اب تحریک چلے گی ،فائدہ کس کو ہوگا

تحریر: شمس الرحمن شمس

عمران خان ان،جہانگیرک ترین آوٹ ہونے کے بعد ملکی سیاسی صورت حال میں کافی تبدیلی نظر آ رہی ہے ۔۔۔۔ن لیگ اور تحریک انصاف دونوں سیاسی جماعتیں عدالتی فیصلوں سے مطمحن دیکھائی نہیں دے رہی ہیں۔

سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ دنوں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ عمران خان اور میرے کیس میں کوئی فرق نہیں تھا جبکہ عمران خان کو اہل قرار دیا گیا اور ملک کا ایک منتخب وزیر اعظم کو گھر بھیجاگیا اب میں اسی فیصلے کو لیکر عوام کے درمیان جاونگا اور بھر پور تحریک چلاونگا یعنی سادہ الفاظ میں یہ کہا جائے تومناسب ہوگا کہ نوازشریف صاحب نے واضح پیغام دے دیا کہ عدلیہ کے خلاف تحریک چلائی جائے گی۔

میرے خیال میں یہ وہی نوازشریف ہے جنہوں نے یوسف رضا گیلانی کے دور اقتدار میں عدلیہ کی بحالی اور معزز ججوں کو بحال کرنے کے لئے اسلام آباد میں جگہ جگہ جلسے اور دھرنے دئے مگر آج اسی شخص نے عدلیہ کے خلاف تحریک چلانے کی ٹھان لی ہے۔۔۔۔۔۔ اگر ایسا کیا تو نوازشریف کو پہلے عوام سے عدلیہ کی بحالی کی تحریک پر جد و جہد کرنے پر معافی مانگنا ہو گا اسکے بعد عدلیہ کے خلاف تحریک چلانا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ویسے نواز شریف نے اپنی نا اہلی کے بعد جی ٹی روڈ سے اپنے ساتھ کارکنوں کو لیکر لاہور جانے تک ہر جگہے میں (مجھے کیوں نکالا) اور عدلیہ کے خلاف تحریک کا پہلا قسط میں بڑی محنت سے کام کیا مگر کامیابی کی راہ تکتے رہ گئے۔

دوسری جانب میرے سمجھ میں نہیں آ رہاہے کہ اگر نواز شریف عوامی عدالت میں عدلیہ کے خلاف تحریک چلاتے ہوئے جاتے بھی ہیں تو عوام کو کیا کہنگے۔۔۔۔۔۔۔؟ یہی کہ میں نے ملک کی غریب عوام کا پیسہ چوری کیا تھا اس لئے مجھے نکالا گیا ،کیا اس لئے کہ مجھ سمیت میرے وزراء اقامہ لیکر بیٹھے ہوئے ہیں ،اس لئے کہ میرئے بیٹوں کو کرپشن میں پکڑ کر عدالتوں میں حاضر نہ ہونے پر عدالت نے اشتہاری قرار دیا ہے، اس لئے کہ کرپشن کے پیسوں اور اپنی عزت کو بچانے کے لئے اپنا اشتہاری بیٹا حسن نواز کے دفتر میں اپنے حواریوں کے ہمراہ میٹگنز میں سر جوڈ کر بیٹھتے ہیں یا اس لئے کہ مجھے اور میری بیٹی کو ملک سے باہر ناجائز جائیدادیں بنانے پر عدالتوں میں پیشیاں بھگتنا بڑ رہا ہے۔۔۔۔۔۔؟

نواز شریف کے اس اظہار خیال کے بعد اس کا لب لباب یہ ہے کہ کرپشن کرنا میرا حق ہے، پیسوں کوغیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر بھی لے جاسکتا ہوں اور عدلیہ مجھے چھوٹ دیں۔۔۔۔۔ اگر چہ ان تمام تر حقائق کے باجود اگر نواز شریف اپنا چہرہ لیکر عوام کے درمیان جا تا ہے توسوال یہ ہے کہ کیا اس کا بھائی شہباز شریف ان کا ساتھ دینگے۔۔۔۔۔۔؟ انہوں نے بارہا کہا کہ میں عدالتی فیصلوں کا احترام کرتا ہوں جب نواز شریف کی نا اہلی کا فیصلہ آیا تو شہباز شریف نے کھل کر کہا کہ ہمیں ضرور عدالتی فیصلوں کا احترام کرنا ہے۔۔۔۔۔ جب عدالت نے اس کی اپنی فیصلہ سنایا تو انہوں نے کہا کہ عدالت نے آج تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔

گزشتہ دنوں جب عمران خان نے کے حق میں عدالت نے فیصلہ سنایا تو انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کا ہمیں ضرور احترام کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔نواز شریف کو تحریک چلانے سے پہلے ہزار بار سوچھنا ہوگا اور اپنے قریبی ساتھیوں سے مشاورت کرنا ہوگا کہی ایسا نہ ہو کہ رہی سہی عزت بھی ختم ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔ دوسری جانب عمران خان نے جہانگیر ترین کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ جہانگیر ترین کے خلاف فیصلہ آیا ایک طرف عدالت پر تنقید کیا تو دوسری طرف نواز شریف کی عدلیہ خلاف تحریک چلانے کے اعلان پر اپنے خطاب میں کہا کہ نواز شریف بزدل انسان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ تحریک نہیں چلا سکتے ہیں۔۔۔۔۔ اگر عدلیہ کے خلاف تحریک چلا لیتے ہیں تو میں عدلیہ کے حق میں تحریک چلاونگا اب ایک طرف سے عمران خان عدلیہ کے حق میں تحریک چلائے گا دوسری جانب نواز شریف عدلیہ کے خلاف تحریک چلا ئے گا۔۔۔۔۔۔ تو یاد رکھنا اس تحریک سے نہ تو ن لیگ کو کوئی سیاسی فائدہ ہوگا اور نہ ہی تحریک انصاف کو کوئی سیاسی فائدہ ہوگا۔ یہاں ایک بہت بڑا نقصان ضرور ہو گا وہ ہے ملک کی اعلیٰ عدلیہ کا نقصان ہے ۔۔۔۔۔عدلیہ سیاسی لوگوں کی تقرریوں کا سبجیکٹ بن جائے گا اور ہمارے ملک کے انصاف کے ادارہ بہت متاذعہ ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments