ن لیگ کی آزمائش

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنی اہلیہ کی تیمارداری کے لئے لندن جا نے کا پروگرام موخر کر کےعوامی رابطہ مہم کو تیز کر نے او ر ایبٹ اباد جلسے کے بعد کوئٹہ سمیت دیگر شہر وں میں جلسوں سے خطاب کر نے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگلے ہفتے سے اس مہم کی جھلکیاں اخبارات میں آئینگی۔ ایسا لگتا ہے کہ سابق وزیراعظم 1970 کے عشر ے میں گذرنے والے ایک اور سابق وزیراعظم ذوالفقا ر علی بھٹو کے نقش قدم پر چل کر اُسی کے انجام سے دو چار ہو نا چاہتے ہیں مگر دونوں میں کوئی مماثلت نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ بھٹو نے بھی مقدمات کی پیر وی کو چھوڑ کر تقریریں کر نے کا سلسلہ شروع کیا یہاں تک کہ انہوں نے عدالت میں بھی ڈھائی گھنٹہ شستہ انگر یز ی میں زور دارسیاسی بیان دیا۔ تاریخ سے بسمارک، چرچل اور دیگر عظیم رہنما ؤں کے حوالے دیے، جمی کارٹر کے خط کا ذکر کیا، تیسر ی دنیا کی محرومیوں کا قصہ دہر ایا ، فیدل کا ستر و اور دیگر لیڈروں کی مثالیں دیں۔ ان کی تقر یریں بہت اچھی تھیں مگر ان کی ضرورت ان تقر یر وں سے زیادہ قانونی معاملات کی طرف توجہ دینے کی تھی جو اُن سے نہ ہو سکی۔

نواز شریف کی تقر یر میں وہ حسن وہ چا شنی اور معلومات کی فراوانی یا تقر یر کی روانی بھی نہیں ہے تقریر کے اندر جان بھی نہیں ہے۔ بھٹو امریکہ کی طرف اشارہ کر رہے تھے اور دلیل دے رہے تھے۔ نواز شریف کہہ رہے ہیں مجھے نکلو ا یا گیا ، سزا دلو ائی گئی مگر امر یکہ یا کسی اور طاقت کا ذکر گول کر جاتے ہیں۔ اس لئے عوام کے ذہنوں میں کسی نکتے کی وضاحت نہیں ہو تی۔ اگر کسی دوست کو لاہور کے اخباری حلقوں کے قریب دوچار دن گذارنے اورخبروں کا نچوڑ دیکھنے کا موقع ملے تو چار نکات سامنے آتی ہیں۔ میرے دو دن لاہور میں گذرے نومبر کی 15 تاریخ سے 17 تاریخ تک میں نے لاہور کے اخبار نویسوں کے ساتھ گذارا۔ مخالفین سے زیادہ شریف فیملی کے حامیوں سے ملنے کا اتفاق ہو۔ا ن لیگ کی آزمائش کے جو نکات سامنے آئے وہ چشم کشا بھی ہیں اور حیرت افزا بھی۔

پہلا نکتہ یہ ہے کہ جنرل مشرف اور نواز شریف کی معزولی کا سبب ایک ہی ہے چائنا پاکستان اکنا مک کوریڈور نہ ہوتا تو پرویز مشرف اب تک اقتدار میں ہوتے۔ آصف علی زرداری نے پاک ایرا ن گیس پائپ لائن اور سی پیک کے معاملے پر کمال عیاری سے کام لیا اور اپنی مدت پوری کر لی۔ پرویز مشرف اور نوازشریف ایسا نہ کر سکے امریکہ نے دونوں کو عبرت کا نشان بنا دیا۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ نواز شریف نے گھر کو سنبھالنے میں کو تاہی دکھائی،ڈان لیکس کا چکر ان کے گھر کی دہلیز تک پہنچا۔ بیٹی اور داماد کی وجہ سے گرفت میں آگئے اورجکڑ لئے گئے۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ تیسری بار حکومت میں آنے کے بعد انہوں نے قربانی دینے والے جاوید ہاشمی کی طرح کئی لیڈروں کو نظر انداز کر کے چُوری کھا نے اور دودھ پینے والے مجنونوں کو اہمیت دی۔ چوہدری نثار نے اکتوبر 1999 کی طرح جولائی 2017 میں بھی بے وفائی کی۔ خواجہ آصف ، سعد رفیق اور عابد شیر علی نے نواز شریف اور ن لیگ کے لئے مشکلات پید ا کئے۔ ایوان صدر ، سپیکر یا سینیٹ کے چیئر مین کی نشست پر مسلم لیگ کا کوئی ورکر ہوتا تو مشکلات اور آزما ئشوں کے دور میں سہولت ہوتی۔ راجہ ظفر الحق ، شیخ روحیل اصغر ، جاوید ہاشمی اور ان کی طرح دیگر مسلم لیگی لیڈروں کو اہم عہد وں پر آگے لایا جاتا تو 5 سال آرام سے پورے ہوسکتے تھے۔

چوتھی اہم بات یہ ہے کہ ڈان لیکس کی طرح شریف فیملی کے اندر اختلافات کو ہو ادی گئی۔ شہباز شریف کے صبر کا بار بار امتحان لیا گیا۔ شہباز شریف کو بھائی سے جدا کر نے کی ایسی کوششیں گھر کے اندر کی گئیں جس طرح مرتضیٰ بھٹو کو محترمہ بے نظیر بھٹو سے جدا کر نے کی مہم چلائی گئی تھی مگر شہباز شریف کی برد باری ، فراست اور قابلیت کی وجہ سے یہ بات اب تک پردے میں تھی۔ اب یہ پردہ چاک ہوا ہے اور یہ ن لیگ کے زوال کا بڑا سبب ہے۔

اب بھی وقت ہے مریم نواز ،کیپٹن صفدر ، خواجہ آصف ، سعد رفیق اور عابد شیر علی کو خاموش کر دیا جائے۔ نواز شریف اپنی رابطہ عوام کی ناکام مہم ختم کردیں تو معاملات سدھر سکتے ہیں۔ پارٹی کی قیادت میاں شہباز شریف کے ہاتھو ں میں دیدی جائے تو ن لیگ آزما ئشوں سے سر خرو ہو کر نکلے گی اور پارٹی کی حیثیت بحال ہوگی ورنہ اس آزما ئش سے عہد ہ بر آ ہو نا مشکل ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments