ضلع دیامر کے “متنازعہ ڈپٹی کمشنر ” کو فوراً ہٹایا جائے، پریس کانفرنس میں مطالبہ

گلگت ( سٹاف رپورٹر) ڈی سی چلاس متنازعہ ہے وہ فوج اور عوام کو لڑانا چاہتے ہیں ڈی سی چلاس عوام کے سامنے مجرم ہے اس کے ہوتے ہوے انصاف کی توقع نہیں رکھ سکتے ہے اس طرح کے مسائل سے سی پیک کو نقصان ہوگا بنگچولی عوام کی ملکیت ہے ہمارا حق ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا ہیں صوبائی حکومت کو 72 گنٹھے کا وقت دیتے ہیں کہ جلد از جلد متنازعہ شخص کو کمیشن سے ہٹایا جائے ان خیالات کا اظہار متاسرین کنوداس رحمت خان۔ ایڈوکیٹ وصل۔ احمد میر۔معتبر خان۔ محمد ناصر اور فضل احمد نے گلگت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈی سی چلاس کمشنر دیامر پر ہمارے تحفظات ہیاس کے ہوتے ہوے انصاف کی توقع ممکن نہیں ڈی سی چلاس عوام اور فوج کو لڑانا چاہتے ہے وزیر اعلی نے کہا تھا کہ غیر جانبدار کمیشن بنایا جائے جس میں کمشنر دیامر نہیں ہوگا وزیر اعلی کے ہدایت پر عمل ہونے کے بجائے اپنی مرضی سے کمیشن میں کمشنر دیامر کو شامل کیا گیا ہے جو کہ ہمیں کسی سورت قبول نہیں کیو مکہ کمشنر دیامر مکان گرائے جانے کا اصل ذمہ دار ہے اس کو کمیشن میں شامل کرنے کا مطلب یہ ہیکہ بنگچولی کے متاسرین پر ڈھائے گئے ظلم کو قانونی حیثیت دی جائے وزیر اعلی کے کہنے پر متاسرین نے دھرنہ دوبارہ گونر فارم منتقل کیا گیا جو کہ آج دسویں دن میں داخل ہوا ہے متاثر یں بنگچولی حکومت کو 72 گنٹھے کا وقت دیتے ہیں کہ متنازعہ ممبر کو کمیشن سے ہٹایا جائے اور اس مسلے کو ختم کر کے متاسرین بنگچولی کو مطمعن کیا جائے متاثرین بنگچولی کینوداس دیامر نے صوبائی حکومت کو72, گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر جانبدا رانہ کمیشن نہ بنایا گیا تو بھر پور احتجاج کیا جائیگا اور تمام غیر یقینی صورت حال کی ذمہ داری حکومت اور دیامر کی ایڈ منسٹریشن پر عائد ہو گی

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments