چترال پولیس گاڑیوں کو جلاکردہشت پھیلانے اور ایک اندھے قتل کے ملزمان کوبے نقاب کرنے میں کامیاب

چترال (بشیر حسین آزاد) ایس پی انوسٹی گیشن چترال طارق کریم نے کہا ہے کہ چترال پولیس نے دہشت پھیلانے اور ایک اندھے قتل کے دو الگ الگ واقعات کی کامیابی سے تفتیش کرکے بہت ہی کم عرصے کے دوران جدید وسائل کے استعمال اور بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملزمان کو بے نقاب کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے جوکہ معمے بنے ہوئے تھے۔ ایڈیشنل ایس پی چترال نورجمال، ایس ڈی پی او لوٹ کوہ عبدالستار اور دوسرے پولیس افسران کی معیت میں اپنے دفتر میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایک ماہ قبل ماہر امراض اطفال ڈاکٹر گلزار احمد کی سنگور گاؤں میں واقع گھر کے اندر پارک کئے دو قیمتی گاڑیوں کو گھر سمیت آگ لگانے کی کوشش کی گئی تھی جس میں گاڑیوں کو تو نقصان پہنچ گئی لیکن گھر معجزانہ طور پر بچ گئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ انٹرنل جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے نہایت جا نفشانی سے کام کرتے ہوئے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ملزمان فہیم اللہ، نقیب اللہ اور نعیم اللہ ساکنان سنگور کو گرفتار کرکے وقوعہ میں استعمال شدہ آلہ فائر پستول بھی برامد کرلی۔ انہوں نے کہاکہ ملزمان زیر حراست ہیں جن سے مزیدانکشافات کی توقع ہے جبکہ پولیس نے ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ درج کیا ہے۔ دو ماہ قبل لوٹ کوہ کے علاقہ دوابہ میں افغان مہاجر عاشور کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری میں کامیابی سے متعلق کہاکہ تفتیش کے دوران مقتول کے گھر سے برامد موبائل فون کے ڈبے پر درج نمبر کی مدد سے کاروائی کرتے ہوئے ملزمان اکبر الدین اور شہاب الدین ساکنان چرویل لوٹ کوہ کو آلہ قتل سمیت گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ انہوں نے کہاکہ ملزم شہاب الدین نے مقتول کی موبائل فون سیٹ کو اپنے گاؤں کی رہائشی حکیم محمد کو دی تھی جوکہ رسالپور میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھا اور مقتول کی موبائل سیٹ زیر استعمال آنے پر انہیں گرفتار کرنے پر شہاب الدین کا نام افشا کردیا جس کے ذریعے ان تک رسائی ممکن ہوئی جس نے اپنے ساتھی ملزم اکبرالدین کے ساتھ مجسٹریٹ کے سامنے اقرار جرم بھی کرلیا۔ انہوں نے کہاکہ قتل کی وجہ ذاتی عناد بتائی گئی کیونکہ اکبرالدین نے مقتول کو چرس لانے کے لئے 25ہزار روپے نقد دے دیا تھا لیکن مقتول نہ ہی تو وعدہ پورا کیا اور نہ ہی پیسے واپس کرنے کو تیار ہوئے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments