کندیا کوہستان کے باسیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت 63 کلومیٹر سڑک تعمیر کر کے مثال قائم کردی

شمس الرحمن شمس سے

خیبرپختونخواہ کے ضلع کوہستان کی تحصیل کندیا کے گاؤں والے صرف حکومتی سہارے پہ منحصر نہیں  ہیں۔ قوتِ بازو اور اجتماعی عمل پر یقین رکھنے والے اس گاوں کے باسیوں نے ایک ایسا کارنامہ  سرانجام دیا ، جو دوسروں کیلئے مثال بن گیا ہے۔حکومتی عدم توجہی اپنی ترقی کے پہیے میں آڑے آنے نہ دیا اور اپنی مددآپ کے تحت سیلاب سے تباہ شدہ 63 کلومیٹر سڑک بناکر نئی تاریخ رقم کردی ۔ سیلاب کے فوری بعد حکومتی عدم توجہی کو اپنی مجبوری بننے نہ دیتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں لوگ سڑک کی تعمیر میں حصہ ڈالتے رہے ۔علاقہ مکین بالآخر سات سال کی طویل جدوجہدسے سومی گبرال تک 63 کلومیٹر کچا روڈ بنانے میں کامیاب ہوگئے ۔ جس سے 364گاؤں کے لاکھوں نفوس کیلئے 48 گھنٹوں کاپیدل سفر اب قدرے آسان ہوگیاہے ۔مگر اب پکا روڈ کون بنائے گا حکومت یا پھر وہ خود ؟

کوہستان کی تاریخ میں پہلی بار طویل ترین سڑک اپنی مدد آپ کے تحت بناکر تحصیل کندیا کے محنت کش لوگ دوسروں کیلئے عزم و ہمت کی مثال بن گئے ہیں ۔

تحصیل کندیا ضلع کوہستان (اپر) کی دوسری تحصیل ہے ۔یہ تحصیل ضلع کوہستا ن کے مرکزی صدرمقام داسو اور کاروباری مرکزکمیلہ کے شمال کی جانب 25 کلومیٹر فاصلے سے شروع ہوتی ہے ۔ ضلعی انتظامیہ کے ریکارڈ کے مطابق یہ تحصیل رقبے کے لحاظ سے ضلع کوہستان کی سب سے بڑی تحصیل ہے ۔اس تحصیل کی واحد رابطہ سڑک جو بین الاقوامی شاہراہ قرم سے جاپان پل کے ذریعے سومی گبرال نامی گاوں تک پہنچتی ہے، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے مطابق اس کی لمبائی 66 کلومیٹر کے قریب ہے،سیلاب کے ابتدائی دنوں ضلعی انتظامیہ اور غیر سرکاری تنظیم نے تین کلومیٹر سڑک گاوں کوٹگل تک نکالی اور باقی ماندہ63کلومیٹر سڑک کیلئے فنڈز کی قلت آڑے آگئی ۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تحصیل کندیا میں 364گاؤں آباد ہیں ۔حالیہ مردم شماری میں اس تحصیل کی آبادی دو لاکھ بیس ہزارظاہر کی گئی ہے ۔اس تحصیل میں ایک تھانہ جبکہ ایک پولیس چوکی قائم ہے جبکہ کئی سرکاری تعلیمی ادارے و بنیادی مراکزصحت قائم ہیں۔

سیلاب اور زمینی تودوں سے متاثرہ سڑک کے ایک حصے کی تصویر

تحصیل کندیا سے تعلق رکھنے والے ایک رہائشی ملک محمد غنی کے مطابق’’ سال 2010کی سیلاب کے بعد والی صورتحال کندیا کے مکینوں کیلئے قیامت خیز تھی ۔سیلاب کے فوری بعد جب مرکزی شہر کمیلہ اور کوہستان کے دیگر بازاروں سے لاکھوں نفوس کا رابطہ کٹا تو علاقہ مکین اضطراب کا شکار تھے، ہر طرف قحط عام تھا۔ ہسپتالوں کو پہنچتے پہنچتے کئی حاملہ خواتین موت کی وادی میں چلی گئیں ۔سیلاب کی بے رحم موجوں نے جب واحد رابطہ سڑک اپنے ساتھ بہاکر لیا تو مشکلات دوبالا ہوگئیں ۔یونین کونسل گبرال کا پیدل سفر 48 گھنٹوں میں طے ہونے لگا۔ کمیلہ بازار میں آٹے کا چالیس کلو والا تھیلہ پندرہ سو روپے میں ملتا تھا جسے یونین کونسل گبرال میں رہنے والا شخص ساڑھے پانچ ہزار مزدوری دیکر اپنے گھر پہنچاتا تھا ۔ یہ صورتحال ناقابل برداشت تھی ،کئی خاندان علاقہ چھوڑکر کراچی و دیگر علاقوں میں بسنے لگے ۔ کندیا کے مکین حکومتی اداروں اور منتخب نمائندوں کی راہیں تکتے رہے مگر کسی کو رحم نہیں آیا۔کئی بارحکومتی اداروں نے علاقائی کمیٹی کو حیلے بہانوں سے ٹرخایا مگر سڑک کی تعمیرپہ عملی کام کوئی نہ کرسکا۔ تحصیل کندیا سے اسمبلی میں نمائندگی نہ ہونے کی وجہ اور حکومتی عدم توجہی کو علاقائی لوگوں نے اپنی مجبوری بننے نہ دی اور اجتماعی طورپر سینکڑوں کی تعداد میں گاوں والے سڑک پر نکل پڑے اور سڑک کی تعمیر میں حصہ ڈالتے رہے۔

کندیا کے گاؤں الیل سے تعلق رکھنے والے احسان الحق کے مطابق “قوم نے اپنی مدد آپ سات سال تک کندیا کی اس واحد رابطہ سڑک پہ کام جاری رکھا ۔ اس سڑک کی بحالی میں ابتدائی تین کلومیٹر جاپان پل سے ناٹ بیل تک غیر سرکاری تنظیم عمراصغر خان فاونڈیشن ، ضلعی انتطامیہ ، صوبائی اور مرکزی حکومت کے تعاون سے ہوا۔اُس کے بعد کسی نے مڑکر نہیں دیکھا”۔

ان کے مطابق “سات سال کی طویل جدوجہد سے لوگوں نے خالص اپنی مدد آپ باقی ماندہ 63 کلومیٹر رابطہ سڑک جو ناٹ بیل سے شروع ہوکر سومی گبرال نامی گاوں پہ ختم ہوتی ہے مکمل کیا اور اب لوگوں کے سفر میں قدرے آسانی آگئی “۔اُن کے مطابق ہر گاوں کے لوگ روزانہ کی بنیاد پر فی گھر ایک فرد کے حساب سے سڑک کی تعمیر میں حصہ ڈالتے رہے اور سڑک کا بیشتر حصہ ہاتھوں کے ذریعے گینتی بیلچے سے کاٹا گیا اور بعض جگہوں کیلئے گاوں والوں نے چندہ اکٹھا کرکے ٹھیکیدار کے پھنسے ہوئے مشین کو تیل فراہم کیا اور ان سے کٹائی کا کام لیاگیا۔ یہ مشین گزشتہ سیلاب میں سڑک بہہ جانے سے کندیامیں پھنس چکی تھی “۔

کندیا تھوٹی سے تعلق رکھنے والے ضیا الرحمن نے بتایا کہ ” ہر گاوں کے لوگ مطلوبہ تعداد میں علی الصبح سڑک کی بحالی کیلئے سڑک پہ آتے اور شام گئے تک گروپ کی شکل میں ہاتھوں سے سڑک کا کام کرتے ، ہر گاوں کا اوسطا گروہ بیس سے تیس افراد پر مشتمل ہوتا اور یہ سلسلہ سالوں تک جاری رہا۔ آخر میں علاقہ معززین اور علما نے اس کام کی سرپرستی شروع کی اور مخیر حضرات سے آلات اور مشین کو تیل کیلئے چند لاکھ روپے بھی اکٹھے کئے اور رواں سال سومی گبریال تک کچی سڑک بنا دی جس کی لمبائی 63 کلومیٹر بتائی جاتی ہے “۔

سیر گڑھی گاؤں کندیا سے تعلق رکھنے والے حفیظ الرحمن کے مطابق “لوگوں کا جذبہ دیدنی تھا بغیر معاوضے کے حصول کے عوام نے پوری تندہی کے ساتھ اجتماعی مفاد کیلئے کام کیا۔ کوہستان کی تاریخ میں طویل ترین جسمانی جدوجہد میں ہر گاوں کے فرد نے اپنا حصہ ڈالا اور منتخب نمائندوں کے منہ پھر شرم کا زوردار طمانچہ دے مارا ” اُن کے بقول پیدل 48 گھنٹوں کا سفر اب نو گھنٹو ں میں طے ہونے لگا ہے ۔ اب اگر حکومت اس سڑک کو پکا کرے تو یہ سفر دو گھنٹوں میں طے ہوسکے گا۔

تعمیر شدہ سڑک

محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کوہستان کےایکسین محمد زاہدسے جب اس واحد رابطہ سڑک کی بحالی میں عدم تعاون پر بات کرنے کیلئے وقت دریافت کرکے سوال پوچھا تو اُن کا کہنا تھا ’’ آپ کیسی باتیں کررہے ہیں ؟ پچھلے پندرہ بیس دنوں سے مشین وہاں ہماری ہے ،بندے ہمارے ہیں ۔کام ہم ہی کررہے ہیں”۔چونکہ ایکسین صاحب نو تعئبات ہیں انہیں ماضی کے ریکارڈ کا اندازہ نہیں تھا اور وہ ضلعے سے بھی باہر تھے۔اُن کا اشارہ حال میں جاری کام کی طرف تھا۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کےعہدیدار شمس الحق سے پوچھا کہ تحصیل کندیا کی تباہ شدہ سڑک کی تعمیر میں انتظامیہ کا کیا کردار رہاہے جس پر اُن کا کہنا تھا

 ” اُس وقت کے ڈی سی او ڈاکٹر اظفر نثار نے ہنگامی طور پر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ذریعے ضلعی فنڈز سے دومشینیں تیل سمیت موقع پہ بھیجا اور کوہستان بھرسے روڈ قلیوں کو کندیا روڈ کی بحالی پر لگادیا۔ ابتدائی تین کلومیٹر کا فاصلہ جو جاپان پل سے کوٹ گل تک بنتاہے جوضلعی انتظامیہ کے تعاون سے بنا ہے جس کے اخراجات ضلعی انتطامیہ ادا کرچکی ہے اور ریکارڈ کا حصہ ہے ، اُس دوران زیادہ تر کام مقامی لوگوں اور غیر سرکاری تنظیم کے تعاون سے کیا گیا”۔

اس مسلئے پر خیبر پختونخوا کے مشیر مواصلات اکبر ایوب خان سے بات کرنے کی کوشش کی گئی، مگر وہ دستیاب نہ تھے ۔

علاوہ ازیں ضلع بھر میں درجنوں ایسے علاقے ہیں جن تک رسائی کیلئے سڑک تو دور کی بات پگڈنڈیاں بھی پُر خطر ہیں ،اُن علاقوں کے دشوار گزار راستوں پہ چلتے ہوئے بسا اوقات سر چکرانے لگتا ہے ۔ایسا ایک گاوں وادی دوبیرلوئر کوہستان میں بھی ہے جہاں کے مکینوں نے حکومتی توجہ کے طویل انتظار کے بعد خود گنتی بیلچے اُٹھائے اور دو کلو میٹر بیلا دوبیر کی سڑک خود بحال کردی ،علاوہ ازیں دیگر اداروں اور دیہاتوں کے مکین بھی اپنی مددآپ تباہ شدہ  نفراسٹرکچر کی بحالی میں مصروف ہیں ۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو خیبر پختونخواہ بھرکے دوافتادہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی کاکام معدوم ہے۔ان علاقوں میں ضلع چترال،ضلع مانسہر کی تحصیل بالاکوٹ،ضلع سوات کی تحصیل کالام کی سڑک  ،ضلع اپر و لوئردیر کوہستان کے روڈ وغیرہ شامل ہیں،خیبر پختونخواہ کے ان علاقوں کی وادیوں میں وسائل ہی وسائل ہیں۔ یہاں کے مکینوں کا خیال ہے کہ حکومت  کو ان کے وسائل کے استعمال کی ترجیح نہیں اس لئے رابطہ سڑکیں نہیں بنا رہی اور نہ ہی تباہ شدہ انفراسٹرکچر بحال کررہی ہے ایسے میں ان علاقوں کے وسائل ضائع ہوکر وہاں کے مسائل دوبالا ہورہے ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ اس جانب بھی توجہ دے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments