مجھے متاثر کیا ۔۔

محمد جاوید حیات

شہید اسامہ وڑائچ چترال کے ڈی سی تھے ۔۔بہت تھوڑے وقت میں اتنے سارے کام کر گئے کہ اب اس کو ایک احساس، ایک ویژن، ایک تحریک اور ایک معیار کا نام دیا جا رہا ہے ۔۔ان کی یادیں، باتیں ااور خدمات کو چترال کا ہر فردخراج تحسین پیش کرتا ہے ۔۔ان کی خدمات میں اُسامہ کیریر اکیڈیمی کا قیام ایک بڑا کار نامہ تھا ۔۔جو چترال کے نوجوانوں کے لئے ایک تحفے سے کم نہیں ۔صرف ایک سال میں اس اکیڈیمی سے دو بچے آغا خان میڈیکل کالج کے لئے کوالیفائی کر گئے اور ایک بچی نے انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخہ لیا ۔۔اس اکیڈیمی نے سائنس اینڈ آرٹ نمائش کا اہتمام کیا تھا ۔۔نمائش جی سی ایم ایچ سکول چترال کے ہال میں کیا گیا تھا ۔۔تمام مشہور پبلک سکول اور کالجوں کے علاوہ سرکاری سکولوں اور کالجوں نے بھی بھر پور حصہ لیا تھا ۔۔دو دن کی نمائش میں بچے بچیوں نے اپنی صلاحیتیں منوائیں، خاص کر سرکاری کالجوں اور سکولوں کے بچے بچیاں نما یاں رہے۔

پی ٹی آئی کے ضلعی صدر جناب عبدالطیف صاحب اور جناب رحمت غازی صاحب نے خصوصی طور پر نمائش کا دورہ کیا اور بچوں کی حوصلہ افزائی کی ۔۔باقی لیڈر وں نے اس نمائش کو کوئی اہمیت نہیں دی جس سے ان کی لیڈر شپ کی تعلیم اور نوجوان نسل سے محبت کا پتہ چلتا ہے ۔۔سائنس اور آرٹ میلہ میں مختلف اعلی تعلیمی اداروں کے بچے شریک تھے۔ ان میں کالجوں اور سکولوں کے بچے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے ۔۔اس میلے میں سرکاری سکولوں نے شرکت کی تھی۔ یہ معاشرے میں موجود اس طبقے کے لیئے حیرانگی او ر اچھنبے کی بات تھی کہ سرکاری سکولوں کے بچوں میں یہ قوت پرواز کہاں سے آگیا کہ وہ ایف سی پی ایس ،آغا خان ہائیر سکینڈری سکول ،چترال پبلک سکول ،چترال ماڈل سکول جیسے اداروں کے شاہینوں کے مقابلے میں آئیں۔۔ میں جب جی سی ایم ایس چترال کے تاریخی ہال میں داخل ہوا تو ہال کے اندر ایک اور دنیا آباد تھی ۔۔منتظمیں نے لاوڈسپیکر پہ میرے آنے کا اعلان کیا ، میں ششدر رہ گیا کہ انھوں نے ایک ناچیز کو اتنی اہمیت دی ۔۔جی سی ایم ایچ ایس کے میرے شاگرد دوڑ کر میرے سینے سے لگے ۔۔میں دوڑ کر اپنے شاگردوں کے پاس پہنچا ۔۔پراجیکٹ لگا ہوا تھا ۔۔چارٹ پہ گورنمنٹ ہائی سکول بمبوریت لکھا ہوا تھا ۔۔میں نے اپنے بچوں کو دل سے لگایا ۔۔قاضی واحد اللہ جو اس پروجیکٹ کا ڈایریکٹر تھا نےمجھے تفصیل بتا دی ۔۔پھر میں نے مختلف پراجیکٹس کا دورہ کیا ۔۔چترال کے پیارے پیارے بچے بچیاں اپنے اپنے پراجیکٹس کے ساتھ کھڑے تھے ۔۔آنکھوں میں چمک ،دل میں جذبہ، حرکات میں تجسس ۔۔ایسا لگ رہا تھا کہ یہ ہال آکاش ہے یہ سب ہمارے مستقبل کے روشن ستارے ہیں ۔۔انھوں نے ایک حسین دنیا آباد کر رکھے تھے ۔۔ان کی معصومیت ان کا پیار بھر ا لہجہ ، ان کا بھولاپن ۔۔جی چاہتا تھا کہ یہاں ہی رہا جائے ۔۔منتظمین نے چار پراجیکٹس جائزے کے لئے میرے حوالے کیا ۔۔یہ سب آرٹ اور ڈرائینگ کے پراجیکٹس تھے ۔۔۔میں جب گورنمنٹ خواتین ڈگری کالج کی بچیوں کے پراجیکٹ میں پہنچا تو ان کے سکیچ نے مجھے بہت متاثر کیا ۔۔وہ پوری زندگی کو اپنی پینسل کے ذریعے کاغذوں پہ ڈال چکی تھیں ۔۔یہ تھیں سومہ تہرین ،زینب نور،حفصہ سجاد ۔۔سوال کرنے پہ بتائے کہ وہ وفا ۔۔زندگی کی رنگینیوں ۔۔تہذیب و ثقافت ۔۔۔صحت۔۔نزاکت ۔۔عورت کی خوبصورتی ۔۔شاستگی اور فطرت کی خوبصورتی کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے ۔۔فطرت میں کونسی چیز بہت خوبصورت لگتی ہے تمہیں ۔۔۔اس سوال پہ سب کے جوابات روایتی تھے ۔۔کسی نے کہا ۔۔پھول ۔۔کسی نے دریا کہا ۔۔کسی نے موسم کا حوالہ دیا ۔۔کسی نے رنگ ۔کسی نے آبشار جھرنا کہا ۔۔میرے غیر منطقی خاموشی پہ ایک بچی نے تھوڑا غصے میں استفسار کیا کہ سر ! خاموش کیوں ہو، تمہیں نیچر کی کونسی خوبصورتی پسند ہے ۔۔۔میں نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا شاید وہ میری انکھوں میں اُترے ہوئے جذبے سے سہم سے گئے ۔۔میں نے کہا ۔۔بیٹا !آپ کے گھروں میں چھوٹے بچے ہیں کہ نہیں سب نے یک زبان ہو کر بڑے اشتیاق سے کہا ۔۔ہاں سر!چھوٹے بہن بھائی ۔۔اف سر! نواسے نواسیاں ۔۔بھتیجے ۔۔ اف سر! ہم سمجھ گئے پلیز !ان معصوم آنکھوں میں جو خوبصورتی ہے کہیں نہیں ۔۔ہاں بیٹا ! گلشن انسانیت کے پھولوں سے خوبصورت فطرت کی کونسی چیزہے جن کو تم خوبصورت کہتے ہو ۔۔

ایف سی پی ایس کی کیلی گرافی اور چترال پبلک سکول اور کالج کی پینٹنگ نے بہت متاثر کیا ۔۔ اُسامہ شہید کیریر اکیڈیمی کی طرف سے دو بچیوں نے چند پینٹنگس لے کے میلہ میں شامل تھیں ۔ان سے ملا تو اُسامہ بہت یاد آیا ۔۔ان کی آنکھوں میں اُسامہ کی یادیں تھیں ۔۔مقابلہ ختم ہوا ۔۔ٹینس گراونڈ میں اجتماع جم گیا ۔۔مہمان خصوصی اے سی جناب عبد الا کرم صاحب تھے ۔۔صدارت ڈی ڈی او محکمہ تعلیم جناب ممتاز محمد وردگ فرما رہے تھے ۔۔سٹیج پہ پروفیسر عظمی شیر ، پرنسپل ایف سی پی ایس ، ایکاونٹنٹ چترال سکاؤٹ ، اورگورنمنٹ سکول کا ایک استاد بیٹھے ہوئے تھے ۔۔اُسامہ وڑائچ کیریر اکیڈیمی کے پروفیسر تنزیل نے اکیڈیمی کی تاریخ ،شہید اُسامہ کی خدمات اور اس سائنس اور آرٹ میلہ کی تفسیل بتا دی ۔۔ایف سی پی ایس کے پرنسپل رحیم اللہ صاحب نے خطاب کیا ۔۔کسی سرکاری ادارے کے استاد کو دو منٹ بات کرنے کی دعوت نہیں دی گئی۔۔ شاید ۔۔اُستاد کی اہلیت اڑے آئی یا یوں سمجھا گیا کہ اتنی بھری محفل میں کسی سرکاری سکول کا اُستاد بات نہیں کر سکتا ۔۔ بہر حال سٹیج پہ جو اردو بولی جا رہی تھی ۔۔سن سن کر سرکاری سکول کےاُستاد سر جھکائے بیٹھے تھے اور شاید غالب کی روح قبر میں بے چین ہوگی ۔۔مقابلوں کا اعلان ہوا تو اسی سرکاری سکول جو پسماندہ علاقے کا کہا گیا نے کیمسٹری کا پروجیکٹ جیت کر یہ ثابت کیا کہ جیت کسی کا بھی مقدر ہوسکتی ہے ۔۔سرکاری سکولوں میں گورنمنٹ ہائی سکول بمبوریت نے کیمسٹری میں پہلا انعام حاصل کیا ۔۔گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج نے سکیچ میں پہلا انعام جیتا ،ہائی سکو ل بلچ ،ہائی سکول بونی ،گرلز ہائی سکول موڑدہ نے انعامات جیتے ۔۔مرد قلندر اقبال نے کہا تھا

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویران سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

مہمان خصوصی نے اپنی تقریرمیں اساتذہ کی تعریف کی ۔۔اتنا اور کہنا چاہیے تھا کہ اصل اساتذہ وہ ہیں جو سرکاری اداروں میں ان بچوں کو پڑھاتے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں جن کو کوئی پوچھتا نہیں وہاں پہ کوئی میرٹ نہیں ۔۔ملک میں ایک جیسا نصاب نہیں ایک جیسا نظام نہیں ۔۔اس لئے آج بھی گورنمنٹ کے اساتذہ کو دوسری صف میں جگہ دی جاتی ہے ان کو پہلی صف میں جگہ کب ملے گی ۔۔
عضب ہے پھر تیری نھنی سی جان ڈرتی ہے تمام رات تیری کانپتے گذرتی ہے

صدر محفل نے گورنمنٹ کے اداروں کی کارکردگی کو سراہا ۔۔آپ نے سکولوں میں بہتری کا ذکر کیا سہولیات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ انشااللہ بہت جلد سر کاری اداروں میں میرٹ پہ داخلہ ہو گا ۔اور لوگ آرزو کرینگے کہ ان کے بچے کسی سرکاری ادارے میں پڑھیں۔۔

آپ کی رائے

comments