2017 کا آخری مشاعرہ اور معاشرہ

احمد سلیم سلیمی

2017 کا آخری مشاعرہ بھی خیر سے گزر گیا ۔ جمعے کے دن، باہر دسمبر کے آخری دنوں کی ڈھلتی سہ پہر کی نرم گرم دھوپ کی کرنیں دریائے گلگت کی موجوں پہ مچل رہی تھیں ۔اندر ریویریا کے ہال میں حلقہ اربابِ ذوق کا ماہانہ مشاعرہ،ندم اکھڑتی رونقوں کے ساتھ بپا ہورہا تھا۔ یہ اس سال بھر کی ادبی سرگرمیوں کا بھی تمّت بالخیر تھا ۔ سر گرمیوں سے یہ نہ سمجھیں کہ خدا نہ خواستہ گلگت میں ادبی سرگرمیوں نے ہنگامہ مچا رکھا تھا۔جیسے دلی اور لکھنو کا ماحول بن گیا تھا۔ہر طرف شعر و ادب کی باتیں ہورہی تھیں ۔علمی ادبی مباحثے ،مذاکرے اور مکالمے ہورہے تھے۔ہر مہینے کو ئی نئی تحقیقی اور تخلیقی کتاب منظر عام پہ آرہی تھی۔ریڈیو اور ٹی وی کے مقامی چینلوں میں شعر و ادب کے پروگرام نشر ہورہے تھے۔۔۔۔نہیں صاحب !
ایں خیال است و محال است و گماں است

وہی حلقہ اربابِ ذوق کی ماہانہ مشاعراتی محفلیں ۔۔۔وہی گِنے چُنے درجن بھر شعرا کی اکتائی اکتائی سی خوش ذوقیاں اور غزلیں ۔۔۔وہی ایک دوسرے کے اشعار پر کبھی دل سے، کبھی مروّت سے داد ۔۔۔وہی چھوٹے سے شعر پر بھی تحسینِ سخن ناشناس ۔۔۔وہی چُٹکلے ،وہی باتیں ،وہی چائے اور پھر۔۔۔اللہ اللہ خیر سلّا!

یہ بھی غنیمت ہے ۔ یہ دنیا بہت تیز ہوگئی ہے۔اس کے رویے بہت رنگ بدل رہے ہیں ۔ان بدلتے رویوں میں شعر و ادب او ر علم و دانش کے لیے گنجائش بہت کم ہے۔ورنہ ہر طرف ایک افراتفری ہے ۔ایک دوڑ لگی ہے ۔سڑکوں، بازاروں ،تعلیم گاہوں اور اونچے ایوانوں تک ہر کوئی بھاگ رہا ہے۔ کوئی کچھ پانے کو دوڑ رہا ہے۔کوئی پھر پائے ہوئے کو کھونے سے بچانے کی فکر میں غلطاں و پیچاں ہے۔کوئی، مزیدکی لالچ میں اخلاقی ،سماجی اور مذہبی قدریں پامال کر رہا ہے۔جسے نہیں مل رہا وہ سب کو صلواتیں سنا رہا۔ سب کو کرپٹ اور بے ایماں قرار دے رہا۔ مل جائے تو وہ بھی بہتی گنگا میں پورا کا پورا ڈوب جانے کو تیار ۔۔۔تعلیم اور تدریس کے پودے ہر طرف بہار دکھلاتے ہوئے، مگر علم و دانش اور فن پہ جیسے پت جھڑ کا سماں چھایا ہوا۔۔۔تعلیمی اداروں سے لے کر کتب خانوں تک کتابوں کی ریل پیل ،مگر انہیں سمجھ کرپڑھنے اور سوچ وسیع کرنے والے خال خال ۔۔۔سیاست کی گرم بازاری عروج پہ،سڑکیں اور بازاراس سے ہنگامہ پرور۔۔۔وہی منافقت ،وہی حلق پھاڑ ،مائک توڑ دعوے، وعدے اور وہی اخبارات میں بیانات کی چاند ماری ،مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔۔۔وہی بے سمتی ،وہی بے بسی اور وہی بے دانشی ۔۔۔

ہر کوئی بھاگ رہا ہے کہ پیسے کس طرح کمائے ۔نوکری کس طرح شارٹ کٹ سے ملے؟ڈگری کیسے حاصل کرے۔۔۔؟ایسے میں شعر و ادب جیسے غیر منافعہ بخش ذوق کا بوجھ اٹھانے کا کشٹ کوئی کیوں اٹھائے؟لوگوں کو تو قیمتی موبائل چاہیے،این سی پی گاڑی چاہیے۔بڑی کرسی چاہیے ۔ایسے میں کتابیں پڑھنے اور بے فائدہ شعر و ادب لکھنے کی مشقت کوئی کیوں اٹھائے ؟

اس لیے صاحبو!حاذ کی یہ سُونی سونی صحبتیں بھی غنیمت جان لیں ۔کہیں تو کچھ دیوانے سے لوگ ہیں، جو شہر کے ہنگاموں سے دور ،لبِ دریا کے سکون پرور ما حول میں کچھ لمحے ہنس بول کر ،کچھ تو شعر و ادب کی بات کرتے ہیں ۔کچھ تو خیال، جذبہ، احساس، درد اور عشق کی بات کرتے ہیں ۔کچھ تو دل کے نہاں خانوں میں دھمال ڈالتے جذبوں کو بیان کرتے ہیں۔کچھ تو خود غرض سماج کے چہرے سے پردے اٹھاتے ہیں ۔کچھ تو مذہبی ،سیاسی اور سماجی رویوں کی بدچلنی کو للکارتے ہیں ۔ ان کی جیبوں پہ گھریلو اور معاشی مشکلات کا بوجھ بھی ہے۔انہیں بھی دن بھر زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے فکر معاش رہتی ہے۔انہیں بھی غم ہائے روزگار کے اندیشے گھیرتے ہیں۔ حاذ کے مشاعرے اس لیے بھی پھیکے پھیکے ہوتے ہیں کہ مالی مشکلات رکاوٹ بن جاتی ہیں۔دس پندرہ بندوں سے زیادہ شریک کر کے اخراجات کا بوجھ اٹھا نہیں سکتے ۔ان کے پاس اپنی کوئی عمارت نہیں ۔ہر مہینے کسی ہوٹل میں بڑی مشکل سے ایک مشاعرہ ہی کروا سکتے ہیں ۔کسی سرکاری یا سماجی حلقے نے ان کی طرف نظرِ کرم سے دیکھا بھی نہیں۔ حاذ کی کارکردگی اور کردار کی سب تعریف کرتے ہیں۔ صرف تعریف سے نظام نہیں چلتا ،پہیے بیٹھ جاتے ہیں۔ اس لیے یہ بہ ظاہر ذرا سی ادبی بیٹھک بھی ،ایک دبستان کی سی ہے۔ ورنہ دوسری طرف تو گویا۔۔۔
وہ حبس ہے کہ لُو کی دعا مانگتے ہیں لوگ

یادش بہ خیر !حلقہ ارباب ذوق کی ان سرگرمیوں کے علاوہ یہ سال ،زبان و ادب کے حوالے سے اس لیے بھی خوشگوار یادیں چھوڑ گیا کہ پہلی دفعہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ کی سر پرستی میں ستمبر میں قراقرم یونی ورسٹی کے آڈیٹوریم میں دو روزہ قومی سطح کا ادبی و لسانی میلہ منعقد ہوا ۔جس میں پاکستان کی ہر بڑی زبان کے اہل قلم اور ماہرینِ لسانیات نے شرکت کی۔ تحقیق، تخلیق اور ادبی رویوں کی باتیں ہوئیں۔جس میں زبان و ادب کی ترقی اور ترویج کے لیے بڑے بڑے فیصلے کیے گئے ۔ وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمان صاحب ،چیف سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیاز صاحب اور بہت سی سرکاری شخصیات نے شرکت کر کے اس کی اہمیت بھی بڑھائی ۔اب امید یہی ہے آنے والے موسموں میں اس ادبی کانفرنس سے نئے ادبی گُل کھلیں گے ۔۔۔

اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ ادبی گُل کھلیں گے یا پھر کوئی فیصلہ، کوئی پالیسی یا پھر کسی کا مفاد اس میں کوئی بقراطی گُل کھلائے گا ۔

آخر میں فیض صاحب کے دو معروف شعر ۔۔۔

ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

یہ شعر ان سب کے لیے ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے نہیں۔۔۔
اک طرزِ تغافل ہے سوان کو مبارک
اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments