معصومیت کا شاہکار اور ہماری سوسائٹی

معصومیت کا شاہکار اور ہماری سوسائٹی

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ایس ایس ناصری

کسی بھی چیز کی جازبیت اور خوبصورتی میں رنگوں کا چناؤ اور رنگینی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور رنگینی ہی کے ذریعے بے قیمت چیزوں کی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس چیز کی مقبولیت بھی سر چڑھ کے زبان زد عام ہوتا ہے۔ دنیا کے ہر طبقہ کسی بھی رنگین چیز کو نہ صرف پسند کرتے بلکہ اسے اپنے پاس رکھنے کیلے جستجو کرتے ہیں اور اپنی بساط کے مطابق اپنے ماحول کو رنگیں بنانےمیں لگ جاتے ہیں۔ کوئی مختلف اظہار کے ذریعے اپنے گھروں کے لان کو مختلف کلروں سے سجاتے ہیں تو کوئی اپنے دلوں کو تسلی دینے کیلے نئے طریقے ڈھونڈ لیتے ہیں اور اس میں بعض کو کامیابی ملتی ہے اور بعض کا ناکامی مقدر بن جاتے ہیں۔

واضح بات یہ ہے کہ ہر کوئی رنگوں کو پسند کرتے ہیں اور اس کے لیے کسی نہ کسی طریقے سے اپنے آپ کو رنگ میں ڈال دیتے ہیں۔ اسی طرح اس فانی دنیا کی خوبصورتی میں مختلف رنگوں کی آمزش دکھائی دیتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ خواتیں کی وجود سے اس کائنات میں رنگ ہے اور اس کائنات کی خوبصورتی کی وجہ وجود زن ہے۔

خواتین ہی معاشرے کی وہ اہم جز ہے جس کے بنا نہ معاشرہ تکمیل ہوتا اور بنی نوع انسان کی اس دنیا میں تنوع خواتیں ہی کی وجہ سے آدم سے لیکر اب تک انسانوں کا رشتہ قائم ہے اور انسانوں کی نسل چل رہا ہیں اور اس دنیا میں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ عورت بےکار ہیں تو یقین جانے میرے خیال میں وہ خود بےکار اور فضول ہیں۔ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر لوگ عورتوں کو گھروں کی لونڈی سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو ان کے حاکم لیکن حقیقی معنوں میں اسطرح سمجھنے اور کہنے والوں نے بنت حواء کو صحیح معنوں میں سمجھا نہیں ہے اور ان کے مقام ومرتبہ سے ناواقف ہیں۔

دنیا کے تمام مذاہب میں عورتوں کے مقام ومرتبہ کسی سے کم نہیں اور ہر کوئی عورت کو اعلیٰ مقام ومرتبہ سے نوازتے ہیں خصوصاً اسلامی نقطہ نگاہ سے خواتین کی اہمیت اور انکے مقام مردوں سے کم نہیں۔ اسلام عورت اور مردمیں کوئی تفریق نہیں کرتا۔ اسلام سے قبل عرب میں جہالت کی انتہا ء تھی کہ اگر کسی کے گھر میں بیٹی پیدا ہوجائے تو انہیں زندہ درگور کردیتے تھے اور لڑکی کی پیدائش کو عیب سمجتھے تھے لیکن ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ نے عرب کے جہالت سے معمور قوم کو ایسے انداز میں تبلیغ کی کہ وہ بھی اس قبیح فعل کو سرانجام دینے سے اجتناب کرنے لگے۔

قرآن مجید میں بھی عورتوں کے حقوق اور انکی اہمیت کےبارے میں سورہ نساء نازل ہوئی۔ یہ سورہ نہ صرف مسلمانوں کیلے مشعل راہ ہے بلکہ دنیاءمیں بسنے والے تمام انسانوں کے لیے راہ نجات ہے۔ دنیاء کے تمام اقوام اور مذاہب کے پیروکار جو بہت سارے معاملات میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں اور اپنے اپنےمذاہب کے اصولوں پر عمل پیرا ہے لیکن خواتیں کے مسائل اور انکے حقوق کے حوالے سے سب ایک ہیں۔ آج یورپ سمیت متعدد ممالک ان خواتیں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے لیے سال میں ایک بار ایک دن کو عالمی دن کے طور پر پوری دنیا میں مناتے ہیں اور معاشرے میں شعور و آگاہی پھیلانے کی بھر پور اقدامات کرتے ہیں اور مختلف تقاریب، کانفرنسز، سمینارزاور دیگر پروگراموں کے ذریعے خواتیں کی اہمیت اور انکے حقوق کی پر چار کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے آقا سرورکونین رحمت دوعالم حضرت محمد عربی نے آج سے چودہ سو سال سے زائد عرصے قبل نہ صرف خواتیں کی اہمیت اجاگر کی بلکہ انکے حقوق وراثت اور دیگر معاملات پوری دنیاکو بتادیئے اور آج مغرب انکے بتائے ہوئے اصولوں کومختلف قوانین کی شکل میں معاشرے میں نافذ کر رہے ہیں۔ اور بے رنگ معاشرے میں رنگ بھرنے میں محوِ عمل ہے۔

اسلامی اصولوں کے مطابق وطن عزیز پاکستان معرض وجود میں آیا اور کلمہ طیبہ کی بنیاد پر دنیا کے نقشے پر ایک الگ ملک کے طور پر ابھرنے والا اسلامی ملک بنا۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قوانین بھی اسلام کے عین اصولوں کے مطابق ہے۔ اس ملک کے قوانین اسلامی قوانین سے متصادم نہیں اور پاکستان کی آئین اسلامی نقطہ نگاہ کے مطابق ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں خواتیں کے حقوق کے تحفظ کیلے خصوصی قوانین بنانے کی ضرورت کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے بہت سارے قوانین وضع کیئے اور قوانیں بنانے کی ضرورت بھی اسلیے ہوتی ہے کہ معاشرہ میں عورتوں کو مردوں کے مقابلےمیں کمتراور کمزور سمجھا جاتاہےاس لیے ضروری سمجھا کہ عورتوں کیلے خصوصی قوانین موجودہوں اور عدلیہ اور انتظامیہ کے تمام ذمہ داران ان قوانین سے واقف ہوں تاکہ انصاف تک رسائی میں خواتیں کی مدد کی جاسکے۔

پاکستان میں خواتین کی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے قوانیں تو موجود ہیں لیکن ان قوانیں پر عمل در آمد ہوتے ہوئے نظر نہیں آتا۔ دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح سال میں دو مرتبہ خواتین کے حوالے سے انٹر نیشنل دن کے طور پر مناتے ہیں ایک مارچ کےمہینے میں عالمی یوم خواتین تو دوسرا نومبر کے مہینے میں عورتوں پر تشدد کے خلاف عالمی دن کے طور پر اور اس دن مقررین اپنے الفاظوں کے ذریعے آسمان سے تارے توڑ لاتے ہیں اور اس دن تمام تر میڈیم صنف نازک کے حوالے سے عقل کو حیران کرنے والی باتیں کرتے ہوئے سننے کوملتے ہیں۔ لیکن زمینی حقائق اگر دیکھا جائے تو کسی نہ کسی طریقے سے اس صنف نازک کو مزید نازک کرنے کیلے حربے استعمال ہورہے ہیں۔ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم صرف مارپیٹ کو ہی تشدد قرار دیتے ہیں حالانکہ تشدد کے بہت سارے اقسام ہیں۔ عورتوں پر تشدد اور ستم اس معاشرےکادردناک المیہ ہے اس سے زیادہ دردناک اور خطرناک المیہ یہ ہے کہ اس تشدداور زدکا ابتداگھر کے ہی منفی رویوں سے ہوتی ہے۔عورت جو ماں ہے، بہں ہے، بیوی ہے، اور، بیٹی ہے اس کے وجود کو پرانے اور بے بنیاد نظریات کی بنیاد پر ظلم کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔عورتوں کی مارپیٹ، گالی گلوچ، بےجا پابندی اور قیود جذباتی اور زہنی دباؤ، بنیادی ضروریات کی غیر فراہمی، لڑائی جھگڑے، بیٹیوں کی زبرسستی شادی سمیت دیگر بہت سارے افعال گھریلوتشدد کےزمرے میں آتی ہے۔اور ایساگھریلو تشدد ہمارے معاشرہ کا شیوہ بن چکا ہے۔

محدوداورجارحیت پسند ذہنیت رکھنے والے لوگ ایسے تشدد سر عام کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔انکے زہن یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ عورت حوا ہے، حوا کی بیٹی ہے جوکہ انسانی نسل بڑھانےکی ذمہ داری رکتھی ہے۔عورت مریم ہے جوکہ پاکیزگی اور معصومیت کا شاہکار ہے۔عورت زہرا ہے جوکہ اپنے حق کی خاطرستم اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی طاقت رکھتی ہے، عورت زینب ہے جو ہر دور کی یزیدیوں کو للکار تی ہے، عورت کے دم سے ہی قومیں ترقی کرتی ہیں۔ عورتوں پر ظلم وستم نہ صرف معاشرتی اور قانونی لحاظ سے غلط ہے بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی غلط ہے۔اور اسلامی نقطہ نگاہ سے بھی غلط اور ان کے اصولوں کے منافی ہے۔ اکثر واقعات کے ابتدا گھریلو ماحول سے ہوتی ہے اور یہ گھریلو تشدد کے زمرے میں آتی ہے۔ علاوہ ازیں غیرت کے نام پر قتل، ملازموں جیسی سلوک، بیٹے اور بیٹی میں تفریق یہ سب گھریلو تشدد سے جنم لیتی ہے۔جس سے معاشرے کا وہ رنگ جس کی بدولت معاشرے میں ہریالی ہوتی ہے ماند پڑجاتے ہیں۔ زیادہ تر اسطرح کے واقعات جہالت اور کم علمی کی وجہ سےہوتی ہے ساتھ محدود پرانے نظریات پر مشتمل ذہنیت کےمرد، جواں غیرت جیسی توہمات کے اسیر ہوتے ہیں گھرکے سرپرست افراد کی جاہلیت اور حقوق نسواں کی بے اعتانی ،غربت وافلاس، لڑکی اور لڑکے کی بناء مرضی شادی، حقوق سے نابلد، بے جاپابندی، گھریلو افراد کا زیادہ ہونا، عورتوں کو فرمانبردار بنانے کی خواہش وغیر گھریلو ناچاقی کا سبب بن جاتے ہیں اور یہی تشدد کی راہ اپنا لیتاہے۔

انہی ناسور اور اسلام سے متصادم روایات اور رسوم کے خاتمے اور خواتیں کی حقوق کےپر چار اورتشدد سے مکمل نجات دلانے کیلے معاشرے کے اہم بازوق افراد میدان میں کودجاتے ہیں اور خواتین کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئےاسطرح کے معاشرے میں ہونے والے واقعات کے خلاف علم ِبغاوت بلند کرکے کشتیاں جلاکر مہم چلاتے ہیں لیکن ناعاقبت اندیش اور نافہم عناصر اسے بےراہ روی کا ٹائٹل دیکر انہیں بھی روکنے اور دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں اسطرح کے کام سے رکوانےکیلے معاشرے کے اہم افراد کا سہارا لیتے ہوئے کئی اقسام کے خود ساختہ اصول اپنالیتے ہیں اور اسطرح ان کی آوز دبا دیتے ہیں۔ حالانکہ اسطرح کے سوشل ورکرز اپنی تمام تر وسائل انہی کاموں پر خرچ کرتے ہوئےمعاشرے سے ناہمواریوں کے خاتمے مرد عورت کی یکسانیت اور طبقاتی نظام کو دفن کرنے کیلے جدوجہد کرتے ہیں۔ انہیں حوصلہ دینے اور انکے کاموں کی تعریف کے بجائے اں پر الزام تراشی اور معاشرہ بگھاڑنے والوں میں شامل کرتے ہیں۔ ایسے میں آج کی اس ترقی یافتہ دور میں ہم کس منہ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔ اس رنگ کو تو ہم بے رنگ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی آزادیاں اور حقوق آئے روز ہم ان سے چھین رہے ہیں۔ انہیں مختلف رسومات میں جکڑنے اور بے جا معاشرتی پانبدیوں کے زریعے ان کی قابلیت اور ذہانت کا گلا گھونٹ رہے ہیں، کسی بھی فیصلہ سازی میں انکی رائے اور مشورہ کو اہمیت نہیں دی جاتی، یہاں تک ایوانوں میں جہاں پڑھےلکھے اور قوم کی سرپرستی کرنے والےجاتے ہیں وہاں بھی اس صنف نازک کی کوئی عزت و احترام باقی نہیں رہتی، تو پھر کس وصف کے بنا پرہم دعویدار ہیں کہ اس کائنات کی رنگ میں خواتیں کا کردار ہے؟ ان کے کردار اور خوبصورتی کی رنگ کو تو ہم نے روند ڈالے ہیں اس کے باوجودبھی ہمارا یہ دعویٰ غلط نہیں ہے تو پھر کیا ہے ۔الله ہم سب کو ہمارے قول وفعل میں تضاد نہ کرنےاور ہر کسی کے ساتھ انصاف و انسانیت کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔