شنٹا قاعدہ ۔۔۔ شاید صورت پرواز ہی پرواز بن جائے

محمد الكوهستاني‎

رنگوں اور زبانوں کا تنوع ہو یا فکر ونظر کا اختلاف ، قدرت الہیہ کی بے مثل ہونیکی نشانیاں ہیں ، قرآن پاک کے 21 پارے میں اللہ تعالی نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایاہے، اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک تمہارے زنگوں اور زبانوں کا اختلاف بھی ہے !

بلکہ سچ پوچھیئے تو اس فانی کائنات اور حیات مستعار کا حسن ہی اختلاف میں ہے ، یہ رات کے اندھیرے کا چھاجانا ، ستاروں کا ابھرنا ، ڈوبنا ، وہ سپیدہ سحر کا طلوع ہونا ، یہ بہاروں کی اٹھکیلیاں تو وہ خزاں کا – کل من علیھا فان – ( اس کائنات کی ہر چیز فانی ہے ) کا اعلان کرتے آنا ، یہ گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ وہ سردیوں کی یخ بستہ ہوائیں ، بچپن کی شرارتیں ، لڑکپن کی سرگرمیاں ، شباب کی اچھل کود اور بڑھاپے کے نشیب وفراز ، ذرا سوچیئے اگر ساری زندگی صرف ایک موسم ، ایک ہی وقت ، ایک رنگ ، ایک ہی زبان یا ایک ہی منظر ہوتا تو زندگی کا کیا لطف باقی رہ جاتا ؟ اسی ابدی حقیقت کو قرآن کریم یوں بیان کرتاہے ارے بتاؤ تو سہی کہ خلاق عالم تمہارے پر سیاہ رات کی چادر تن دے تو کون ہے وہ جو تمہیں ، دن کی روشنیاں عطاکرے ؟ سنتے نہیں ہو تم ؟ اور اگر رب کائنات ہمیشہ کیلئے تمہارے اوپر دن ہی رکھے ، تو ہے کوئی جو تمہارے لئے سکون آور رات دلا سکے ؟ دیکھتے نہیں ہو ؟ اور یہ اسی کی بے پناہ رحمتوں کی ایک جھلک ہے کہ اس نے تمہارے لئے دن کے اجالے بھی دیے تو رات کے اندھیرے بھی ، تاکہ تم ( رات میں ) آرام اور (دن میں ) کام کرسکو ، اور پھر اپنے رب کا شکر بجا لاسکو ( القصص 71-73)

شنٹا اگرچہ میری مادری زبان نہیں ، اور نہیں – بچپن سے باپہ سفر رہنے کے سبب – اچھی طرح بول سکتاہوں ، لیکن جہاں میں نے آنکھ کھولی ، میرے ارد گرد ، شنٹا بولی ، سنی اور گائی جاتی تھی ، اور ہے ! اس لئیے اگرچہ میں شنٹا قاعدہ کی تکنیکی ، ادبی حیثیت پر کوئی تبصرہ کرنے سے تو قاصر ہوں ، لیکن اس کی حلاوت ، چاشنی نہ صرف محسوس کرسکتاہوں ، بلکہ کھبی کھبار سن کر وجد سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ، اور یہ تمنا بھی کرتا ہوں کی شنٹا کی محبتوں کا یہ درخت سدا پھولتاپھلتا رہے !

یہ ایک حقیقت ہے کہ جب کسی قوم کو سیاسی اور معاشی غلبہ حاصل ہوجائے ، تو اس کا اثر صرف ان دو میدانوں تک باقی نہیں رہتا ، بلکہ زبان ، کلچر سے لیکر – ضعیف الفکر لوگوں – کی سوچ تک کو مغلوب کردیتاہے ، سوسال سے کچھ اوپر ہونے کو ہے کہ قوم رسول ہاشمی ﷺ سمیت جن جن قوموں کے گلستان میں خزاں کا راج ہے ، تب سے ان کے کلچر ، طور طریقوں سے لیکر زبانوں – بلکہ افسوس کے ساتھ کہوں تو- سوچ و فکر تک – کی عملداری مسلسل سکڑتی چلی جارہی ہے ، مغرب کی زبان و تہذیب کا وہ طوفان چل پڑا ہے کہ اس کے تھپیڑوں کے آگے ، زبانیں ، ثقافتیں اور تہذ یبیں دونوں ہاتھوں سے تھام تھام کر بھی اپنی دستاریں ہی نہیں ، خالی وجود – بلا جبہ ودستار- بچانے میں کامیاب نہیں ہوپارہی ہیں ، ایسے میں بیچاری شنٹا سے کیا گلہ اور کیسا شکوہ کیا جاسکتا ہے ؟ ، کیونکہ ایک تو اس بیچاری شنٹا کو جو اماں ملی تو کہاں ملی ؟ کے تحت پہاڑوں کی چٹانوں پر گزارا کرنے والے ایسے چند نفوس کی ماں بولی ہونے کا موقعہ ملا کہ جن کے پاس ، تعلیم ، صحت ، و دیگر بنیادی سہولتیں تو رہیں ، وہ اپنی پوری سیاسی شناخت تک کو ترس رہے ہیں ، لیکن اس باوجود بھی صد آفرین اور محبت بھرا سلام ماں بولی کے ان غیرت مند اور وفا سرشت فرزندوں پر ، جنہوں نے اپنے اس تہذیبی فریضہ کو بھلایا نہیں ، بلکہ اس کی حفاظت کی مختلف صورتوں میں مسلسل کو شش کرتے رہے ، اس فرق کے ساتھ کہ کسی نے اس کیلئے زبان سے کام لیا تو کسی نے آواز سے اور کسی کے حصہ میں قلم چلانا آیا ۔

کافی سال قبل ضلع غذر داماس کے ایک دوست ، ٹیچر اور حکیم مولانا جاوید اقبال نے جب اپنے ایک رسالہ ” شنٹا سوینو موری ” ( شنا اقوال زریں ) پر کچھ لکھنے کا اصرار فرمایا ، تو اس وقت اپنی شنا نا آشنائی کے اعتراف کے ساتھ یہ لفظ بے اختیار نوک قلم سے نکلا تھا کہ ” دم توڑتی شنٹا ” کو بچانے کی ایک کاوش ہے ، لیکن 2017 کا سال امید ہے کہ شنٹا کیلئے نئی زندگی کا سال شمار ہوگا ، لوکل حکومت ، اور تعلیم یافتہ شنٹا شناس قابل افراد کی محنتیں اہستہ آہستہ اپنا رنگ دکھارہی ہیں ، مقامی زبانوں کی حفاظت پر قانون سازی ، شنٹا قاعدے کی ترتیب سے لیکر تدریس کے فیصلوں تک ، کافی سارے اہم مراحل طے ہوچکے ہیں ، اس پر موجودہ گورنمٹ ، اور شنٹا کیلئے کام کرنے والی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے ۔

اللہ کرے کہ ان سب کی یہ کاوشیں خوب کامیابیوں سے ہمکنار ہوں ۔

میری ارباب اختیار ، سمیت ان تمام اھل قلم اور اھل علم سے گزارش ہوگی تو وہ اپنی محنتوں کا سلسلہ جاری رکھیں۔

ترس صیاد کو کچھ آچلا ہے ، پھڑ پھڑاتا جا
کہ شاید صورت پرواز ہی پرواز بن جائے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments