غذر: ٹیکس کے خلاف شٹرڈاون، کاروبار زندگی مفلوج، میڈیکل اسٹوز بند ہونے سے مریضں پریشان

غذر (بیورو رپورٹ ) مر کزی انجمن تاجران اورعوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف شٹر ڈاون ہڑتال غذر میں تمام میڈیکل اسٹوز بھی بند مریض دوائی کے حصول کے لئے مریضں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور، مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا۔ بار بار کے ہڑتال اور حکومت کی طرف سے خاموشی پر عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے مگر تاحال حکومت کی طرف سے اقدامات نہ اٹھانے کی وجہ سے پورے خطے کے عوام پریشان ہیں۔

غذر میں بھی حکومت کی طرف سے لگائے گئے ٹیکس کے خلاف مکمل شٹرڈاون ہڑتال کی وجہ سے کاروبار زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔ ضلع کے تمام نجی بنک بند ہونے سے صارفین جو دور دراز کے علاقوں سے رقم نکالنے گاہکوچ آئے تھے بنکوں اور ا ے ٹی ایم بند ہونے سے مایوس گھروں کو لوٹ گئے جبکہ دوسری طرف سڑکوں پہ ٹرانسپورٹ بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ ہوٹلوں کی بندش سے مسافروں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ غذر کی چاروں تحصیلوں میں بھی انجمن تاجران کی اپیل پر مکمل طور پر شٹرڈاون ہڑتال کی گئی اور مکمل طور شٹر ڈوان ہڑتال سے علاقے میں کاروبار زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔ علاقے میں تمام میڈیکل سٹورز بھی بند ہیں اور مریضوں کو دوائی تک نہیں مل رہی ہے بچوں کو دودھ لینے والدین دکانوں کا رخ کرتے ہیں مگر شٹرڈوان ہڑتال کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو دودھ تک نہیں خرید سکتے۔

دوسری طرف عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹیکس کے خاتمے کے لئے عوام کے احتجاج اور شٹر ڈاون ہڑتال پر حکومت کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی جس باعث حکومت ہڑتال ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکمران خود ہڑتال ختم کرانے کے حق میں نہ ہوجو ٹیکس گلگت بلتستان کے عوام پر لگایا گیا ہے یہ موجود ہ حکومت کے لئے بہت مہنگا پڑے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ پہلے گلگت بلتستان کے عوام کو ائینی حقوق دیا جائے پھر ٹیکس کی بات کی کی جائے دوسری طرف انجمن تاجران کی اپیل پر غذر کی چاروں تحصیلوں میں مکمل طور پر شٹرڈاون ہڑتال کی وجہ سے کاروبار زندگی مفلوج ہوکر رہ گیاہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments