گلگت بلتستان میں میں وفاق پرستوں کا امتحان

عمر حبیب

پاک چین اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے کیلئے بھارت نے گلگت بلتستان میں ایک خطرناک سازش کا آغاز کر دیا ہے ،گلگت بلتستان میں مختلف قسم کے تفرقات پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو وفاق پرست سیاسی جماعتوں سے بد ظن کرنے کیلئے سوشل میڈیا کی مدد سے سازش میں مصروف عمل ہے ۔بھارت جانتا ہے کہ گلگت بلتستان میں قوم پرستی کو فروغ اور وفاق پرستی کو کمزور کیا جائے تو اس کے عزائم کی تکمیل ہوگی ۔

یہ بات اب کوئی راز نہیں رہی کہ بھارت پوری تیاری کے ساتھ سی پیک کے خلاف میدان میں آیا ہے اگرچہ گلگت بلتستان کے حوالے سے بھارت کی نیت پہلے بھی ٹھیک نہیں تھی لیکن سی پیک منصوبے کے بعد بھارت پوری تیاری اور پلانگ کے ساتھ اپنے ناپاک عزائم کیلئے کمر بستہ ہو چکا ہے ۔پاکستان کے خلاف بھارت کے معاندانہ عزائم اور عملی اقدامات اگرچہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، بالخصوص پورے خطے کیلئے ترقی و خوشحالی کا ضامن پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ مودی حکومت کیلئے جس قدر ناقابل برداشت بنا ہوا ہے،اس بارے میں مختلف مقامی اور بین الاقوامی ذرائع سے بہت کچھ سامنے آتا رہا ہے۔ اس منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے ایک خطیر رقم کے بھارتی خفیہ ایجنسی را کو فراہم کیے جانے کی اطلاعات بھی منظر عام پر آچکی ہیں ، بھارت نے پچاس کروڑ ڈالر کی بھاری رقم مختص کردی ہے اور اس کے خفیہ ادارے مسلسل پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کارروائیوں میں مصروف ہیں جس کے نتیجے میں خطے میں ایٹمی جنگ چھڑنے کا خطرہ حقیقت بن سکتا ہے۔لہٰذا کم ازکم اب بین الاقوامی برادری اورعالمی طاقتوں کو اس خطرناک صورت حال پر آنکھیں بند کرکے بیٹھے نہیں رہنا چاہیے بلکہ جنوبی ایشیا بلکہ پورے کرہ ارض کے امن کو بچانے کی خاطر فوری طور پر حالات میں مثبت تبدیلی کیلئے اقدامات عمل میں لانے چاہئیں۔۔اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو بلاتاخیر بھارت کے جارحانہ اور امن دشمن عزائم کو لگام دینی چاہیے اورمودی سرکار کو پاکستان کے ساتھ تمام تنازعات کے منصفانہ حل کی خاطر نیک نیتی کے ساتھ جلد از جلد بامقصد مذاکرات کا راستہ اپنانے پر آمادہ کرنا چاہیے تاکہ علاقائی اور عالمی امن واستحکام کو ممکنہ ناقابل تلافی نقصانات سے محفوظ رکھا جاسکے۔بھارت گلگت بلتستان میں بہت ہی خطرناک طریقے سے اپنے عزایم کی تکمیل کیلئے بہت تیزی سے کام کر رہا ہے ،حالیہ دنوں میں اینٹی ٹیکس تحریک ہی کو دیکھیں بھارت نے کس طرح اس تحریک کو دوسرا رنگ دے کر اپنے میڈیا کو اس پر لگا دیا اور بھارتی میڈیا نے خوب جھوٹا پروپگنڈہ پوری دنیا میں پھیلا دیا ،بھارت ایک اور خطرناک چال یہ چل رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو وفاق پرست سیاسی جماعتوں سے بد ظن کرنے کیلئے سوشل میڈیا کے زرئعے اپنے نمک خواروں سے یہ پروپگنڈہ کر وا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے اصل مسائل کی جڑ وفاق پرست جماعتیں ہیں بالخصوص پاکستان مسلم لیگ اور وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن ان کے نشانے پر اس لئے ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی کامیابی کیلئے جنتا کام وزیر اعلی حفیظ الرحمن کر رہے ہیں اتنا کسی اور کے حصے میں نہیں آیا ،مسلم لیگ ن کی حکومت عوام میں یہ شعور بیدار کر رہی ہے کہ سی پیک سے گلگت بلتستان میں معاشی انقلاب آئے گا یہی وجہ ہے کہ بھارتی لابی سی پیک کی ناکامی کیلئے وفاق پرست جماعتیں بالخصوص مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے خلاف پرو پگنڈہ کر رہی ہیں ،اسی طرح پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف ،جماعت اسلامی ودیگر وفاق پرست جماعتیں ان کے نشانے پر ہیں ،اگر اس صورتحال کا تدارک نہیں کیا گیا تو یہ ایک بہت ہی خطر ناکعمل ہوگا ،یہی وفاق پرست جماعتیں ہیں جو گلگت بلتستان میں بھارت کی سازشیں ناکام بنا رہی ہیں ۔بھارت کے نمک خوار رات دن اک کر رہے ہیں اس مقصد کیلئے کہ گلگت بلتستان میں قوم پرستی کو فروغ دیا جائے ،فرقہ واریت کی آگ بڑ ھکائی جائے ،اس ناپاک سازش کا حصہ گلگت بلتستان کے کچھ ننگ وطن جو وطن سے باہر ہیں وہ بن رہے ہیں یہ ننگ وطن بظاہر گلگت بلتستان کے عوام کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ ہم گلگت بلتستان کے ہمدرد ہیں اور ہمدری میں گلگت بلتستان کی محرومیوں کا ازالہ کر رہے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے انہیں بھارت دال روٹی فراہم کرتا ہے تو وہ بھارت کے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے زہریلا پرو پگنڈہ کر کے گلگت بلتستان کے عوام کو وفاق سے متنفر کرنا چاہتے ہیں اس صورتحال میں وفاق پرست جما عتوں کا امتحان بھی ہے کہ وہ کس طرح بھارت کی ان سازشوں کو ناکام بناتی ہیں ،وفاق پرست جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپس کے سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر بھارت کی ان سازشوں کو ناکام بنائیں ،اس وقت پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر کام شروع ہے تو بھارت کی یہ کوشش بھی ہے کہ گلگت بلتستان میں دیگر انتشار کے علاوہ سیاسی انتشار بھی پیدا کیا جائے جس سے گلگت بلتستان میں جمہوری نظام عدم استحکام کا شکار ہو ،ان حالات میں گلگت بلتستان میں ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام ،سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھارت کی سازشوں کو ادراک کرتے ہوئے ہر قسم کے انتشار سے دور رہیں ،گلگت بلتستان میں اس وقت حکومتی امور بہت ہی خوش اسلوبی سے چل رہے ہیں ایسے میں کسی بھی قسم کا غیر جموری عمل درست نہیں ۔ایسے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں وفاق پرستوں کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی کامیابی کیلئے کردار ادا اور بھارتی عزائم کو ناکام بناتے ہیں ،ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاق پرست جماعتیں گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل حل کریں تا کہ خلا پیدا نہ ہو کیونکہ دشمن یہی چاہتا ہے کہ خلا پیدا ہو اور وہ خلا قوم پرست جماعتیں پر کریں ور گلگت بلتستان ایک نئے انتشار کی طرف بڑھے ،ان حالات میں سیاسی قائدین کو پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments