وزیر اعظم فروری کے پہلے ہفتے میں گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ چترال کا افتتاح کریں گے

چترال (بشیر حسین آزاد ) واپڈا نے پن بجلی کی پیداوار میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کر لی ہے اور گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے آج سے بجلی کی پیداوار کا آغاز کردیا ہے۔ منصوبے سے آزمائشی بنیاد پر چترال کو بجلی کی فراہمی بھی شروع کردی گئی ہے۔ چترال کے لئے یہ ایک تاریخی پیش رفت ہے ،کیونکہ اس عمل کے باعث شہر اور اس کے نواحی علاقوں کو 24گھنٹے بجلی کی بلا تعطل فراہمی ممکن ہوگئی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان فروری کے پہلے ہفتے میں گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔ آج 36 میگاواٹ صلاحیت کا پہلا پیداواری یونٹ آپریشنل کردیا گیا ہے جو چترال شہر کے لئے بجلی کی موجودہ ضروریات سے 3گنا زیادہ بجلی فراہم کرسکتا ہے۔ اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جائے گی۔پہلے منصوبے سے بجلی کی پیداوار کے آغاز کے تاریخی موقع پر چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین (ریٹائرڈ) نے آج گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس اہم کامیابی کے حصول پر واپڈا پراجیکٹ انتظامیہ ، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے کی بدولت چترال میں ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا، نیشنل گرڈ میں سستی پن بجلی کا تناسب بہتر ہوگا ، ملک میں بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی اور ملکی اقتصادیات مستحکم ہو گی۔گولین گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ چترال کے قریب دریائے مستوج کے معاون دریا گولین پر تعمیر کیا گیا ہے ۔ اس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 108میگاواٹ ہے۔ منصوبے کے تین پیداواری یونٹس ہیں اورہریونٹ کی صلاحیت 36میگاواٹ ہے۔پہلا یونٹ مکمل ہوچکا ہے ۔دوسرا یونٹ مارچ جبکہ تیسرا یونٹ مئی میں مکمل ہو گا۔ گولین گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نیشنل گرڈ کو ہر سال 43کروڑ60لاکھ یونٹ سستی اور ماحول دوست پن بجلی مہیا کرے گا ۔ منصوبے سے سالانہ 3ارب 70کروڑ روپے کا فائدہ ہوگا۔

آپ کی رائے

comments