جی بی حکومت کی کامیابی اور سوشل میڈیا کے شاہ دولے

ابو احمد

مسلم لیگ کی حکومت کی کامیابی کیا یہ نہیں کہ حکومت پر تنقید کرنے والوں کے پاس شکر الحمد اللہ پیپلز پارٹی کی طرح کرپشن اور نوکریوں کی فروخت کا الزام تو نہیں ۔مسلم لیگ ن کی حکومت کی ڈھائی سالہ کارکردگی پچھلے ستر برسوں پر بھاری ہے ،اس لئے مخالفین کو کچھ نہیں ملتا ہے تو صحافی نما اور سیاسی نما سوشل میڈیا کے شتونگھڑے ،اس بات پر طوفان بد تمیزی برپا کرتے ہیں کہ وزیر اعلی کا پاؤں ریڈ کارپٹ پر اور ہز ہائنس کا پاوں ریڈ کارپٹ سے باہر تھا ،یہ ہے ان کی سوچ کی بلندی کہ ان کی سوچ پاؤں سے اوپر نہیں جاتی ،شکر الحمد اللہ ان شتونگھڑوں کے پاس حکومت کے خلاف اور کوئی مواد نہیں تو اپنی سوچ کی پستی کا اظہار بشری کوتاہیوں کو اجاگر کر کے کرتے ہیں ،ان شتونگھڑوں کی سوچ کا معیار یہ ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے جب یہ لوگ صحافت کا لبادہ اوڑھتے ہیں ،اگر یہ اپنے آپ کو صحافی کہتے ہیں تو اس صحافت کا معیار کیا ہوگا اور قوم کا مستقبل کیا ہوگا زرا سوچئے۔۔۔گلگت بلتستان میں حفیظ الرحمن کے شیدید ترین مخالفین بھی اس بات کا بھر ملا اظہار کرتے ہیں کہ حفیظ الرحمن جیسیا صاحب فراست اور قابل رہنما گلگت بلتستان کی سر زمین نے پیدا نہیں کیا ہے ،حفیظ الرحمن دیانت ،صداقت ،شرافت اور فراست کا نام ہے ،سوشل میڈیا کے شتونگھڑت اور شاہ دولے کے چوہے اپنی تربیت کے عین مطابق حفیظ الرحمن کی کردار کشی کریں تو اس سے حفیظ الرحمن کی شان میں کوئی کمی نہیں آتی ہے کیونکہ قانون قدرت ہے اللہ ہر انسان کو اس کی اہلیت کے مطابق ہی عزت اور اقتدار سے نوازتا ہے ،حفیظ الرحمن کو اللہ نے اس مقام اور مرتبے سے عوام کی تائید سے نوازا ہے ان شاہ دولوں کے چوہوں کی بکواسیات سے ان کی شان میں تو کمی واقع نہیں ہوتی لیکن اس سے معاشرے میں خرابی ضرور پیدا ہوتی ہے اور اخلاقیات کا جنازہ ضرور نکلتا ہے ،اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ تنقید کریں اخلاق کے دائرے میں رہ کر کریں ۔
لوگ کہتے ہیں ترقی نے کئی منزلیں طے کیں ہیں ،میں کہتا ہوں مادی ترقی ترقی نہیں ہوتی جب تک اخلاقی ترقی نہ ہو ،کہنے کو آج ہم دعوی کرتے ہیں کہ ترقی کے دور میں داخل ہو چکے ہیں لیکن صورت حال اس کے برعکس ہے ،مادی ترقی کے پیچھے دوڑ نے ہمیں اخلاقی ترقی کی پستی میں گرا دیا ہے ،اگر اعتبار نہیں تو سوشل میڈیا میں پڑھے لکھے جاہلوں کی گفتگو اور ان کی سوچ کا معیار دیکھیں ۔اللہ کی پناہ ،
یہ کیا ہو گیا،گلگت بلتستان کا معاشرہ تو ایک تربیت معاشرہ تھا جہاں سکھایا جاتا تھا کہ اپنے جان کے دشمن کو بھی اخلاق سے مخاطب کرنا ہے لیکن آج حالت یہ ہے کہ سیاسی اختلاف کے نام پر کوئی صحافی کے روپ میں اور کوئی سیاسی کے روپ میں مغلظات کا طوفان پرپا کرتا ہے ،حکومت سے اختلاف کرنا ہر کسی کا حق ہے لیکن اخلاق اور روایات کے دائرے میں رہ کر ،سوچ کی پستی کا یہ عالم ہوگا کبھی سوچا نہ تھا ۔سوشل میڈیا میں جیسے ہی جائیں ،سلفی کے شوقین صحافی نما اور سیاسی نما ،شاہ دولے کے چوہے اپنی ڈیوٹی پر مامور نظر آتے ہیں ،کچھ دن سے ایک وڈیو ں نظر آرہی ہے جس میں ایک سائل عورت وزیر اعلی سے پیسوں کی مدد کا کہہ رہی ہے اور وزیر اعلی نے موقعہ پر عورت کو فوری طور پر دس ہزار دینے کے احکامات صادر کئے ،سوشل میڈیا کے شتونگھڑوں نے اس کو دوسرا رنگ دیا کہ عورت وزیر اعلی سے اپنے بیٹے کیلئے نوکری مانگ رہی تھی حالانکہ وڈیو میں عورت کی زبان پر نوکری کا لفظ تک نہیں آیا ہے ،عورت پیسوں کا مطالبہ کرتی ہے تو وزیر اعلی عورت سے درخوست طلب کرتے ہیں درخواست نہ ہونے پر زبانی احکامات دیتے ہیں کہ دس ہزار روپے دئے جائیں ،سب کچھ واضح ہونے کے باوجود جھوٹ بول کر عوام میں اضطراپ پیدا کیا گیاس ،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہزار کوشش کے باوجود بھی حکومت کی بیڈ گورننس یا کرپشن کا کوئی ثبوت اکھٹا نہیں کر سکتے ،حفیظ الرحمن نے میرت کی بالا دستی قائم کر دی ہے اس لئے یہ شتونگھڑے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر کھبی عورت کی وڈیو ٹیگ کر کے جھوٹے کمنٹس لکھتے ہیں اور کبھی ہز ہا ئنس کے استقبال کو متنازعہ بناتے ہیں ،تف ہے ان لوگوں کی سوچ کی اس پستی پر ۔اس صورت حال کے بعد یہی کہا جا سکتا ہے کہ بداخلاقی ہمارے معاشرے میں بری طرح سرایت کر چکی ہے۔ہمارا معاشرہ ناکامیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتا چلا جارہا ہے۔اس میں ذ را بھی بہتری نہیں ہو رہی بلکہ صورتحال مزید ابتر ہو رہی ہے۔پڑھے لکھے افراد اپنی سوچ اور تربیت کو واضح کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں اور وہاں اپنی تربیت نمایاں کرتے دکھائی دیتے ہیں جس سے یہ بات سو فیصد درست ثابت ہوتی ہے کہ گدھوں پر کتابیں لاد دینے سے گدھا عالم فاضل نہیں ہو جاتا
ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان میں جہاں کوئی اچھی بات ہوتی ہے تو ساتھ ہی کچھ بری باتیں بھی اس کی شخصیت کا حصہ ہوتی ہیں۔مگر المیہ یہ ہے کہ ہمیں لوگ تب تک اچھے لگتے ہیں جب تک ان کی اچھی ساکھ ہمارے سامنے رہتی ہے اور جیسے ہی ان کی کوئی بری بات یا خامی ہم پر افشا ہوتی ہے ہم پھر فوراً ان کو جانچنے لگتے ہیں۔اور پھر ہماری زندگی میں ایسے کتنے ہی اہم لوگ ہوتے ہیں جن کو ہم اپنی اس سوچ کی بنائپر چھوڑ دیتے ہیں۔ہم خود نہیں بدلتے دوسروں کو بدلنا چاہتے ہیں۔
گلگت بلتستان میں سوشل میڈیا میں شتونگھڑوں کی اس طرح کی اوٹ پٹانگ مہم سے ایک بات واضح ہو گئی کہ حکومت اچھی سمت میں جا رہی ہے اور کامیابی کی منزلیں طے کر رہی ہے اس لئے تو یہ شتونگھڑے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر جھوٹ پر مبنی پوسٹیں کر رہے ہیں ،الحمد اللہ پیپلز پارٹی کی طرح کرپشن اور نوکریوں کے افسانے اس حکومت کے حصے میں نہیں آئے ہیں ۔
۔حاصل گفتگو یہ ہے کہ معاشرے میں تہذیب و تمدن لانے کے لئے ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تب ہی ہمارا معاشر ہ ایک انسان دوست اور اخلاقی اقدار سے مزین معاشرہ بن سکتا ہے اور ہماری شناخت باقی رہ سکتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments