ستاروں کے سا تھ ، کامیابی کا سفر

تحریر: محسن خان

انسان کو حقیقی خوشی تب ہی محسوس ہوتی ہے جب انسان وہ کام کرے جو بغیر دکھاوے اور شہرت کے حاصل کی گئی ہو جس میں صرف حقیقی جسمانی اور روحانی طور انسان کا ضمیر خود ہی گواہی دے کہ اس نے وہ کونسا کام کیا ہے جس سے اس کی رب کی خوشنودی سے حاصل کی جس نے بندے کو پیدا کرنے کے بعد ایک خاص مقصد کے لئے چنا اور کام لیا ،رزق کے حصول کے لیئے انسان اپنی طرف سے ہر وہ کام کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ جس میں زیادہ سے زیادہ نفع ہو اور کامیابی اور منزل ہر قدم پر اس کے قریب آتا ہوا دکھائی دے ،بظاہر انسان ہر اس اقدام ، فیصلے اور کام کو حقیقت اور حق پر سمجھتا ہے جو ہرآنے والے طوفان کے مقابلے کے لئے تیار کرتا ہے جو اسکے فائدے میں ہوں اس طرح کے افراد کا وجود بہت زیادہ ہوگا لیکن دوسری طرف ایسے افراد کا دنیا میں وجود بھی ہے جو اپنے زریعے معاش اور حصول رزق کو دونوں طرف سے پرکھتے ہوئے کوشش میں مگن رہتے ہے کہ جو دونوں طرف سے فائدہ مند ہوں اور ظاہری فائدے کے ساتھ ساتھ آخروی فائدے کا زریعہ بنے ظاہری فائدے سے مراد ضرورت اور آخروی فائدے سے مراد مقصد مطلوب ہے تیسرے قدم پہ کچھ اتفاق سے یا خوش قسمتی سے یا پھر رب ایسے کام کی طرف مائل کرتا ہے جوہر طرح سے فائدہ مند ہوں جس میں بیک وقت ضرورت اور مقصد کا حصول ایک ساتھ میسر ہوں میں ایسے افراد کو خوش قسمت سمجھتا ہوں جو لوگوں کے لاکھ طعنوں اور الزامات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ضرورت اور مقصد کو منزل کا راستہ جان کرجہدو مسلسل جاری رکھے ہوئے ہوتے ہیں جو زندگی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں ۔

گلگت بلتستان میں ہزارہا مختلف رفاہی اور فلاحی ادارے کام کررہے ہیں جو سرکاری سظح پر ہوں یا پرائیویٹ سیکٹر میں اپنی بساط کے مطابق کام کو ضروت اور مقصد سمجھ کراحسا س محرومی کا شکار بچوں ، معزور، اور کفالت سے محروم بچوں اور یتیموں پر دن رات کام کررہے ہیں جس میں سال 2012 کے اخری عشر ے میں الحمد اللہ الخدمت فاونڈیشن گلگت نے کفالت سے محروم بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے اور بااثر افراد کا توجہ اس طرف راغب کرنے کے لئے باقاعدہ سروے کیا اور گلگت سے مستحق 0 5 یتیم بچوں کے لئے سکالرشپ دینے کا اعلان کیا جس میں ان بچوں کی ماہانہ فیس سمیت سالانہ یونیفارم ، کتابیں ، کاپیاں او دیکھ بھال کا پورا انتظام ترتیب دیا جس میں ان بچوں کے سربراہان سے نشست کے زریعے بچوں کو درپیش مسائل اور معاملات کو حل کرنے کی کوشش شروع کی اور ہمت مرداں مدد خدا اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ اسی رواں سال کے دوران ہی 25 مزید بچوں کی کفالت کا اہتمام کیا گیا اسے طرح سال 2012 میں الخدمت کی چھوٹی سی ٹیم نے ایک سو بچوں کا ہدف کو پورا کیا مختلف ذرائع اور افراد کے تعاون کا سلسلہ مزید موثر ہوتا گیا اور سال 2013 سے2015 تک 150 بچوں کے کفالت کا اہتما کیا گیا جس میں بچوں کے تمام تر ضروریات کو مدنظر رکھا گیا اور سکالرشپ کی طریقہ کار کو مزید موثر بناتے ہوئے سال 2015سے سال 2016 تک 200بچوں کو سکالرشپ دی گئی اسی اثنا کے دوران تعلیم سے فراغت اور عمر کی حد میں کمی کے باعث تین سو کے قریب بچے الخدمت کے پروگرام الخدمت ارفن کیئر پروگرام کے سکالرشپ سے مستفید ہوئے۔

پاکستان سمیت گلگت بلتستان میں اکثر بچے اول تو تعلیم کو ادھورا چھوڑ دیتے اگر تعلیم حاصل کر بھی لیتے ہے لیکن تربیت اور بہتر سرپرستی نہیں ہوتی جس بنا پریہی بچے مستقبل مین چور، اور کرپت انسان بن جاتے ہیں یا پھر کم سن عمر میں غلط ہاتھوں میں استعمال ہوجاتے ہے اسکی بنیادی وجہ صرف اور صرف تربیت کی کمی اور سرپرستی کا نہ ہونا ہے اور اکثر کم سن بچے تعلیم کو خیرباد کہتے ہے اس لیئے اب ٹیم نے یہ محسوس کیا کہ تعلیم کے ساتھ تربیت اور را ہنمائی وقت کی عین ضرورت بھی ہے اور مقصد بھی۔

اس لیئے بہترتعلیم کو جاری رکھتے ہوئے بچوں کی اچھی اور منظم ذہن سازی پر بھی ا لخدمت نے کام شروع کیا۔ سٹڈی سنٹرز کے قیام کا مقصد بھی یہی تھا اور حسب روایت سے بڑھ کر الخدمت فاونڈیشن پاکستان کی ٹیم نے یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان میں یتیم بچوں کی عزت ، مستقبل کو روشن بنانے بچوں اور انکے سرپرست (ماں)کو علم کی اہمیت بتانا، انکے بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنا ، ایک باعزت مسلمان شہری تیار کرنے کی ضرورت ہے اس ضرورت کے پیش نظر چائلدکیئر اینڈ ڈویلپمنٹ پلیٹ فارم کا بھی آغاز کیا اور خصوصا لفظ یتیم ((Orphanکو ہدف کرکے شائننگ سٹار کا نام دیا گیا تاکہ بچوں میں والد کا سایہ نہ ہونے کا احساس محرومی کو ختم کیا جاسکے، اورپہلے سے مستفید یتیم بچوں کی تعمیر سیرت کے لئے پورا طریقہ کار تیار کیا گیاجس میں ایک بچے کو پورے سال تربیت کے عمل سے گزارنے کے لئے تربیتی نصاب تیار کیا اور سال 2016 گلگت میں ملک بھر کی طرح گلگت میں بھی الخدمت سٹڈی سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں محکمہ ایجوکیشن کے ذمہ داران کا بھی بچوں کی تربیت کے لیئے اچھا تعاون رہا سال 2017 تک دو کامیاب سٹڈی سنٹر بنے اسی دوران 150شائننگ سٹار بچوں نے تربیت حاصل کی ۔ اسی کامیابی میں محکمہ ایجوکیشن گلگت، الخدمت ٹرینرز، ٹیم الخدمت اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کا بڑا کردار رہا�آالخدمت فاونڈیشن گلگت کا سالانہ منصوبہ بندی کے تحت بچوں کے مستقبل اور کام کو ضرورت اوراولین مقصد کفالت یتیمی کو آگے بڑھاکر ستاروں کے ساتھ کامیابی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے سال 2018 کے آخر تک مزید 150 شائننگ سٹارز (Orphans) کاہدف کو پورا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو کہ یہ الخدمت کا دوسرکلسٹر تصور ہوگا جو جو دیامر اور استور کا ملاکر بنایا جارہا ہے اور امسال مزید دو سٹڈی سنٹر کا اضافہ کیاجا رہا ہے جن میں دور افتادہ گاوں میں موجود بے سہارہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ بہتر راہنمائی سے استفادہ حاصل کرلینگے اب اس کامیابی کی طرف سفر کو موئثر تب ہی بنایا جاسکتا ہے جب گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے اہل خیر حضرات ضرورت اور مقصددونوں چیزوں کا احساس رکھتے ہوئے اس کار خیر میں اپنا حصہ اور کردار ادا کرینگے کیونکہ کفالت یتیم سے جنت کا حصول بھی رفاقت رسول ؐ بھی کو اپنا سلوگن بناکر ہدف کو مکمل کرلیا جائیگا۔

گلگت بلتستان کی سطح پر اب ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی بھی پرائیویٹ اداروں میں اتنی صلاحیت نہیں ہوتی ہے کہ پورے ریجن کی سظح پر سروے کروائے اور بے سہارہ بچوں کا ڈیٹا اکٹھا کرسکے اس میں صوبائی حکومت اگر دلچسپی لے اور پرائیویٹ اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے تو بہتر نتائج مرتب ہوسکتے ہیں جہاں پر چائلد پروٹیکشن سنٹر بھی وقت کی اہم ضرورت ہے اور مقصد بھی اس میں محکمہ ایجوکیشن کا کردار لازمی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments