گلگت بلتستان میں میں ترقی کا سفر

رشید ارشد

ترقی کے سفر کیلئے پہلی سیڑھی معاشرے میں امن ہوتی ہے ،گلگت بلتستان کو کچھ سیاسی بونوں نے اپنی سیاست کیلئے اور کچھ بیرونی مہروں نے اپنے مفادات کیلئے فرقہ واریت کی آگ میں جھونک کر بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیا تھا ،کئی دھائیوں سے اس جنت نظیر خطے میں بے گناہوں کا خون ناحق بہہ رہا تھا ،اس نفرت کی آگ کو ٹھنڈی کرنے میں اگر کسی کا سب سے اہم کردار ہے تو وہ وزیر اعلی گلگت بلتستان کا ہے اسی گھرانے کے شہید سیف الرحمن نے اپنی جاں کا نذرنہ دے کر امن کے قافلے اور محبتوں کے کارواں کو آگے بڑھایا اور اسی قافلے کو آگے لے کر حفیظ الرحمن آگے بڑھے اور آج گلگت بلتستان محبتوں کی سر زمین بن چکی ہے ،اسی امن کا صلہ ہے کہ گلگت بلتستان میں لاکھوں سیاح آتے ہیں معیشت ترقی کی طرف رواں دواں ہیں ،عوام کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہیں ،وزیر اعلی گلگت بلتستان کی قیادت میں ترقی کا کارواں آگے بڑھ رہا ہے ،

زرا سوچئے ،گزشتہ دور میں وزیر اعلی بلتستان ریجن سے تھے لیکن ان کے دور میں نہ تو سکردو روڑ بنا اور نہ بلتستان میں ترقی کا پہیہ چلا ،ہاں البتہ کرپشن اور چور بازاری کا پہیہ بہت تیزی سے چلا ،گزشتہ دور میں نہ تو بلتستان میں یونیورسٹی بنی اور نہ ترقیاتی منصوبے بنے ،یہ مسلم لیگ ن کی ہی حکومت اور وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی ویثرن سے بھر پور کی محنت کا ہی نتیجہ ہے کہ سکردو روڑ بھی شروع ہوا اور بلتستان یونیورسٹی بھی اور بلتستان کی تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے بھی ۔ گزشتہ حکومت کے وزیر اعلی کا تعلق بلتستان سے ہونے کے باوجود بلتستان میں ایک منصوبہ نہیں آیا تو گلگت بلتستان کے دوسرے علاقوں میں کیا خاک ترقی کے منصوبے آتے ،منصوبے آتے بھی کیسے پی پی کی حکومت کو نوکریوں کی فروخت اور کرپشن سے فرصت ہوتی تو کوئی کام کرتی ،پانچ برس تو کرپشن میں گزرے ،گلگت بلتستان کے باقی علاقوں میں بھی آج تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے پایہ تکمیل کے مراحل میں ہیں اور مزید منظور ہو چکے ہیں ،تعلیم کا شعبہ ہو یا صحت کا شعبہ ہو ہر طرف نئے نئے منصوبوں کا آغاز ہو چکا ہے ،نئے پیشہ ورانہ تعلیمی ادراے بن رہے ہیں ۔ہسپتال بن رہے ہیں ،سڑکوں کا جال بچھا دیا گیا ہے ،نئے اداروں کا وجود عمل میں آچکا ہے ،عوام کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے کیلئے پالیسیاں بن گئی ہیں اور بن رہی ہیں ،تعلیم یافتہ بے روزگاروں کے روزگار کیلئے نئے سے نئے مواقع تلاش کئے جا رہے ہیں ،سیاحت کا شعبہ ڈھائی برسوں میں ترقی کی منزلیں طے کر چکا ہے ،اگر اس نشست میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کا زکر کروں تو ممکن نہیں اس کے لئے بہت سا وقت اور بہت سے صٖفحات درکار ہوں گے ،صرف اتنا کہوں گا کہ قیادت ویثرن سے بھر پور ہو تو قومیں ترقی کی منزلیں طے کرتیں ہیں ،حفیظ الرحمن کے شدید ترین سیاسی مخالفین بھی اب بھر ملا اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ جتنی ترقی ان ڈھائی برسوں میں ہوئی ہے اتنی گزشتہ ستر برسوں میں نہیں ہوئی ہے ،اب قوم کیلئے ایک اور خوشخبری بھی آچکی ہے ،وزیر اعلی گلگت بلتستان اور مسلم لیگ ن کی حکومت کی کوششوں سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کے اجلاس میں گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کیلئے 30 بڑے منصوبے زیر غور لائے گئے، اور منظوری دی گئی تمام منصوبے 2 سال کی مدت میں پورے کیے جائیں گے، 30 منصوبوں میں سے 13 منصوبوں پر کام جاری ہے جو 2019 میں پایا تکمیل تک پہنچیں گے. جبکہ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کے لئے 17 نئے منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں. ان منصوبوں پر پر 163 بلین روپے لاگت آئے گی۔17 نئے منصوبوں میں تعلیم صحت اور مواصلات کے منصوبے شامل ہیں، نئے منصوبوں میں خواتین کے لئے یونیورسٹی گلگت بلتستان ایجوکیشن پروجیکٹ،دریائے گلگت کی تزئین وآرائش بھی شامل ہے، نئے منصوبوں میں عطا آباد جھیل پر 33 میگا واٹ ہائیڈرو پروجیکٹ بھی شامل کیا گیا ہے اس کے علاوہ گلگت شہر میں نکاسی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے پونے چار ارب خرچ کیے جائیں گے کارگاہ روڈ کی مرمت و توسیع پر تقریباً 76 کروڑ روپے جگلوٹ, پڑی اور چکر کوٹ کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے 30 کروڑ روپے محتص کیے گئے ہیں، نئے صوبوں میں گواری میں 30 میگاواٹ پن بجلی پروجیکٹ پر تقریباً 7ارب اور 98 کروڑ لاگت آئی گی، سکردو میں 10 میگاواٹ کے پن بجلی منصوبے کے لئے تقریباً 2ارب اور 17 کروڑ محتص کیے گئے ہیں، گلگت میں 100 میگاواٹ کے پن بجلی منصوبے کے لئے 29ارب ساڑھے تیس کروڑ مختص کیے گئے، ضلع غذر میں 15 میگاواٹ پن بجلی منصوبے کے لئے 5ارب سے زائد کا بجٹ رکھا گیا ہے، سی پیک کے متبادل روڈضلع استور کی جانب سے مظفر آباد سے شونٹر بائی پاس کی تکمیل کے لئے 18 ارب اور 90 کروڑ مختص کیے گئے، جبکہ کمیٹی میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس سے قبل 13 منصوبے زیر تعمیر ہیں جن پر کام جاری ہے جو بہت جلد پایا تکمیل کو پہنچیں گے،

اسے کہتے ہیں قیادت اور ویثرن کہ سیاسی یتیم اپنی تاریخ ساز شکست کو یاد کر کے روتے رہے اور حکومت کے خلاف سازشیں کرتے رہے اور حکومت کام کرتی رہی اس کا نتیجہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان ترقی کے سفر میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ،، ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کے شاندار مستقبل کے لئے سیاسی قائدین اپنے سیاسی مفادات سے آگے دیکھیں ،صرف تنقید برائے تنقید سے قوموں کا مستقبل نہیں سنوار سکتا ہے ،قوم کا مستقبل سنوارنے کیلئے اپنے زاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر قوم کے مفاد میں فیصلے کرنے سے ہی قومیں ،بنتی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام سیاسی رہنما قوم کے مفاد میں گلگت بلتستان میں سیاسی استحکام پیدا کریں اور حکومت کے ہاتھ مظبوط کریں ،اگر گلگت بلتستان میں سیاسی استحکام پیدا ہو تو پاک چین اقتصادی راہداری بھی بنے گی اور حقیقی ترقی بھی ہوگی ۔وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن جس محنت اور لگن سے گلگت بلتستان کی ترقی کے کارواں کی قیادت کر رہے ہیں اگر اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان معاشی طور پر خود کفیل بھی بنے گا اور ترقی کی منزلیں بھی طے کرے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments