چترال : ظالمانہ فیصلے کو واپس نہ لیا گیا تو ضلعے بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگا اور تاریخی دھرنے دئیے جائیں گے، الحاج عیدالحسین

چترال (نمائندہ ) عوامی نیشنل پارٹی کے صدر الحاج عید الحسین نے چترال سے صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں کمی کو مسترد کرتے ہوئے اسے چترالی عوام کے ساتھ سنگین مذاق اور ظلم قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ اگر اس ظالمانہ فیصلے کو واپس نہ لیا گیا تو ضلعے بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگا اور تاریخی دھرنے دئیے جائیں گے جبکہ آئندہ عام انتخابات میں بھی حصہ نہیں لیں گے۔

ہفتے کے روز چترال پریس کلب میں پارٹی کے دیگر رہنماؤں میر عباداللہ، حاجی شیر آغا، سید مظفر جان، سید عابد جان، شوکت جان، شہزادہ ریاض ، ابراہیم جان اور دوسروں کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چترال سے صوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ کا چھن جانا یہاں کے منتخب نمائندوں کی ناکامی ہے جبکہ اس ضلعے میں موجود مختلف چھ سیاسی جماعتیں بلدیات سے لے کر صوبہ اور مرکز سطح پر حکومتوں میں ہیں لیکن ان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ اس ظالمانہ فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کرنے کی بجائے اب محض اخباری بیانات دینے اور اپیل کرنے پر لگے ہوئے ہیں جبکہ عوام نے ان کو اپنے ووٹ کی طاقت دے کر انہیں اسمبلی کی نشستوں پر بیٹھا دیا ہے۔ حاجی عیدالحسین نے مردم شماری کے نتائج کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہاکہ چترال کی آبادی وہ نہیں ہے جوکہ دیکھائی گئی ہے اور جس کی بنیاد پر صوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ چترال سے چھین لی گئی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ چترال کی آبادی بہت پہلے پانچ لاکھ سے تجاوز کرگئی تھی اوراس میں بڑی بے قاعدگی چترال کے ان باشندوں کا یہاں شمار نہ کرنا ہے جوکہ ضلعے سے باہر مقیم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اے این پی کسی بھی طور پر چترال کے ساتھ ہونے والی اس ذیادتی پر خاموش نہیں رہے گی اور اس سلسلے میں سب سے پہلی مرتبہ اسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے سیٹ کے خاتمے پر آواز بلند کی گئی تھی اور فخر افغان باچا خان کے پیروکار ہی اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچاکر اور سیٹ کو بحال کرکے دم لیں گے۔ اس سے قبل اے این پی کے سینکڑوں کارکنان نے حاجی عیدالحسین کی قیادت میں شاہی بازار سے ایک احتجاجی جلوس نکالا جوکہ چترال پریس کلب میں احتتام پذیر ہوئی جس میں شرکاء صوبائی اسمبلی کی سیٹ کی بحالی کا مطالبہ کررہے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments