میرا امام تیری عظمتوں کو سلام

تحریر:۔ دردانہ شیر

جس طرح سورج کی شعاعوں کو کف دست میں سمیٹنا ممکن نہیں اور جس طرح آبشارکو ہاتھ کی دیوار سے روکا نہیں جاسکتا ۔۔۔۔ایسے میں میرے امام کو ۔۔۔۔لفظوں اورحرفوں کے اور لہجوں کے سانچوں میں اتارنا ممکن نہیں ۔۔۔۔کہ میرے امام نے امامت کے انتہائی ذی قدر منصب کو خد مت کے سانچے میں اتار دیا ۔۔۔۔۔۔اور آج نصف صدی بیت گئے ہیں اور میرا امام کا ڈائیمنڈجوبلی منایا جارہا ہے کہ میرا امام انسان سے انسان تک کے سفر پر گامزن ہے اس کی سوچ اور اس کے عمل کا دائرہ بے حد و بے کنار ہے ایک امڈتے ہوئے چشمے کی صورت ،اس کافیضان ،وہاں وہاں تک پھیلتا چلاجاتاہے جہاں جہاں تک اس کی ضرورت ہوتی ہے فرض منصبی کی ادائیگی کے ضمن میں وہ انسان سے اس کی ضرورت پوچھتا ہے اس کی مسلک اور اس کا مذہب ،اس کی ملت اور اس کی نسل دریافت نہیں کرتا اس کا موضوع فکر اور موضوع عمل انسان ہے اور فکر وعمل اس آفاقی موضوع نے اسے کائنات کی وسعتوں تک وسیع کر دیا ہے ۔۔۔۔وہ شجر سایہ دار کی صورت ہے اور اس کے ارد گرد کوئی دیوار نہیں ،جو اس کی چھاوں میں اور تھکے ہارے انسان میں حائل ہوسکے ہم نے اس سے پھول سے تشبیہ دینا چاہی مگر پھول کے رنگ اڑ گئے اور خوشبو بکھر گئی اس سے سورج کہنا چاہا مگر سورج لحظ بہ لحظ ڈھلتا چلا گیا اس سے موسم گل کہنا بھی روا نہیں موسم گل کی عمر مختصر ہے ۔۔۔۔۔وہ ایک طلسم کدہ ہے اس کے جمائے ہوئے رنگ کبھی اڑنے کے لئے نہیں، اس کی بکھیری ہوئی خوشبو ،کبھی سمٹنے کی نہیں اور اس کی پھلائی ہوئی روشنی کبھی ماند پڑنے کی نہیں۔۔۔اﷲنے اس سے اپنے پورے امکانات کے اظہار کی توفیق دی ہے اسے عزت ،دولت اور شہرت ورثے میں ملی اور اس نے اپنے سارے ورثے کو خدمت کی لڑی میں پروکر لافانی بنا دیا وہ عظیم سلسلے کا عظیم فرد ہے مگر بے حد جدا ور بے حد نمایاں اس کی ترتیب دئیے نظام میں بلا کی جاذبیت ہے وہ ضرورت سے کام کا آغاز کرتا ہے اور بتدریج اس سے سہولت لے جاتا ہے معاشرے کے نظر اندازطبقے اس کا انتخاب نظر ہے دنیا بھر نے اسے بڑے بڑے القابات اور بڑے بڑے اعزازات دئیے اس سے حاکم وقت کا پروٹوکول ملتا ہے اورجہاں جہاں جاتا ہے اس کے استقبال کے لئے سرخ قالین بچھائے جاتے ہیں اور گلاب کی پتیاں بکھیری جاتی ہے ۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔ ،میراامام ۔۔۔۔۔ان تکلفات سے بے نیاز محض انسان کو زندہ رکھنے اور اسے باوقار زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرنے کی تگ ودو میں ہے اور ان دو مقاصد کے لئے اس نے صحت اور تعلیم کو بنیاد بنا کر ایک ایسا نظام متعارف کرایا ہے جس کے اثرات روح در روح زندہ رہیں گے ۔۔۔۔۔اپنے ترتیب دئیے ہوئے پروگرام اور منشور کے تسلسل میں پاکستان کے دور افتادہ خطہ گلگت بلتستان بھی نظر اندازعلاقہ ہونے کے ناطے اس کا انتخاب نظر ہیں ۔۔۔مانا کہ یہ علاقے گوشہ جنت ہیں اور یہاں برف کا سینا چیرتا ہوا گلاب کا پھول اور پتھر کی چھاتی پر رقصاں صنوبر کا درخت بہت بھلے لگتے ہیں اور دنیا بھر سے مشتاق نگاہیں ،انہیں کے طواف کے لئے کشاں کشاں چلی آتی ہیں مگر میرے امام کے لئے یہاں کے گل ویاسمین نہیں یہاں کے گل محمد اور یاسمین بی بی زیادہ اہم اور زیادہ دلکش ہیں اور انھیں اس قابل بنانا چاہتا ہے کہ گلگت بلتستان انکی وجہ جانے اور پہچانے جائیں ۔۔۔۔انسان سے انسان تک کے اس سفر میں شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانوں کے امام کو عالمی برادری ممدوح بنا دیا ہے ۔میر ے امام کی عظمتوں کو سلام۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments