کیا گلگت بلتستان میں عوام کو فراہم کیا جانے والا پانی جراثیم سے پاک ہے؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:شیرین کریم

گلگت کونوداس کے رہائشی فقیر کے گھر میں اکثر خوشی کا سماں رہتا تھا۔ آج گھر میں مکمل سناٹا چھایا ہوا تھا۔ چار سالہ احمد بھی افسردہ اپنی امی کے گھٹنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خاموش تھا۔ گھر کے دروازے پر نظریں جمائے ہر آہٹ پر چونکتا۔ شاید اسے کسی کی آمد کا بے صبری سے انتظار ہے۔

صبر کا دامن ٹوٹا تو اپنی ماں سے پوچھا!” اماں! آج ابا ابھی تک نہیں آئے ۔ ہر دن تو جلدی آتے تھے”۔ ماں نے سرد آہ بھری اور حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ” آپ کے ابا کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی طبی معائنے کے لئے ہسپتال گئے ہوئے ہیں”

ایک سال قبل گھر کے سربراہ فقیر اچانک یرقان کے مرض میں مبتلا ہوئے ۔ بیماری نے نہ صرف ان کی جمع پونجی اور روزگار چھین لیا بلکہ گھر کی خوشیوں کو بھی ماند کر کے رکھ دیا تھا۔

فقیر طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے کمزور اور لاغر ہوتے جارہے تھے۔ اچانک تکلیف زیادہ ہونے پر علاج معالجے کی غرض سے قریبی ہسپتال کا رخ کیا جہاں مرض کی وجوہات جاننے اور علا ج کی غرض سے ڈاکٹروں نے انہیں ہسپتال میں داخل ہونے کا مشورہ دیا۔

ٹیسٹ مکمل ہونے پر ڈاکٹروں نے فقیر کو یرقان کا مریض قرار دیا۔ علاج کی غرض سے مہنگے نسخے لکھ کر دیئے گئے۔ فقیر کے بقول “اپنے علاج کی خاطر جمع پونجی خرچ کر چکا ہوں۔ مگر ابھی تک مکمل طور پر شفایاب نہیں ہو سکا۔”

سرکاری ہسپتال کے ایمرجنسی میں ڈیوٹی کرنے والے ڈاکٹر محمد علی شاہ نے بتایا کہ” صرف فقیر ہی نہیں ان جیسے سینکڑوں مریض گندے پانی کے استعمال سے مختلف امراض میں مبتلا ہیں۔ ہسپتال آنے والے مریضوں میں اندازاً ساٹھ فیصد سے زائد صرف آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں یرقان ،ہیضہ،اور پیٹ کی امراض کا شکار ہو کر آتے ہیں. شایدپینے کے پانی میں جراثیم کش ادویات کی مطلوبہ مقدار نہیں ملائی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے پانی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔”

دریائے گلگت سے برقی موٹرز اور پائپ کی مدد سے پینے کے لئے پانی نکالا جارہا ہے

محکمہ تحفظ ماحولیات کے ڈائریکٹر شہزاد شگری نے بھی تصدیق کی کہ گلگت اور گردو نواح میں پینے کا پانی صاف نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ” گلگت شہر کے واٹر چینلز میں کھیتوں سے گزر کر آنے والا گندا پانی شامل ہو رہا ہے۔ جو چینلز کے ذریعے واٹر ٹینک پھر وہاں سے سپلائی لائنوں سے ہوتے ہوئے گھروں تک پہنچتا ہے۔ صاف پانی فراہمی کے لئے ہنگامی اقدامات نہیں کیے گئے تو بہت بڑے انسانی المیے کا خدشہ ہے۔ گلگت شہر میں بنائے گئے واٹر فلٹریشن پلانٹس بھی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب ناکارہ ہو چکے ہیں۔ پارٹس ٹھیک نہیں ہیں اور پانی صاف کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔”

اسسٹنٹ کمشنر گلگت حسین احمد رضا کا کہنا تھا کہ” واٹر فلٹریشن پلانٹس کا جائزہ لے کر رپورٹ مرتب کر لی گئی ہے۔ انتظامیہ اور واسپ مقامی کمیونٹی کے تعاون سے فلٹریشن پلانٹس کی دیکھ بھال اور مرمت یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے گی”

گلگت شہر میں بنائے گئے واٹر فلٹریشن پلانٹس بھی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب ناکارہ ہو چکے ہیں

ایکسئین واسا محمد یونس کا کہنا تھا کہ” شہریوں کو فراہم کئے جانے والے پانی میں جراثیم کش دوا کلورین کی مطلوبہ مقدار شامل کی جا رہی ہے۔ 52فلٹریشن پلانٹس میں سے صرف ایک یا دو میں خرابی موجود ہے جن کی مرمت کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ باقی تمام فلٹریشن پلانٹس سے صاف ستھرا پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ فلٹریشن پلانٹس سے زہریلے پانی کی فراہمی کی رپورٹس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ کسی کے کہنے پر آنکھیں بند کر کے فلٹریشن پلانٹس کو بند نہیں کر سکتے۔ اگر کسی کے پاس کوئی حقائق پر مبنی مواد ہے تو وہ ادارے کے ساتھ شئیر کرے تاکہ فوری طور پر ایکشن لیا جا سکے۔ اور اس فلٹریشن پلانٹس کو سیل کر کے اس کی مرمت یقینی بنائی جا سکے۔

ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان صاف پانی کے ذخائر سے مالا مال خطہ ہے۔ مگر یہاں کے شہریوں میں گندے پانی کے استعمال سے پھیلنے والی امراض میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ واٹر فلٹریشن پلانٹس کی حالت زار بھی قابل رحم ہے۔

ایک بچہ نہر سے گیلن میں پانی بھر رہا ہے۔ سردیوں کے موسم میں نہروں کا پانی بہت سارے علاقوں میں پینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے

فقیر کے گھر میں افسردگی کا عالم ایک سال گزرنے کے باوجود بھی جوں کا توں ہے۔ فقیر کے بقول “ڈاکٹروں نے آرام کا مشورہ دیا ہے لیکن اپنے گھر والوں اور بچے کی چہرے پر خوشی دیکھنے کی خاطر آرام کو ٹھکرا کر غم روز گار میں دوبارہ لگنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میری التجا ہے کوئی بھی صاف پانی کے نام پر دھوکہ نہ کھائے۔ گھر میں پانی ابال کر ہی استعمال کرے اور اپنے طور پر پانی میں جراثیم کش ادویات ملائیں تاکہ میری طرح کوئی لاچاری کی زندگی گزارنے سے بچ سکے۔”

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments