہ ہماری سیاسی قیادت علاقے کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے اور ایک ساتھ کام کرنے کی بجائے وہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے پیڈو کے تھرمل جنریٹروں سے دی جانے والی بجلی کو پانچ روپے فی یونٹ فراہمی اور وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق زرعی قرضوں کی معافی کا مطالبہ کیا۔

ویلج ناظم چرون شیر عالم نے بھی جنالی کوچ میں حفاظتی پشتوں کی تعمیر اور متاثرین سیلاب کو پانی اور بجلی کی فراہمی کی طرف نشاندہی کی۔ محکم الدین نے گورنمنٹ زنانہ ہائی سکول بونی میں گزشتہ چودہ سالوں سے کمپیوٹروں کو ڈبوں میں بند رکھنے اور طالبات کو ان سے محروم رکھنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دنوں ان کے اصرار پر جب ان کو کھولے گئے تو ان کے ساتھ یو پی ایس خراب ہوگئے تھے جن کو ٹھیک کرنے کے لئے سکول کے پاس فنڈ نہیں ۔

اس موقع پرموجود ممبر ضلع کونسل الحاج رحمت غازی خان نے اپنی طرف سے ایک لاکھ روپے کی فراہمی کا اعلان کیا۔

ناصر خسر و نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیاکہ گزشتہ دو مرتبہ بونی سے ایم پی اے منتخب ہونے کے باوجود بونی کے انٹرنل روڈ ز کی حالت قابل رحم ہے جبکہ ہسپتال کی حالت بھی مخدوش ہے۔

شیر افضل نے پولیس سے مطالبہ کیاکہ کم عمر موٹر سائیکل سواروں کے خلاف موثر کاروائی کی جائے۔

ذاکر زخمی نے تورکھو اور موڑکھو میں نادرا دفاتر قائم کرنے پر زور دیا اور بونی میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنروں کی کمی پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔

صاحب نظار خان نے بونی کے اندر شکراندہ روڈ تعمیر کرنے اور بونی گول کے اوپر سات مختلف مقامات پر پل تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔

پرنس سلطان الملک نے ایم این اے چترال شہزادہ افتخارالدین کی طرف سے اپر چترال میں کیے گئے کاموں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایم این ے نے جو وعدے کیے ہیں اُنہیں پورا کرکے دیکھایا۔اُنہوں نے زرعی قرضوں کے متعلق صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے طرف سے ڈاریکٹیوز صوبائی حکومت کو بھیجی گئی تھی جس پر صوبائی حکومت نے عمل درآمد نہیں کیا جس کی جوہ سے علاقے کے لوگ سود در سود دینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

ٹیلی فون کے ذریعے موڑکھو کے مسائل بیان کرتے ہوئے حمیدالجلال نے موڑکھو کو ڈیزل جنریٹروں سے بجلی کی فراہمی ، رورل ہیلتھ سنٹر میں لیڈی ڈاکٹر اور نرسوں کی تعیناتی کا مطالبہ کیا۔

ضلع کونسل کے رکن اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما الحاج رحمت غازی خان نے گزشتہ چار سالوں کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالی اور نئی ضلعے کے بارے میں شکوک وشبہات کو رد کرتے ہوئے کہاکہ اسے ایک ماڈل اور ماڈرن ضلع بنایا جائے گا۔

چترال کمیونٹی ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (سی سی ڈی این) کے چیرمین سرتاج احمد خان نے ضلح کی اعلان کا خیر مقدم کیا اور موڑکھو اور تورکھو تحصیلوں کے نوٹیفیکیشن کو علاقے کی ترقی میں سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے لواری ٹنل پراجیکٹ اور سی پیک کے تناظرمیں چترال میں آنے والے وقتوں پر اس کے اثرات پر روشنی ڈالی اور کہاکہ ہمیں اتحاد واتفا ق کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے چترال کی جغرافیائی پوزیشن کے پیش نظر یہاں پر 30میگاواٹ بجلی مفت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ مختلف دوردراز کے علاقوں میں پریس فورم منعقد کرکے عوامی مسائل سے آگہی کے سلسلے کوشروع کرنے پر انہوں نے چترال پریس کلب کو سراہا۔

اس موقع پر ایم پی اے سید سردار حسین شاہ نے اپنے ڈھائی سالہ دور کے دوران انجام دیئے گئے ترقی کے مختلف کاموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ضلح کی نوٹیفیکیشن کے بارے میں انہوں نے کہاکہ یہ وقت طلب ہے جس کے بارے میں امید ہے کہ ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر یہ جاری ہوگا۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے پرزورمطالبہ کیا کہ ضلعے کو ٹھوس بنیادوں پر استوارکرنے کے لئے خاطر خواہ اور اضافی بجٹ بھی دی جائے۔

چترال پریس کلب کے صدر ظہیرالدین نے پریس فورم میں آکر عوامی مسائل بیان کرنے پر اہلیان بونی اور اس کے انتظام میں معاونت پر سی سی ڈی این کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر سی سی ڈی این کی طرف سے نئی ضلع کے اعلان کی خوشی میں مٹھائی تقسیم کیا گیا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔