ادب اور ماحولیات ادب اور ماحولیات

ادب اور ماحولیات ادب اور ماحولیات

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

ادب اور ماحولیات کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ انشا پردازی ‘ناول نگاری، داستان گوئی اور شاعری میں محاکات کو ماحولیات ہی کہا جائے گا۔ اورکیا نام دیا جائے گا ! مگر لطف کی بات یہ ہے کہ شاہ لطیف یونیورسٹی خیرپور سندھ کے شعبہ اردو نے اس موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام اور فروری2017میں اعلامیہ جاری ہوا تو سب نے حیرت کا اظہار کیا”ادب اور ماحولیات”کیا موضوع ہے ! نومبر کے دوسرے ہفتے میں یہ کانفرنس پاکستان میں ہوئی جب کہ تیسرے ہفتے میں جرمنی کے شہربون نے اسی موضوع پر کانفرنس کی میزبانی کی۔ یوں عقدہ کھلا کہ یہ دماغ کا خلل نہیں۔ عالمی توجہ کا متقاضی عنوان ہے ۔ کانفرنس میں 23ممالک کے مندوبین آئے اور دنیا کی17زبانوں کے ادب میں ماحولیات کے موضوع کا جائزہ لیا گیا۔
روایت سے ہٹ کر کانفرنس کی افتتاحی نشست میں کسی بھی سرکاری عہدیدار کو بلانے کی جگہ سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کو بلایا گیا۔ شاہ لطیف یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر پروین شاہ، فیکلٹی آف لینگویجز اینڈ آرٹس کے ڈین ڈاکٹر یوسف خشک اور شعبہ اردو کی چیئرپرسن ڈاکٹر صوفیہ خشک نے کانفرنس کے پس منظر اور اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ ڈکٹر یوسف خشک نے یاد دلایا کہ ماحوالیاتی تنقید ادب کا نیا شعبہ ہے۔ اس شعبے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ معاصر ادب کے اندر ماحول کو کتنا وقت اور کتنی جگہ حاصل ہے۔ شاہ لطیف نے آج سے تین سو سال پہلے مگر مچھ سے خطاب کرکے ایک بات کہی تھی “اے مگرمچھ! تو جس طرح سب کو ختم کرنے پر تلا ہوا ہے یہ نہ بھولو ان سب کے خاتمے میں تیرا خاتمہ بھی مضمر ہے”آج انسان نے نباتات ، حیوانات، چرند، پرند اور مچھلیوں کی نسل کو ختم کیا۔ ہواؤں اور دریاؤں کو آلودہ کیا ، اس طرح مگرمچھ کی طرح اپنے خاتمے کا سامان اپنے ہاتھوں سے کرلیا ہے اور یہی ادب کا موضوع ہے اسی پر اس کانفرنس میں بحث ہورہی ہے کامرس اینڈ انڈ سٹری کے شعبے سے تعلق رکھنے والے دانشور عامر غوری نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی نے دنیا کو اس درجہ متاثر کیا ہے کہ آج انسان نے زمین اور آسمان کے اس مدار سے باہر نکل کر مریخ میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ” یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں “امریکہ کی تین ریاستوں میں اس منصوبے پر کام ہورہا ہے ۔ ٹیکساس میں ایلون مسک (Elon Musk)نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ٹیسلا(Tesla) سپے سکس(Spasex)اور ہائپر لوپ(Hyper Loop)نامی کمپنیاں اس پر کام کر رہی ہیں ۔ 2020میں پہلا خلائی سٹیشن قائم ہوگا۔2026تک انسانوں کو تعمیراتی سامان کے ساتھ مریخ پر اتارنے والے جہاز باقاعدہ سروس شروع کریں گے ۔ علامہ اقبال نے کہا تھا “کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد”برطانیہ سے آنے والے مندوب یشیب تمنانے ورڈزورتھ، محمد ابراہیم کھوکھر نے شاہ لطیف، فرحت جبیں ورک نے منیر نیازی ،ایران سے آنے والی مندوب ڈاکٹر وفا یزداں منش نے فارسی ادب، مصر سے آنے والے دانشور ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم السید نے مصری ماحول اہرام اور نیل کے ادب پر اثرات، جرمنی کے ڈاکٹر تھامس سٹیمر نے جرمن ادب اور ماحول ، سویڈن کے ڈاکٹر ورنر ویسلر نے عالمی ادب میں Loop)نامی کمپنیاں اس پر کام کر رہی ہیں ۔ 2020میں پہلا خلائی سٹیشن قائم ہوگا۔2026تک انسانوں کو تعمیراتی سامان کے ساتھ مریخ پر اتارنے والے جہاز باقاعدہ سروس شروع کریں گے ۔ علامہ اقبال نے کہا تھا “کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد”برطانیہ سے آنے والے مندوب یشیب تمنانے ورڈزورتھ، محمد ابراہیم کھوکھر نے شاہ لطیف، فرحت جبیں ورک نے منیر نیازی ،ایران سے آنے والی مندوب ڈاکٹر وفا یزداں منش نے فارسی ادب، مصر سے آنے والے دانشور ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم السید نے مصری ماحول اہرام اور نیل کے ادب پر اثرات، جرمنی کے ڈاکٹر تھامس سٹیمر نے جرمن ادب اور ماحول ، سویڈن کے ڈاکٹر ورنر ویسلر نے عالمی ادب میں ماحولیاتی خطرات کے تنقیدی جائزے اور ترکی سے آئی ہوئی ڈاکٹر آرزو سورن نے یشارکمال کے ناول”سمندر ناراض ہوگیا”کے حوالے سے مقالات پیش کئے۔ اردو ادب کی نامور شخصیت ستیہ پال آنند واشنگٹن سے اور مشہور براڈ کاسٹر، ادیب اور دانشور رضا علی عابدی لندن سے تشریف لائے تھے۔ رضا علی عابدی کو لفظوں کا جادوگر کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے عالمی حدت، موسمیاتی تغیرات،اوزون میں سوراخ اور دیگر عوامل کے ساتھ کوئلہ، ڈیزل، پٹرول اور دھواں چھوڑنے والے آلودہ کار ایجادات کا ذکر چھیڑتے ہوئے کہا کہ” اب ایجاد کو ایک بار پھر ضرورت کی ماں ہونے کا ثبوت دینا چائیے” کوئی ایسی مشین آنی چائیے جو دھوئیں کے مرغولوں سے جہانِ آب وگِل کو نجات دے ۔ بیشک یہ ایک خواب تو ہے مگر” یاد رہے دیوانے کا نہیں”۔ سندھ یونیورسٹی جام شورو کے عتیق احمد جیلانی ، کراچی یونیورسٹی کے ڈاکٹر روف پاریکھ اور پنجاب یونیورسٹی کے ڈاکٹر وحید الرحمٰن نے خوب صورت مقالے پیش کئے۔ خیبر پختونخواہ سے ایبٹ آباد کے عامر سہیل صوابی یونیورسٹی کے نقیب احمد جان، یونیورسٹی آف چترال کے ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری، سرحد یونیورسٹی کے ڈاکٹر محمد امتیا ز ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے عبداللہ جان عابد مندوبین میں شامل تھے ۔ سکردو بلتستان سے ڈاکٹر عظمی سلیم اور محمد حسن حسرت نے کانفرنس میں دلچسپ مقالے پیش کئے۔ چترال کے مندوب نے کھوار ادب کی قدیم صنف اشور جان کے ایک بند کا ترجمہ پیش کیا جو بے حد پسند کیا گیا۔ترجمہ یہ ہے” میری جاں! میرے ہمدم! کاش میں کسی راہ گزر پر ایک چشمہ ہوتا، میری محبوبہ چشمے پر آتی، اپنی انگلی سے چشمے کو چُھو کر دیکھتی کہ چشمہ ٹھنڈا ہے یا نہیں۔ پھر کہتی کہ چشمہ بہت ٹھنڈا ہے اور اپنے شیریں لب بھر بھر کر چشمے کا پانی پی لیتی، میری جا ں ! میرے ہمدم! اس وقت میرے سارے ارمان پورے ہوتے اور مجھے موت کا غم بھی نہ ہوتا”اس طرح اختر شیرانی کی نظم “او دیس سے آنے والے بتا”اور مجید امجد کی نظم “توسیعِ شہر”کا بھی خوب چرچا رہا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments