میں بھی ایک انتہا پسند ہوا کرتا تھا

شیرجہان ساحل

ہمارے معاشرے میں روشن خیال طبقے کا یہ خیال ہے کہ انتہاپسندی ایک ناسور ہے اور ہمارے معاشرے میں اسکا ذمہ دار ہمارے مدارس ہیں جہاں بچوں کو انتہاپسندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اور ملک میں انتہاپسندی بڑھ جاتی ہے اور ان انتہاپسندوں کو دہشت گرد باآسانی اپنے پلید عزائم کیلئے استعمال کر تے ہیں اور یہ ہمارے لئے انتہائی خطرناک صورت حال ہے جسے ہمیں سامنا ہے۔ اور یہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک ہم اپنے مدارس سے انتہاپسند نصاب کا خاتمہ نہیں کریں گے۔ مگر مجھے اس خیال سے سخت اختلاف ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ رائے جسے بنا سوچے اپناتےہیں الٹا ہمارے معاشرے میں انتہاپسندی کو فروغ دینے کا سبب بنتی ہے اور معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہے جو کہ انتہاپسندی کیلئے بطور ایندھن کام کرتی ہے۔ کیونکہ اس رائے کا “کہ انتہاپسندی کا ذمہ دار صرف اور صرف مدارس ہیں” حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔

ہمارے معاشرے میں ایک عام کمزوری یہ پائی جاتی ہے کہ معاشرے کا اکثریت نرگیسیت کے مرض میں مبتلا ہیں اور انہیں دنیا بھر کی اچھائیاں خود کیلئے مختص نظر آتی ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ دنیا و آخرت میں ہم ہی برگزیدہ لوگ ہیں۔

یہ نرگیسیت ہی ہے جو ہمیں خود پسند بناتی ہے اور اس بیماری میں انسان اپنے آپ کو جانچنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتی ہے۔ اور حقیقت ہے کہ انسان اپنے خامیوں پر اس وقت تک قابو نہیں پاسکتا جب تک وہ خود کو نہیں پہچان پاتا اور خود کو پہچانے کیلئے ضروری ہے کہ انسان اپنے اندار جھانکنے کی کوشش کرے اور اپنے اندار پائے جانے والے خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ رہےتاکہ خامیوں کو اچھائی میں بدلنے کا راہ ہموار ہو سکے۔
انسانی زندگی میں کامیابی اُس وقت نہیں آتی اور انسان اپنے مسائل پر تب تک قابو نہ کرسکے گی جب تک اپنے اندر پائے جانے والے برائیوں اور اچھائیوں سے آگاہ نہیں ہوگی۔

اب اتہاپسندی کو دیکھتے ہیں کہ معاشرے کے کون کون لوگ انتہاپسندی کا شکار ہیں اور کیون ہیں۔ یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کے لئے ہمیں خود کے اندار جھانکنا ہو گا اور اخلاقی تقاضا یہ ہے کہ دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے ایک مرتبہ خود کے اندار جھانک کر دیکھیں۔ اس سلسلے میں جب میں اپنے ماضی یعنی کہ سکول اور کالج کے دور کا مطالعہ کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہےکہ سب بڑا انتہاپسند میں خود تھا میٹرک اور انٹرمیڈیٹ تک میرے بھی کئی دشمن ہوا کرتے تھے آرمی آفیسر بننا میرا جنون تھا، شہادت کا میں سخت آرزومند تھا یا یوں کہئے کہ شہادت میری منزل تھی، مذہب اسلام اور مملکت خداداد پاکستان کی خاطر مارنا اور مرنا مجھے بھی اچھا لگتا تھا۔ لڑو، مرو، جھگڑو، ہی وہ سبق تھے جو مجھے میرے نصاب سے سیکھنے کو ملے تھے حالانکہ میں کسی دینی مدرسے کا طالب علم رہا ہی نہیں تھا ۔ میں صرف اور صرف دنیاوی تعلیم کے سکولوں اور کالجوں میں ہی پڑھا تھا جن کے نصاب میں مجھے جینے سے زیادہ مرنے کا درس دیا گیا تھا ۔ محمود غزنوی، محمد بن قاسم، تیمور تاتار میرے رول ماڈل اور ہمارے لازمی مضامین کا حصہ ہوا کرتے تھے ، ابن الہیثم ، ابو ریحان البیرونی ، ابن سینا ہمارے اختیاری مضامین میں ہوا کرتے تھے اور اسطرح میں جینے سے زیادہ مرنے کو ترجیح دینے لگا تھا اور یہ بات آج میرے کھوپڑی میں آنے لگی ہے کہ اگر میں سکول یا کالج کے دور میں کسی دہشت گرد کے ہاتھ لگتا تو یقیناً آج کسی قبرستان کا زینت بن چکا ہوتا، مگر یہ نہ تھی قسمت میں کہ آزروئے شہادت پورا نہ ہو سکی۔

یہ ایک مثال ہے اگر ہم سب آپنے اندر جھانکنے کی کوشش کریں گے تو معلوم ہوگی کہ ہم سب کسی نہ کسی وقت انتہاپسند تھے اور اسکا کارن ہمارے دنیاوی سکول کے نصاب ہیں نہ کہ مدارس۔ اور انتہاپسندی کے اس تعلق کو جو ہمارے سکول اور کالجز سے ملتا ہے، دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری حکومت دراصل انتہاپسندی کے سب سے بڑے پروڈیوسر ہے اور دنیا میں ہمیں انتہاپسندی کا جو طعنہ دی جاتی ہے اسکا کسی حد تک ہم سرکاری طور پر حقدار بھی ہیں۔ کیونکہ مجھے کسی مدارس یا پھر کسی بیرونی جاسوس نے انتہاپسند نہیں بنایا تھا بلکہ میں اپنے سرکاری نصاب پڑھ کر انتہاپسندی کے راستے پر گامزن تھا۔ اور مجھ جیسے کروڑوں نوجوان ایسے ہیں جو نہ چاہتے ہوئے بھی اس راستے پر گامزن ہیں۔ اور انہیں چاہیئے کہ اپنے اندر جھانکیں اور اس راستے سے علحیدگی اختیار کریں۔ اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اس راستے سے نکل چکے ہیں خود کو آزاد خیال تصور کرتے ہیں اور انتہاپسندی کے سخت مخالف بھی ہیں ، انھیں چایئے کہ وہ یاد رکھین کہ زندگی کے ایک موڑ پر وہ بھی انتہا پسند ہوا کرتے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments