ضمیر کی موت 

تحریر فیض اللہ فراق

معاشرہ بے حسی کی انتہا تک اس وقت پہنچ جاتا ہے جب قدم قدم پر ضمیر کی موت واقع ہوجاتی ہے ضمیر بنیادی طورپر اس باطنی طاقت کا نام ہے جو انسان کی ظاہری شخصیت پر حاوی ہے انسان بعض دفعہ مصلحتوں کے شکار ہو کر ایسے راستوں کا مسافر بنتا ہے جہاں ضمیر اور ظاہری نمائش کے مابین ٹکراؤ کی فضاء پیدا ہوجاتی ہے بہت سارے افراد ایسے بھی ہیں جو باطن سے زندہ رہنے کیلئے ظاہر کو کھو بیٹھتے ہیں جبکہ انگنت ایسے بھی ہمارے سماج کا حصہ ہیں جو ظاہری زندگی کیلئے باطنی زندگی سے محروم رہتے ہیں زندہ معاشروں میں ضمیر کی زندگی اولین شرط ہے اس سے سچائی اپنی بقاء کو یقینی بناتی ہے اچھے اور برے میں کردار کے ساتھ تمیز کرنا،طاقت رکھتے ہوئے انصاف رکھنا ،قوت ہوتے ہوئے اخلاق سے پیش آنا اور ظالم حاکم کے سامنے کشتیاں جلا کر سچائی کا اظہارزندہ ضمیروں کی پہچان ہے بدقسمتی یہ ہے کہ ہم سب ظاہری نمائش کیلئے کردار کو بھلا بیٹھے ہیں ذاتی چند مفادات کے لئے مالش و پالش کے نت نئے طریقے ایجاد کر چکے ہیں اور مصحلت کے نام پر اس حد تک گر چکے ہیں ہمارا باطن بھی ہم سے شرمندہ ہے عجیب منطق ہے ہر آدمی اپنی ذات کیلئے برائی کو بھی اچھائی بنا کر پیش کرتا ہے اور دوسروں کی اچھائی کو محض اس لئے برا بنا کر ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس اچھائی کا تعلق دوسروں سے ہے اچھائی برائی کا معیار ہی بدل گیا ہے نیکی و شر کے آفاقی معیار تبدیل ہو چکا ہے کیونکہ ہرطبقہ و انفرادیت نے زندگی کو چانچنے کیلئے من پسند الگ الگ ترازو رکھا ہوا ہے معاشرے کے اجتماعی رویے دم توڑتے جارہے ہیں اور اس کی جگہ انفرادی افکار جنم لے رہے ہیں انسانی تعمیرمفقود ہو جاتی جارہی ہے سائنس و ٹیکنالوجی کے جدید دور میں چاند تک پہنچنے والا انسان صدیوں بعد بھی اپنے من کی سچائیاں تلاش کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے انسانوں کا ایک ہجوم ہے بڑھتی ہوئی آبادی کے شوروغل میں ہر انسان کوئی نہ کوئی کردار نبھا رہا ہے اور یہ انسان ارد گرد سے غافل ہے دوریوں سے ان کی روابط ہیں ۔جھوٹ فریب کی چمک دمک ہے سچائی جھوٹ کے شور میں دب کر آخری ہچکیاں لے رہی ہے حقیقت پسندی خوداری اور کردار گمنامی کا کمبل اوڑھے اپنی بقاء کے دن گن رہے ہیں بس چرچے ہیں تو مالشی و پالشی کرداروں کے جو وقت کے ساتھ گرگٹ کی طرح بدلتے رہتے ہیں عام آدمی زندگی کی لذتوں سے عاری ہے اور ایسے نامکمل لوگ زندگی کی ظاہر لذتوں کی کشتی میں سوار ہیں جن کے عمل و کردار کی ترازو کاپلڑا بہت ہلکا ہے ۔اقتدار و ایوان بھی غریب و مفلس کی آہ سے بے خبر ہے جبکہ اجتماعی معاشرہ بھی سچ و جھوٹ میں تفریق سے قاصرہے ہر آدمی اپنی بولی بولتا ہے یہ ضمیر اس حد تک مرچکا ہے کہ اپنے گھر میں بجلی و پانی کی سپیشل لائنیں لگا کر ہمسائیوں کے گھروں میں اندھیرا و پیاس دیکھتے ہوئے ہم پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔اپنے بچوں کو معیاری تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہوئے غریب کے بچے کوڑے دان سے کچرا اٹھاتے دیکھ کر ہمیں کوئی احساس تک نہیں ہوتا کسی ظالم کی غیر ضروری حمایت کرتے ہوئے مظلوم کی آہ سے ڈرنے کی بجائے اپنی روش پر تسلسل سے چل پڑتے ہیں ہم مرے ہوئے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ہر چیز بڑی سستی بکتی ہے کہیں الفاظ بکتے ہیں کہیں فن و خطابت کا جوش بکتا ہے کہیں قلم کی بولی لگتی ہے کہیں سوچ کا جنازہ نکل رہا ہے کہیں نظریات فروخت ہورہے ہیں تو کہیں ضمیر کی عدالت نیلامی کا بورڈ سجا کر خریدار کا منتظر ہے ایسے عالم میں سچائی،انصاف ،خوداری اور یقین کا ظہور کیسے ممکن ہے پھرتو بے یقینی اور ناامیدی کی فصلیں کاشت ہوتی رہیں گی اور یہ بنجرزمین سماج اور آنے والی نسلوں کو کیا دے گی۔اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے حالات و واقعات تقاضا کررہے ہیں کہ انسان کو انسانیت سے آشنا کریں سچائی،و انصاف کا علم بلند کریں تاکہ اجتماعی ضمیر دوبارہ زندہ ہو جائے کیونکہ انسان کی موت کی کئی شکلیں ہیں روح کا جسم سے نکل جانا اصل موت نہیں ہے انسان اس وقت حقیقی موت کا شکار ہوگا جب اس کا کردار اور ضمیر مرجائیں گے زندہ ضمیر کی ضرورت انسان کی زندگی سے ہے آج ہم میں ان اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ مصلحتوں سے بالاتر ہو کر سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہہ سکیںیہ بات ہرگز جائز نہیں ہے کہ ہم اپنے ذاتی مفادات اور آسائشوں کیلئے سچ کا دروازہ ہی بند کریں اور یا صرف اس عمل کو سچ مانیں جس سے ہمارا مقصدوابستہ ہو مردہ ضمیروں کی بستی میں منافقت عام ہوتی ہے گلگت بلتستان کا سب سے بڑا مسئلہ بھی منافقت ہے کیونکہ ہمارا اجتماعی سماج ضمیر کی دولت کھو بیٹھا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ مرے ہوئے ضمیر کو جھنجوڑ کر اسے زندگی عنایت کریں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments