ہمارا میڈیا یا مشترکہ معاشرتی بےحسی کی جیتی جاگتی تصویر

از میمونہ عباس خان

اگر آپ کچھ روز کی چھٹیوں پر ہیں اور گھر بیٹھ کر لمبی تان کر سونے، ذہنی فراغت سے لطف اندوز ہونے اور قلبی سکھ و اطمینان کے مزے لوٹنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے اہم ہے کہ آپ ایک عدد ٹی وی، روزانہ گھر آتے مقامی اخبار اور مہنگے موبائل جیسی عیاشیوں سے لازمی ہی محروم ہوں۔ کیونکہ یہی وہ شر انگیز ایجادات و محرکات ہیں جن کے سبب آج دنیا اپنے اصل روپ و رنگ سے نکل کر جہنم کی ایسی مثال نظر آتی ہے جسے جھیلنے کی بجائے انسان موت کو گلے لگانے کو ترجیح دیتا ہے۔

بات ہورہی تھی فراغت کی۔۔۔چونکہ ان دنوں میں خود اس کیفیت میں مبتلا ہوں تو وقت گذاری کے لیے کبھی ٹی وی کا ریموٹ اٹھا لیتی ہوں یا پھر موبائل کی سکرین یعنی کہ سوشل میڈیا پہ گردش کرتی کہانیوں میں کھو جایا کرتی ہوں۔ اور اسی دوران مجھے شدت سے یہ احساس ہوا کہ پاکستانی صحافت اب صرف سنسنی خیزی پر ٹکی ہوئی ہے، تمام ڈراموں کا مشترکہ مقصد مہنگائی و بیروزگاری کے ہاتھوں پہلے سے ہی تھکی ہاری عوام کو یہ دکھا کر مزید پریشان کرنا ہے کہ لڑکیوں کے رشتے نہ ہونا اور شوہروں کی دوسری شادی اور بیوفائی سے بڑھ کر پاکستانی خاندانوں میں اب کوئی مسائل نہیں رہے۔

کچھ روز قبل ایک نجی ٹی وی پر مارننگ شو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ویسے ذاتی طور پر مجھے صبح سویرے منوں میک اپ چہروں پہ تھوپے، سادہ لوح عوام کو بیوقوف بناتی اور رنگت گورا کرنے والی نت نئی کریموں کے نسخے بتاتی میزبانوں سے ہی الجھن ہے مگر میرا ہاتھ چینل بدلتے بدلتے یوں رک گیا کہ ٹی وی کی سکرین پر جن عجیب و غریب عامل نما مخلوق کا قبضہ تھا وہ شکل سے ہی چغد اور جعلی لگ رہے تھے مگر شو کی میزبان اور شرکاء کے چہروں سے ٹپکتی عقیدت مندی ضرور دیکھنے لائق تھی۔یوں اگلے چند لمحوں میں عامل بابا جنات بھگاتے، سیٹ پر دھواں اڑاتے اور پیسے بٹورتے رہے۔ جبکہ میزبان صاحبہ بشمول سائل خاتون کے ان عملیات کے دوران خوفزدہ ہونے کی شاندار قسم کی اوور ایکٹنگ کرتی رہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ عامل بابا کی کہی گئی اس بات پر بھی زور دیتی رہیں کہ یہ جو گھروں میں جوان لڑکیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی ہوئی ہیں اس میں قصور صرف اور صرف ان کے حاسد رشتے داروں کا ہے اس کے علاوہ کوئی بھی دوسری وجہ نہیں چنانچہ وہ اپنے رشتے داروں سے خبردار رہیں۔ اور اگر کسی کے شوہر نامدار کا کاروبار میں نقصان ہوگیا ہے تو اس کی وجہ کسی بھی طرح کی غلطی میں تلاش کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں کیونکہ یہ ان کے کسی حاسد دوست کا کروایا گیا جادو ٹونہ ہے، جس کا علاج عامل بابا ہی کر سکتے ہیں۔غرض اس کے علاوہ بھی بھی کئی طرح کے مسائل جن میں گھریلو ناچاقی، معاشی و معاشرتی فکریں غرضیکہ ہر مسئلے کی جڑ اور حل ہر دو صورتوں میں کالا علم کی افادیت سے مستفید ہونے پر زور دیا جاتا رہا۔

اب مجھے تو اس سارے چرچے کے بعد یہی بات سمجھ آئی کہ ہم چاہتے ہیں کہ اپنی غلطیوں پر کبھی بھی نظر ثانی نہ کریں، نہ رشتوں میں عزت اور احترام کو شامل رکھیں اور نہ ہی اپنے مستقبل کے لیے کسی طرح کی پلاننگ کریں۔ بس ان بابا جی کو یا ان جیسے کسی اور شعبدہ باز کو اچھی خاصی رقم ادا کردیں اور بے فکر ہوجائیں۔ اب پیسے ادا کرنے کی منطق بھی پروگرام کی میزبان نے ہی سہمے ہوئے انداز،میں سمجھا دی کہ ایسے مسائل حل کرتے ہوئے کئی خطرناک جن ان عامل صاحبان کے دشمن بن جاتے ہیں جن سے ان کی اپنی جان کو خطرہ رہتا ہے اور آپ کا پیسہ وہ اپنی حفاظت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اب یہ پتہ نہیں کہ وہ اس پیسے سے باڈی گارڈ رکھتے ہیں یا جنات کو بھتہ دیتے ہیں۔ مگر یہ ضرور معلوم ہوا کہ جو اپنی ذات کی حفاظت کے لیے بھی آپ کے پیسے کا محتاج ہے وہ بھلا مشکل کشا کیسے ہو سکتا ہے؟ ذرا سوچیے گا ضرور!

اور اب نظر ڈالتے ہیں سوشل میڈیا پر تواتر سے گردش کرتی خبروں اور کہانیوں پر تو انہیں دیکھتے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہاں بھی معیار کا خدا ہی حافظ ہے۔ ان خبروں اور بلاگ کی شہ سرخیاں دیکھ لیں تو کچھ ایسے جملے پڑھنے کو ملیں گے: پڑوسی ملک کے باسی نے اپنی ہی بیوی سے شادی کر لی، یا وزن کم کرنے اور سفید رنگت پانے کے جادوئی نسخے، یا پھر بیوفا شوہر کو قابو میں کرنے کے نئے نسخے جن کی کبھی گہرائی میں جانے کی کوشش کریں تو ایسی لغو و واہیات معلومات کی بھرمار نظر آتی ہے کہ بندہ خود سے نظریں چرانے پر مجبور ہوجائے۔ اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب جہالت واقعی نعمت معلوم ہونے لگتی ہے۔

اس کے علاوہ اگر آپ کبھی اخبار اٹھا کر پڑھنے کی کوشش کریں تو شرافت کے راگ الاپتے کرپٹ سیاستدانوں کے بھاری بھرکم بیانات کے بعد جو بچی کھچی جگہ رہ جاتی ہے اس میں سوائے قتل، چوری ڈکیتی کی خبریں ہیں یا پھر کسی کی بکری چوری ہونے کو سنسنی خیز خبر بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔اور اسی پہ کیا موقوف اب تو لوگ اپنا نیا فون خریدنے پر تہنیتی پیغامات انہی اخبارات کے ذریعے وصول کرنا پسند کرتے ہیں۔ یہی نہیں اگر آپ غلطی سے بچوں کو اخبار پڑھنے کا مشورہ دیں تو ان کے علم میں جس بات کا اضافہ ہوتا ہے وہ ہالی ووڈاور بالی ووڈ اداکاروں کے مابین پنپتے ٹوٹتےرشتوں اور طلاق و شادیوں کے احوال جیسے واقعات پر مبنی ہوتا ہے۔ اب کوئی بھی ایک روزنامہ ایسا نہیں آتا جس میں بچوں کی نفسیات کو مدنظر رکھ کر،ان کی دلچسپی پر مبنی، ان کے کردار و اخلاق کی تعمیر سے منسلک کوئی گوشہ مختص کیا گیا ہو۔ اور یہی ہمارا بہت بڑا المیہ ہے۔

ہم اپنے میڈیا چاہے وہ ٹی وی ہو، سوشل پلیٹ فارم ہو یا پھر اخبارات ۔۔ان کے ذریعے برائی کی ترسیل کو فروغ دینے میں اس قدر مگن ہیں کہ کسی بھی واقعے کا عقلی و اخلاقی عنصر دیکھنے سے محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا معاشرہ انتشار کا شکار ہے، ہر شخص الجھا ہوا ہے، گویا اسے اپنے سامنے سوائے تاریکی کے کچھ نظر ہی نہ آرہا ہو۔

ایسے حالات میں جس طرح سے میڈیا ایک باضابطہ حکمت عملی کے تحت توہم پرستی، مکر و فریب، رشتوں سے جڑی بدگمانیوں کو فروغ دے رہی ہے اسے ہضم کرنا کم از کم ایک باشعور انسان کے لیے ناممکن ہے۔ اگر قوانین ہیں تو لاگو کیوں نہیں ہوتے؟ کیوں ذی ہوش قارئین و ناظرین خاموشی سے اس معاشرتی زوال کا تماشا دیکھنے پر مجبور ہیں؟ اگر پیمرا جیسے ادارے واقعی دیانتداری سے اپنے کام میں مگن ہیں تو کیوں یہ جعلی عامل کئی گھنٹوں تک عوام کے ذہنوں اور ٹی وی کی سکرینوں پر راج کرتے ہیں۔

یہاں یہ بھیبسوال اٹھتا ہےکیا ان ٹی وی، اخبارات اور دیگر رسائل کے ہاں تخلیق کاری کا اتنا بڑا بحران ہے کہ لوگوں کو توہمات، شر انگیزی، رشتوں پر بداعتمادی اور قتل و غارت گری کے نئے گر سکھائے جا رہے ہیں یا پھر ان تمام کاوشوں کے پیچھے اس قوم کی تباہ حالی کو فروغ دینے جیسی کوئی باقاعدہ محرکات ترتیب دی جاچکی ہیں؟ ایسے ہی تماشوں کے دوران ہماری تعلیمی پسماندگی یوں بھی جھلکتی ہے کہ کسی بھی واقعے کو پرکھنے اور اس سے متعلق سوال اٹھانے کی ہماری فطرت ہم سے چھین لی گئی ہے۔ ترقی یافتہ دنیا نے چاند کی تسخیر کو ماضی جان کر اب نئے ستاروں اور سیاروں کو مسخّر کرنا شروع کیا ہے اور یہاں ہم اب بھی آگ کے گرد بیٹھ کر ہاتھ تاپتے، صبح کا آغاز مختلف ٹی وی چینل پر کرتب دکھاتے، جھوٹے عاملوں اور تعویز گنڈے کرنے والوں کی شعبدہ بازی سے کررہے ہیں اور عقیدتوں کے اندھے غاروں میں خود کو دھکیل رہے ہیں۔ ہماری بے حسی خاموشی کے پردے میں سورہی ہے تبھی توٹی وی ڈرامہ ہو، کوئی اخبار یا سوشل میڈیا کی سنسنی خیز خبر ہو انہی سوئی ذہنوں کے بل پر اپنا کاروبار چمکا رہی ہیں۔

تو مدعا یہ ہے کہ جہالت کے خلاف آواز ہر حال میں اٹھائیے اور اگر آپ فراغت ہی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو کچھ اچھی کتابیں پڑھیے، بچوں سے گفتگو کیجیے کہ یہ زندگی کے چلتے پھرتے خوبصورت تجربے ہیں اور ہاں ذرا سا وقت اپنوں کے ساتھ بھی گذاریے۔ یقین جانیں ہمارے گرد موجود رشتے بالکل بھی ویسے نہیں جیسے ہمارے ٹی وی کے کرداروں میں جھلکتے ہیں۔ کہیں اگر کوئی اونچ نیچ ہے یا ناراضگی ہے بھی تو نئے سال کی شروعات انہیں سلجھا کر بھی کی جاسکتی ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments