چند سابق بیوروکریٹس نے حقیقی متاثرین کے شرعی اور قانونی حقوق پر شب خون مارا، حقیقی متاثرین ڈیم

چند سابق بیوروکریٹس نے حقیقی متاثرین کے شرعی اور قانونی حقوق پر شب خون مارا، حقیقی متاثرین ڈیم

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس ( شہاب الدین غوری) حقیقی متاثرین ڈیم سونیوال قبائل و قدیم باشندگان چلاس کے سرکردہ رہنماؤں سربراہ سونیوال قبیلہ حاجی عبدالعزیز ، مولانا عثمان ، مفتی امیر حمزہ ، حمایت اللہ ، حاجی عبدالرحمن ، ریاض اللہ ، حاجی جان عالم ، شیر افضل ، حاجی جہانگیر ، دیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند سابق بیوروکریٹس نے مبینہ رشوت کی بنیاد پر 25 فیصد جزوی متاثرین کو سیاہ و سفید کا مالک بنا کر اصل اور حقیقی متاثرین کے شرعی اور قانونی حقوق پر شب خون مار کر دیامر ڈیم کے عظیم منصوبے کو سپوتاژ کرنے کی سازش کی ۔ حکومت معاہدہ 2010 پر نظرثانی کرکے اس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنائے معاہدہ چونکہ متاثرین ڈیم کے ساتھ ہوا ہے کسی ایک قبیلے کے ساتھ نہیں جبکہ اس معاہدے کے تحت جن لوگوں کو اربوں روپے سے نوازا گیا ہے ان کی اکثریت دیامر ڈیم میں متاثر تک نہیں ہو رہے ۔

انہوں نے کہا کہ چند نام نہاد خود ساختہ سیاسی شخصیات اور غیر متاثرہ اشخاص لوگوں کو ہرپن داس میں پلاٹ کا جھانسہ دیکر گمراہ کر رہے ہیں۔ ہم اس بات کے مخالف نہیں کہ لوگوں کو ہرپن داس میں آباد کیا جائے بلکہ ہم حکومت کو کہنا چاہتے ہیں کہ اگر ہرپن داس میں تمام نالہ جات کے لوگوں کیلئے جگہ بن سکتی ہے تو ان کو پلاٹ فراہم کیا جائے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔ اگر پلاٹ کی فراہمی ممکن نہیں ہے تو ہر نالے میں ان نالہ جات کے لوگوں کو ماڈل ٹاؤن بنا کر بسایا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ عدالتوں سے جلد فیصلوں کی امید نہیں ، لہذا مسائل اور تنازعات کے حل کیلئے غیر جانبدار ثالث مقرر کیا جائے ۔ مفتی اعظم مولانا تقی عثمانی سمیت دیگر جید علما شریعت کے مطابق جو فیصلہ کریں گے وہ ہم قبول کریں گے ۔ حکومت اس مسئلے کو سنجیدہ لے ورنہ حالات سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ کو ہمارے دیرینہ جائز مسئلے سے متعلق سب کچھ معلوم ہے لیکن آج تک صوبائی سیاسی اور انتظامی قیادت نے ہمارے ساتھ مذاکرات کر کے ہمیں اعتماد میں لینا گوار نہیں کیا جو کہ قابل افسوس ہے ۔ ان کے روئیے سے اندازہ ہو رہا ہے کہ یہ صرف ایک اجارہ دار قبیلے کے حقوق اور ان کے ناجائز غیرقانونی اقدامات کو تقویت دینے کیلئے کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ یکطرفہ اور نظرانداز کرنے کی پالیسی سے باز آجائے اور زمینی قانونی اور شرعی جائز حقائق کو مدنظر رکھے ورنہ حالات کی خرابی کی ذمہ دار حکومت ہو گی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔