حضور کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ

حضور کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ایس ایس ناصری

مدینے کی تاجدار سرکار دوعالم اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ کی ولادت باسعادت پر سب سے پہلے تمام عالم بلخصوص محمد کے چاہنے والوں اوردنیاءِاسلام کی خدمت میں ہدیہ تہنیت پیش کرتے ہیں ۔آج کے دن دنیاسے ظلم وجور اورجہالت کی فضاء ہمیشہ کیلے دفن اور علم و نور ہمیشہ کیلے زندہ و جاوداں ہوئے آج ہی کے دن حق اور سچائی کا بول بالا ہوا اور ناحق ہمیشہ کیلئے نیست و نابود ہوئےاورانسانیت کا پر چار و تفریق ختم کرنے کیلے نظام آج سے ہی مکمل طور پر رائج ہوئے۔

ربیع الاول کے مہینے میں جب مکہ مکرمہ میں حضرت عبدللٰہ اور بی بی آمینہ کے دولت سراء میں جس بچے نے آنکھ کھولی اس بچے نے عرب معاشرہ میں ایک انقلاب برپا کیا اور عرب کے مختلف قبیلوں میں حضرت عبدللٰہ کے گھر پیدا ہونے والے اس بچے کے حوالے سے قیل وقال شروع ہوئے۔ اس بچے نے عرب معاشرے میں پائے جانے والی مختلف رسومات جو اسلام سے متصادم تھے انہیں ترک کرنے اور اسلام کی اصل روح پھیلانے میں بچپن سے ہی کردار ادا کرنے لگا۔عرب کے مختلف قبیلے کے سرداروں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجائی اور ان سے مقابلہ کرتے ہوئے انہیں اسلام کی دعوت دینے کے ساتھ مختلف جو نظام تھے انہیں ترک کرنے اور اسلامی قوانین پر عمل کرنے اور معاشرے میں اسلامی قوانیں کے نفاذ میں بہت سی سختیاں جھیلیں۔آپ کی اسلام دوستی اور اسلام کی پر چار کی وجہ سے آپ کو پتھر کھانے پڑے اور عرب جاہلوں نے آپ سے معاشی و معاشرتی بائیکاٹ کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ ہر لحاظ سے آپ کو تنگ کرنے لگے اور آپکو جھوٹا قرار دینے کے ساتھ آپ پر نعوذوباللٰہ جادو گر کا بھی الزام عائد کیا لیکن آپ نے ان تمام حالات اور باتوں کو نظرانداز کرکے ہمیشہ اخلاق اور برد باری سے کام لیتے ہوئے عرب جاہلوں کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔

آپ صلیٰ اللٰہ علیہ وآلیہ وسلم نے ہمیشہ نرم اور ملائم مزاجی سے اپنی بات پہنچانے اور اپنی مقصد میں کامیابی کیلے دن رات ایک کی۔ آپ کی اس عادت اور برتاؤ کے پیش نظر لاریب کتاب قرآن مجید آپ صلی الله عليه وآلہ وسلم کی ملائمت اور لوگوں سے نرمی سے پیش آنے کی تعریف کرتا ہے۔اور کہتا ہے آپ سخت نہیں ہے، حضور کی زندگی کا جب مطالعہ کریں تو انسانیت کی درس اور ہر زی روح سے نرم وملائم اور خندہ پیشانی سے پیش آنے کا سبق ملتا ہے اورواقعاًیہی اصل زندگی ہےاور جب انسان اپنے آپ کو اعلیٰ وبرتر سمجھنے لگے تو ان سے مغروریت کی بو آنے لگتی ہے اور مغروریت اللٰہ اور ان کے رسول کیلے پسند نہیں۔ عاجزی وانکساری ہی اصل عبادت ہے جس کا ہمیں ہمارے آقائے دوجہاں نے تعلیم دی ہے۔

آپ صلی الله عليه وآلہ وسلم کی زندگی پوری انسانیت کیلے مشعل راہ ہے۔ آج مغربی ممالک کے سائنس دانوں اور دانشوروں نے آپ کی زندگی کا مطالعہ کرکے اور آپ کے فرمودات پر تحقیق کرکے اپنے ملک وقوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کیئے اور ہم جو حضور کے امتی کہلاتے ہیں صرف یہی دعویٰ کرتے رہے اور حضور کے فرمودات اور احادیث پر نہ عمل کیئے اور نہ ہی تحقیق ۔رسوال للٰہ نے تو ہیمں ایمانداری۔ملاوٹ سے پرہیزی، امانتوں کی حفاظت، لوگوں کی دکھ درد میں مدد کرنے کا درس دیا لیکن کاش آج نہ ہم امیں رہےاور نہ ہی صادق، جھوٹ، فریب، مکر، ملاوٹ، دھوکہ دھی ہماری پہچاں بن گئی ہے حالانکہ ہماری پہچان اور جانکاری امیں، صادق، مہذب، ادب اوردیگر بہت سارے خصوصیات تھیں جو ہمارے پیارے نبی نے مسلمانوں کے جھولی میں ڈال دی تھی لیکن ہم نہ ان خصوصیات کی حفاظت کر سکے اور نہ ہی ان امانتوں کو بہتر انداز سے بچا سکے ۔حالانکہ ہمارے سرکار دوعالم نے امانت کے حوالے سے ہمیں تاکید کی تھی کہ امانتوں کو ایسے انداز میں واپس کرو کہ واپس لینے والے سمجھے کہ میں نے اس کے پاس رکھا ہی نہیں تھا یہ تو میرے پاس ہی تھا ۔آپ (ص) کا امیں ہونا اور امانت داری ایسی تھی کہ عرب دور جاھلیت میں آپ کا نام ہی امیں پر گیا تھا۔اور لوگ جس امانت کو بہت قیمتی سمجھتے تھے اسے آپ کے پاس رکھواتے تھےاور مطمئن ہوتے تھے کہ یہ امانت صحیح وسالم انہیں واپس مل جائے گی۔حتیٰ کہ دعوت اسلام شروع ہونے اور قریش کی دشمنی اور عداوت میں شدت آنے کے بعد بھی، ان حالات میں بھی وہی دشمن اگر کوئی چیز کہیں امانت رکھوانا چاہتے تھے تو آکر رسول اکرم کے سپرد کرتے تھے۔

جب رسول اکرم نے مدینہ ہجرت فرمائی تو حضرت علی علیہ السلام کو مکہ میں چھوڑا تاکہ لوگوں کی امانتیں واپس کر سکیں۔آپ کے پاس نہ صرف مسلمانوں کی امانتیں ہوتیں تھیں بلکہ کفار اور آپکے دشمنوں کی امانتیں بھی ہوتیں تھیں ۔اس طرح کے واقعات مسلمانوں کیلے نہ صرف قابل تقلید ہے بلکہ اس پر عمل کرکے اپنے آپ کو حقیقی معنوں میں عاشق رسول منواسکتے ہیں اور دنیاء وآخرت میں سروخرو ہوسکتے ہیں۔رسول اکرم کی زندگی صرف امانت کے حوالے سے نہیں بلکہ ہر لحاظ سے دنیاء کیلے مشعل راہ ہے آپ ہمیشہ اچھے اخلاق کی دعوت دیتے تھے اور ایک دوسرے سے اچھا برتاؤ کرنے کی تلقیں کرتے تھے۔لوگوں کو ہمیشہ اچھی باتوں،یعنی عفو درگزر، چشم پوشی، مہربانی، ایک دوسرے کے ساتھ محبت، کاموں میں پائیداری، صبر، حلم، غصہ پر قابو پانے، چوری نہ کرنے، غیبت سے پرہیز، بدکلامی نہ کرنے، کسی سے نفرت نہ کرنے، اور حسدوکینہ سے دور رہنے کی تلقیں کرتے تھے اور آج امت مسلمہ خضور کی ان افعال و اقوال پر عمل کریں تو یقیں جانئیے پوری دنیاء میں مضبوط اور مستحکم ہوکر ابھریں گے۔اور انہی باتوں سے نہ صرف اپنے آپ میں انقلاب لاسکیں گے بلکہ دوسروں کیلے بھی نمونہ عمل بن سکتے ہیں حضور اکرم کی زندگی سے جو درس ہمیں ملتا ہے اس پر من وعن عمل کرنا اور دوسروں تک یہ بات پھیلا نا صدقہ جاریہ ہےکیونکہ لوگوں کو ان باتوں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔کوئی ایسا زمانہ فرض نہیں کیا جاسکتا جب ان اچھی باتوں کی ضرورت نہ رہے۔لوگوں کو ہمیشہ ان اقدار کی ضرورت رہتی ہے۔

اگر معاشرے میں یہ اقدار نہ ہوں تو ترقی کے اوچ پر ہونے کے باوجود معاشرہ برا اور ناقابل قبول ہوگا۔اسی طرح رسول اللٰہ کی زنگی میں ہمیں عوام دوستی کا بھی ثبوت ملتا ہے۔آنحضرت ہمیشہ لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتےتھے لوگوں کے مابین ہمیشہ ہشاش رہتے تھے۔اور جب تنہاء ہوتے تھے تو آپکا حزن وملال ظاہر ہوتا تھا۔آپ اپنے حزن ملال کو لوگوں کے سامنے اپنے رویہ انور پر ظاہر ہونے نہیں دیتے تھےاور ہمیشہ چہرہ مبارک پر شادابی رہتی تھی۔اور کسی کو بھی پریشان ہونے نہیں دیتا تھا اگر کوئی آپ کے پاس کام لیکر آتا تو آپ ان سےنر می سے پیش آتے اگر وہ کام ناقابل فہم ہے تو آپ انہیں پیار سے سمجھاتے اور اس کام کی نوعیت کے حوالے سے بتاتے یہ ساری باتیں نہ صرف مسلمانوں کیلے مشعل راہ ہے بلکہ پوری انسانیت کیلے زندگی گزارنےکا نمونہ ہے خصوصاً ہمارے حکمرانوں کیلے آقائے دوجہاں کہ زندگی حکمرانی کرنے اور اپنے ماتحتوں سے نمٹنے کیلے ایک بہتریں مثال ہے اور حضور اقدس کی زندکی کے مختلف پہلوں کا مطالعہ کرتے ہوئے بنی نوع انسان کواپنی زندگی گزارنے کیلے ایک بہتریں طریقہِ کار ہے۔اور انہی کو فالو کرتے ہوئے دونوں جہاں میں کامیابی اور سروخرو ہوسکتے ہیں۔تو آئے حضور کے یوم ولادت کے دن سب مل کر عہد کریں کہ ہم اپنی بقیہ زندگی حضور کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے گزاریں گے اور اس سلسلے میں الله تعالیٰ ہمیں حضور اکرم کی نقش قدم پر چلنے کی ہمت اور توانائی کے ساتھ توفیق عطا فرمائیں ۔آمیں یا رب العالمین ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔