ہند آریائی زبانوں کا مقدمہ

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

نفسا نفسی کے عالم میں ہند آریائی زبانوں کا مقدمہ کون لڑے گا ؟ اس پر نیویارک سے پشاور تک کانفرنسس ہو رہی ہیں، سیمینار ہو رہے ہیں، مگر بحث کا سرا کسی کو اب تک نہیں ملا۔ گندھارا ہند کو بورڈ اور گندھارا ہند کو اکیڈیمی کے پلیٹ فارم سے پشاور میں منعقد ہونے والی چھٹی عالمی ہند کو کانفرنس اس بحث کی ایک اہم کڑی ہے۔

ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 71 زبانیں ماں بولی کے طور پر بولی جاتی ہیں جنہیں مادری زبان کہا جاتا ہے۔ ان میں سے 27 زبا نیں خیبر پختونخوا ،گلگت بلتستان اور ملحقہ علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔ جن میں سرحد پار کے علاقے بھی شامل ہیں۔ چند زبانیں مثلاََ بلوچی ،براہوی ، دری ،وخی ،پشتو وغیرہ کو انڈو یوروپین زبانوں کی ہند ایرانی شاخ میں رکھا گیا ہے۔ ہنزہ، نگر اور یاسین کی زبان بروشسکی انڈویوروپین سے باہر ہے۔ ماہرین نے اس کی درجہ بندی الگ طرح سے کی ہے۔ پاکستان کی 60یا اس سے بھی زیادہ زبانوں کا تعلق ہندآریائی شاخ سے ہے ان میں سندھی ،کشمیری،پنجابی، سرائیکی ،گوجری،شینا ،کھوار ،بلتی ہندکو سمیت سب زبانیں آتی ہیں۔ موجودہ دورمیں گاوری،توروالی ،کلاشہ،پہاڑی، پا لولہ ،گواربتی ،ڈمیلی وغیرہ پر جو تحقیقی کا م ہو رہا ہے ہند آریائی زبانوں کی نسبت سے ہو رہا ہے۔

ماہرین لسانیات کے نزدیک یہ ایک معمہ ہے کہ ہند آریائی زبانوں کا ادبی اور ثقافتی ور ثہ اپنوں کی جگہ غیروں نے کیوں محفوظ کیا ؟ ایک سیمینار میں ڈاکٹر احسن واگھا نے اس پر نئے زاویے سے روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ نوآبادیاتی دور سے پہلے مقامی حکمرانوں کی زبان بھی وہی تھی جو عوام کی زبان تھی اس وجہ سے لو ک ادب اور ثقافتی ورثہ خودبخود محفوظ ہو تا تھا۔ لو ک گیت ،تھیڑ اور تماشے بھی ہوا کرتے تھے ادب اور ثقافت کو خطرہ نہیں تھا۔ نو آبادیاتی دور میں حکمرانو ں کی زبانیں با ہر سے درآمد ہوئیں اس لئے مادری زبانوں کو خطرہ پیدا ہوا۔ بیرونی حکمرانوں نے اپنے مفاد میں مقامی زبانو ں میں دلچسپی لی۔ حکمرانی کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لئے اس قسم کے اقدامات کی ضرورت تھی۔ انگریزوں نے مقامی زبان میں امتحان پاس کرنے والے افیسروں کے لئے خصوصی الاونس مقر ر کیا اس کام کے لئے حروف تہجی اور رسم الحظ کو رواج دیا۔ انہوں نے مقامی زبانوں پر تحقیق کے لئے فنڈز مقرر کیا۔ تحقیقی سر گرمیوں کی حوصلہ افزائی کا انتظام کیا اور مقامی زبانوں میں لکھنے پڑھنے کو رواج دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بر صغیر پاک ہند کی زبانوں میں تحقیق کا بانی کوئی مقامی دانشور نہیں سب کے سب غیر ملکی دانشور ہیں۔

جہاں تک پاکستان میں ہند آریائی زبانوں کو ملنے والے مواقع اور ان زبانوں کی ترقی وتریج کا تعلق ہے ان میں سب سے اولیت سندھی زبا ن کو حاصل ہوئی۔ سندھی زبان میں نصاب سازی اور تعلیم وتدریس کا عمل 1903 ء میں شروع ہوا۔ گویا سندھی میں نصاب سازی کو سوا سو سال ہونے کے قریب ہے جبکہ ہند کو میں نصاب سازی کا کام ابھی ابتدائی مرحلے سے آگے نہیں بڑھی۔ تعلیم وتدریس کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس مرحلے پر زیر بحث یہ بات ہے کہ پاکستان میں ہند آریائی زبانوں کا مقام کیا ہے؟ اور ان زبانوں کا مسقبل کیا ہے ؟ اس پر سب سے زیادہ بحث جنوبی پنجاب میں ہوتی ہے جہاں سرائیکی دانشوروں کی ایک موثر لابی (Lobby) مادری زبانوں کو آئینی حقوق دلوانے کے لئے کام کررہی ہے اس لابی کو عموماََ قوم پرست لابی کہا جاتا ہے اور اقتدار کے ایوانوں پر زیادہ تر سر مایہ دارو ں کی مضبوط گرفت ہونے کی وجہ سے یہ تحریک غریب عوام،مزدور،کسان اور پسے ہوئے طبقے کی تحریک سمجھی جاتی ہے۔

گزشتہ چند سالوں سے یعنی دو عشروں پر محیط عرصے سے خیبر پختونخوا ،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے اندر بھی ہند آریائی زبانوں کے بولنے والوں کی موثر آواز سنائی دینے لگی ہے اور اس آواز کو اقتدار کے ایوانوں تک لے جانے کے ساتھ میڈیا میں لانے اور پالیسی سازوں کی توجہ حاصل کرنے میں گندھارا ہند کو بورڈ ،فورم فارلینگویج انی شے ٹیوز (FLI) اور گندھارا ہند کو اکیڈیمی نے نمایاں کردار ادا کیا۔ خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مخلو ط حکومت نے2012ء میں پشتو کے ساتھ ساتھ4 ہند آریائی زبانوں کو بھی جماعت اول سے بارھویں جماعت تک نصاب میں شامل کرنے کابل اسمبلی سے پاس کیا اس کے لئے نصاب سازی کا کام مکمل کر وایا اور خیبر پختونخوا کی مادری زبانوں کے لئے لینگویج اتھارتی کے قیام کا بل بھی پاس کیا۔ مسلم لیگ کی حکومت نے مارچ2015 ء میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سامنے مادری زبانوں کیلئے قانون کا مسودہ تیار کیا جس میں بروشسکی اور 21 ہندآریائی زبانوں کو قومی زبا ن کا درجہ دینے کی سفارش کی گئی۔ اب تک یہ بل اسمبلی کے ایوان میں پیش نہیں ہوا۔ ماریہ میمن نے اس بل کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیاتھا۔ عرفان صدیقی نے اس بل کو سردخانے میں ڈالنے کے لئے اہم کردار ادا کیاہے۔

اسی طرح نومبر 2017ء میں گلگت بلتستان کی حکومت نے بھی مادری زبانوں کی ترقی کے لئے ایک الگ ادارے کے قیام کی منظوری دی ہے۔ ان تمام اقدامات کو منطقی انجام تک پہنچانے اور ان کے ثمرات کو عام کرنے لے لئے موثر تحریک کی ضرورت ہے۔ گندھارا ہند کو بور ڈ اور گندھارا ہند کو اکیڈیمی نے ہند آریائی زبانوں کو ان کا جائز مقام دینے کے لئے جو کام کیا ہے وہ لائق ستائش ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments