صحافی اورسفارتی آداب

تحریر :فدا حسین

صحافیوں کے بارئے میں عمومی طور پر یہ کہا جاتا ہے یہ غیر جانبدار لوگ ہوتے ہیںکیونکہ ان کا دین ،مذہب اورقومیت الغرض وہ سب جو ایک انسان کی انفرادی شناخت ہوتی ہے وہ صحافت کے میدان میں قدم رکھتے ہی پچھے رہ جاتا ہے اور اس کی شناخت صرف اس کی دی ہوئی خبر وں سے ہوتی ہے یعنی اس کی دی ہوئی خبروں میں کتنی سچائی ہے سادہ لفظوں میں یوں کہا جائے کہ ایک صحافی ریفری کا کردار ادا کرتا ہے ۔ دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ صحافی بھی انسان ہے اس لئے اس کے بھی جذبات ،نظریات ،قومیت او رمذہب وغیر ہ سے تعلق ہوتا ہے لہذا وہ ہروقت غیر جانبدار نہیں رہ سکتا اس لئے اسے بھی آخر کار صحیح کو صحیح کو اور غلط کو غلط کہنا چاہے ۔ تاہم ہمارا مدعا ان دونوں باتوں کے درمیاں میں یہ ہے کہ کیا صحافی کو سفارتی آداب کاخیال رکھنا چاہیے کہ نہیں ؟کیا ایک صحافی کو اپنے روایتی  اقدار کو خیال نہیں رکھنا چاہے ؟کیا اسے اپنے بزرگون کی تعلیمات کو یکسر فراموش کردینا چاہے ؟یہ وہ سوالات ہیں جو ہمارے ذہن میں پاکستان میں قید بھارتی جاسوس کلبھوشن یادھو کی والدہ اور اہلیہ کی دفتر خارجہ میں کلبھوشن یادھو سے ملاقات کیلئے آمدکے موقع پر پیدا ہوئے کیونکہ جب یہ دونوں خواتین دفتر خارجہ پہنچیں تو بعض صحافیوں نے چیختے ہوئے بولنا (پوچھنا ) شروع کر دیا کہ کیا آپ اپنے بیٹے کے اعترافِ جرم سے متفق ہیں؟ آپ ایک قاتل بیٹے کی ماں ہیں کیا کہنا چاہیں گی؟ آپ ایک دہشت گرد کی ماں ہیں آپ جواب دیں، آپ بھاگ کیوں رہی ہیں؟ آپ کا بیٹا سینکڑوں پاکستانیوں کا قاتل ہے ۔ تاہم دونوں خواتین نے صحافیوں کو اپنے روایتی انداز میں سلام (پرنام ) کر نے کے بعد کچھ کہے بغیر ملاقات کے لئے اندار چلی گئیںا ور ملاقات ختم ہو کر باہر آنے پر انہوں نے نہ صرف اسی انداز میں وہ سوالات دہرائے بلکہ یہاں تک کہہ گئے کہ آپ اپنے بیٹے اور شوہر سے ملاقات کرانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کریں، مگر وہ دونوں دوبارہ صحافیوں کی طرف رخ کرکے پرنام کرکے روانہ ہو گئیں۔ انتظار کی اس گھڑی میں ہم نے یہ معاملہ جب بعض صحافیوں کے سامنے رکھا تو انہوں نے بھی اس پر انتہائی ناپسندگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ہوٹینگ  (بدتمیزی ) سے تشبیہ دی بی بی سی اردو کی فرحت جاوید صاحبہ جو اس رویے سے بیزار نظر آرہی تھیںنے محض ان صحافیوں کے اِن سوالات کو قلمبند کرتے ہوئے اس پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا تھا۔ اگر اس ملاقات کے بعد دفتر خارجہ کے ترجمان کی طرف سے باقاعدہ بریفنگ نہ دی جاتی تو ہم شائد سوال بھی نہ اٹھاتے کیونکہ ترجمان نے اس ملاقات کے حوالے سے پوچھے گئے تنقیدی سوالات کا جواب دیتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے عین مطابق قرار دیا اس سے پہلے ہفتہ وار بریفنگ میں وہ بھی کہہ چکے تھے کہ” مجرم کلبھوشن ہے اس کی والدہ اور بیوی نہیں “یہ دلیل واقعی بہت وزنی تھی لیکن ہمارئے رفیق کاروں کے سوالات سے تو ایسا لگتا ہے کہ خدا نخواستہ اسلام میں بھی ایف سی آر کا قانون نافذ ہے حالانکہ قرآن کہتا ہے کہ ہر ایک سے اُس کے کئے کے بارئے میں پوچھا جائے گااور اسلامی تعلیمات میں مہمانوں کا خاص کر خواتین کا احترام فرض ہے اس سلسلے میں حضور صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یمن کی جنگ قیدیوں میں شامل حاتم طائی کی بیٹی کو اپنی چادر مبارک دینا اور ساتھ یہ ارشا د فرماناکہ بیٹی بیٹی ہوتی ہے چاہیے وہ مسلمان کی ہو یا کافر کی اوریہاں تک کہ حاتم طائی کی بیٹی کی درخواست پر سارئے قبیلے کے لوگوں کی رہائی ،حضرت علی  کا اپنے قاتل کو پہلے شربت پلانے کا حکم ، اور مہمان کو بسم اللہ نہ پڑھنے پر گھرسے نکالنے پر اللہ تعالی کی طرف سے حضرت ابراہیم  کی سرزنش ایسے واقعات ہیںجن کی روشنی میں ہمیں اپنے صحافی بھائیوں کے اس رویے پر شدید اعتراض تھا اور رہے گا اور ان کے اس رویے پر صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ ان کا یہ رویہ اپنے آپ کو محب وطن کہلوانے کی ایک کوشش تھی حالانکہ ان کا یہ رویہ انہیں محب وطن کے بنانے کے بجائے انہیں ماراء پاکستان بناتا ہے جس طرح  ہرماراء عدالت کام کی مذمت ہوتی ہے اس طرح ہر ماراء پاکستان رویے کی بھی مذمت ہوگی کیونکہ ان کے اس طرح کے رویوںسے بین الاقوامی سطح پر پاکستان بدنام ہوگااور بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان کی طرف سے بھی صحافیوں کے اس رویے پر بھی احتجا ج سامنے آیا ہے جو کہ ہماری نگاہ میں درست ہے۔ہمیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے ہمارئے ملک میں جو بھی آتا ہے وہ اس ملک کا سفارت کار ہوتا ہے چاہے وہ سرکاری طور پر نہ بھی ہو کیونکہ وہ ہماری چال چلن کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہوتا ہے اس لئے ہمیں ان سے تمیز کے دائرئے میںرہ کر بات کرنی چاہیے اسی کو سفارتی آداب کہتے ہیں صحافی ان سفارتی آداب سے ہرگز مبرا نہیں ہے،اگر اس سلسلے میں کسی نے کچھ سکھنا ہو تو گلگت بلتستان کے ان قبائلی علاقوں میں جائیں جہاں پر یہ رواج ہے کہ جس دن آپ کے جانی دشمن کے گھر میں مہمان آئے اور آپ کو اس دن اسے(جانی دشمن کو) قتل کرنے کاموقع آسانی سے بھی میسر آئے تب بھی آپ یہ کام انجام نہیں دے سکے کیونکہ یہ بزدلی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔اب آپ خود فیصلہ کریں کہ کلبھوشن کی والدہ اور بیوی سے جس قسم کے سوالات جس انداز میں پوچھے ہیں وہ کس زمرئے میں آتا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ صحافی کو ہر طرح کا سوال کرنے کا حق حاصل ہے کیونکہ استاد محترم مرتضیٰ سولنگی صاحب کے بقول صحافی عوام کو جاننے کا حق کا قانون استعمال کرتے ہوئے لوگوں سے سوال کرتا ہے تاکہ عوام صورتحال سے آگاہ ہو سکیںمگر سوال پوچھنے کا حق ہونے کا یہ مطلب ہرگزنہیں کہ آپ تمام اقدار کوپار کر لیں اس لئے ہماری رائے میں صحافیوں کو صحافتی اقدار کے ساتھ ساتھ اپنے روایتی ثقافتی اور مذہبی اقدار کو بھی سمجھنا ہوگا تاکہ ہم اگر دنیا کے کسی ملک میں صحافی کی حیثیت سے جائیں تو وہاںہمیں سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑئے۔

کالم نگارنے پشاور یونیورسٹی سے شعبہ ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا ہوا ہے وہ اس وقت اسلام آباد میں ایک نجی ریڈیو ایف ایم 99میں رپورٹر کی حیثیت سے گزشتہ پانچ سالوں سے کام کر رہا ہے۔

رابطہ برائے کالم نگار

Email:fmusinpa@yahoo.com

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments