کوہستان کے علاقے جالکوٹ میں آباد دو بڑے قبیلوں کے درمیان طویل کشیدگی کا خاتمہ، جرگے کافیصلہ تسلیم

کوہستان(نامہ نگار) اقوام بوت خیل کے مشران کی ثالثی رنگ لے آئی، کوہستان کے علاقے جالکوٹ کی دو بڑی اقوام کے مابین جاری طویل کشیدگی اختتام پذیر ہوگئی ۔یودن خیل اور شمت خیل نے جرگے کا فیصلہ تسلیم کرلیا کشیدگی ختم۔ حاجی کمال اور ملک فلقوس کی ساتھیوں سمیت پریس کانفرنس ۔

تفصیلات کے مطابق کوہستان کے علاقے جالکوٹ کی دو بڑی اقوام یودن خیل اور شمت خیل کے مابین پانی کے تنازعے پر جاری طویل کشیدگی اختتام پذیر ہوگئی ۔اس تنازعے کے پس منظر میں دونوں قبائل کے ہزاروں پچھلے دو ماہ سے لوگ مورچہ زن ہوگئے تھے ،ایک دوسرے پر ہوائی فائرنگ کرنے پرکوہستان پولیس نے دونوں جانب کے دس دس افراد کو جیل بھجوادیا ہے ۔اس تنازعے کے حل میں تیسری قوم بوت خیل نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے متنازعہ پانی اور نہروں کا فیصلہ کردیاہے۔

جمعے کی شام کوہستان میڈیا سنٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بوت خیل قوم کے حاجی کمال نے کہا کہ دونوں فریقین کے مابین جنریٹرزاور پانی کا تنازعہ حل کرچکے ہیں آج کے بعد کوئی بھی فریق خلاف ورزی نہیں کریگا ۔ حاجی کمال نے اپنی پریس کانفرنس میں تحریری فیصلہ پڑھ کرسنایا ۔اُن کے مطابق’’پار طرف یعنی ملک آباد شاہ کے جنریٹر سے ستائس سیور بلب پچیس واٹ بجلی والے فریق اول کو دی جائیگی۔ فریق اول( کورٹہ خیل یعنی شمت خیل )ہے ۔فریق اول کا نہر پر تنازعہ ختم کیا گیاہے ۔ایک عدد نیا جنریٹر ایم پی اے عبدالستار دیگا جو کم ازکم ساٹھ کلوواٹ یا اس سے زیادہ ہوگا۔یہ جنریٹر بوت خیل قوم کے ذریعے یودن خیل کو دیا جائیگا۔اس جنریٹر سے بھی چون بلب فریق اول کو دیا جائیگا۔ملک آبادشاہ کے جنریٹر کومناسب پانی فریق اول دینے کا پابند ہوگا۔فریق دوئم یعنی یودن خیل پانی ضائع ہونے نہیں دینگے۔بجلی کھمبے ، واٹر سپلائی کیلئے دونوں فریقین کی جائیداد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آزاد ہونگے ۔علاوہ ازیں شمال کی جانب پاور ہاوس سے نیچے فریق اول فریق دوئم کو جنریٹر لگانے کی جگہ فراہم کریگا۔علاوہ ازیں گزشتہ دنوں ہونے والے ہنگاموں میں نقصانات کے ذمہ داردونوں فریقین خود ہیں ایک دوسرے کے نقصان کے ازالے سے بری الذمہ قراردئے جاتے ہیں ۔

اس موقع پر ایم پی اے عبدالستار کے بڑے بھائی مولنا شہزادہ نے کہا کہ وہ اپنی طرف سے ایک نیا جنریٹر قوم کو فراہم کریں گے ، تنازعے کا خاتمہ نیک شگون ہے ۔یہ وقت ترقی کا ہے جھگڑوں کا نہیں۔

ملک فلقوس کے مطابق دونوں فریقین نے تحریری معاہدے کو من و عن تسلیم کیا ہے اور اب کوہستان میں کشیدگی کے بجائے بھائی چارے کی فضاء قائم ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments