عمر ایک سال کم ہوئی پھر آج۔۔۔۔

دیا زہرا

نئے سال کے آغاز پر جوش وخروش  اور مبارکبادیوں کا سلسلہ ایک ہفتہ پہلے سے چل رہا ہے سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، الیکٹرونک میڈیا ہر طرف سے ایک ہی پیغام مل رہا ہے

 ۔۔۔نیا سال مبارک۔۔۔۔

دعا ہے کہ ایسا ہی ہو خوشحالی امن وسلامتی کا سال ہو تاریخ بدلنے پر رنگ و نور کی جو برسات ہر طرف برسا رہا ہے وہ خدا کرے سچ ثابت ہو ۔۔۔بے شمار تلخ شیریں یادوں کا مداوہ ہو ہر سال کی طرح یہ سال بھی تلخ نہ گزرے  دیکھا جائے تو صرف تاریخ اور کیلنڈر بدلنے سے کچھ نہی بدلے گا  جب تک انسان کا سوچ اور رویہ نہ بدلے یہ سال بھی گزر جائے گا ہر سال کی طرح ۔۔۔ 2017 کے گزرجانے پر کیا ہم سب مبارکبادیوں کے مستحق ہیں زرا اپنے اندر جھانک کر دیکھئے۔۔ ایسا کیا کیا جس کے پورا ہونے پر ہم سب اتنے مطمئن ہو گئے۔۔مڑ کے دیکھ لیجئے کہ ہم پیچھے کیا چھوڑ آئے ہیں۔2017  میں ایسا کون سا کام کیا ہے جس کی وجہ سے ہم 2018 کی آمد کے انتظار میں تھے۔۔ دکھ درد غم، فاصلے، دوریاں، ظلم و جبر کے  ہزاروں انبار  17 میں لگ چکے ہونگے جس کا خمیازہ 18 میں بگتنا پڑے گا اس کا اندازہ ایک عام انسان نہی لگا سکتا۔۔۔ کتنے لوگ حادثے کاشکار بنے کتنے لوگ ہم سے بچھڑ گئے کتنے لوگ گھر سے بے گھر ہوئے کتنے بچے یتیم ہوے کتنے ماؤں کے گود اُجڑ گئےکتنوں پر بے بنیاد الزامات لگے غرض کہ مختلف حالات میں متاثر ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ بندہ نا چیز ان سب کا اندازہ لگانے سے خود کو قاصر سمجھتی ہوں میانمار، کشمیر، شام، فلسطین اور دنیا بھر سمیت پاکستان میں دھشت گردی کی صورت سے ہونے والے ظلم ستم اورانسانیت کا خاتمہ ایک ایسا المیہ ہے کہ نئے سال کی آمد کی مبارکبادیوں سے بھی بندہ نا چیز کو کوفت آنے لگتا ہے۔۔یہ تو بڑا المیہ ہے جس کی بے بسی کا یہ عالم ہے تو زرا سوچیئے ہمارے ارد گرد انھی گلی محلوں میں دبی ہوئی آوازوں کی چیخ و پکار کی بلندی اندر ہی اندر دب چکی ہوگی اور سننے والا کوئی نہیں اور اگر کسی نے سن بھی لیا تو کان دھرنے کی زہمت تک نہی کرتا انسان کی آبادی دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور انسانیت  کا روز بروز   خاتمہ ہو رہا ہے۔ بس ہماری عمر ہی میں کمی ہو رہی ہے،  کسی کی تکلیف پر خوش ہونے اور کامیابی پر جلنے کا رحجان بڑھ رہا ہے کسی تکلیف زدہ انسان کے دکھوں کا مداوہ کرنے کے بجائے ذخموں پر نمک چھڑکانے پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔۔کیا انھی رویوں کے ہوتے ہوئے مبارک بادیوں کے ہم حقدار ہیں ۔۔۔سب ایک سوالیہ نشان ہیں میرے خیال میں ہر گزرتا ہوا سال ایک تکلیف سے کم نہی  اگر ظلم و ستم کا یہی سلسلہ چلتا رہا تو دنیا میں ساری مبارکبادیاں نا پید ہو جائے گی تاثر بھی ختم ہو جائے گا جس طرح نئے سال کی مبارکبادیوں میں دم خم نہی رہی۔۔ انسانیت دم توڑنے لگی ہیں کسی کے خلاف  بات کرتے ہوئے زبان لڑکھڑانے کے بجائے فخر زمحسوس کرنے لگتا ہے بلا سوچے سمجھے کسی کے بارے میں ایسا بیان دے دیتا ہے کہ اگلا انسان حیران رہ جاتا ہے غریب اور خدا پرست کو کمتر جبکہ مال دار اور امیروں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اگر نئے سال کی آمد پر پیچھے مڑ کے دیکھیں اور ان سب کا مداوا ممکن ہو سکے تو ہم سب مبارکبادی کے مستحق ہو جائیں گے ۔۔زرا مڑ کے دیکھیں اور سوچئیے کہ کیا ھم نے گزرے 12 ماہ میں اپنی ذمہ داریوں کی کتنی پاسداریاں کیں یہی سوچ کے دل میں ایک درد سا اُٹھتا ہے اور سرد آہوں میں ایک دعا نکلتا ہے کہ اے رب کائنات تو کرم فرما اے خطاؤں کو معاف کرنے والے ہم پر درگزر فرما گزرے ہوئے سال میں جو غلطیاں ھم سے سرزد ہوئی ہیں معاف فرما۔۔۔اور یہ آنے والا سال ظلم وستم کے خاتمے  کا سال ہو۔۔ انسانیت دوست ماحول سبھی کو میسر ہو نہ کسی کی زبان سے کسی پر وار ہو اور نہ جبر و مسلسل کا بازار گرم ہو۔۔ نئے سال میں پراناکچھ بھی نہ ہو سوائے ترقی وخوشحالی اور انسانیت کے۔۔۔ مڑ کے دیکھنے کی زہمت کیجئے کیونکہ اصلاح کا راستہ اسی صورت میں ہی ممکن ہوتا ہے گزرے زندگی کے اوراق پر لکھی تحریر پر نظر دوڑرانے سے آنے والی تحریر میں غلطیوں کی گنجائش کم رہ جاتی ہے ایسے غور کیجئے تاکہ نیا سال ایک نئے صفحے کی طرح صاف و شفاف ہو ۔۔۔پیچھے مڑ کے دیکھئے کہاں کہاں ہم سے زیادتیاں ہوئیں ہیں کہاں کہاں ہم نے کو تاہیاں کیں ہیں۔۔کس کس لمہے ہم سے غلطیاں سرزد ہوئیں ہیں اور کن کن چیزوں سے ہم نے تجربہ حاصل کیا ہے ایسا کون سا کام ہے جسے ہمیں چھوڑنے کی ضرورت ہے اور کونسا کام ہے جسے کرنے کی ضرورت  ہے اور اپنی کوتاہیوں،خامیوں کو 2018 میں درست کرنے کی کوشش کریں گے۔۔مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ

مڑ کےدیکھیے۔۔۔ اور اگر مڑ کے دیکھا ہے پرکھا ہے تو یہ نیا سال آپ کو  بہت بہت مبارک ہو۔۔۔اگر ذہنیت اور رویوں میں تبدیلی لانے کا عزم کیا ہے تو سال نو آپ کو مبارک ہو مگر صرف تاریخ بدلا ہے تو بہت دکھ کی بات  ہے کیونکہ گناہ میں اضافے کا ایک اور سال بیت گیا.صرف ایک گنتی میں اضافہ کرنے سے حالات نہی بدلتے ۔۔۔

بقول فیض احمد فیض ۔۔

اے نیا سال بتا، تجھ میں نیا پن کیا ہے۔۔

ہر طرف خَلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے۔ ۔۔

روشنی دن کی وہی تاروں بھری رات وہی۔

آسماں بدلہ ہےافسوس، نہ بدلی ہے زمیں۔۔

ایک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں ۔۔

آپ کی رائے

comments