برے نتائج۔۔۔ذمہ دار کون ؟

تحریر: یاسین بلتی

سا رے والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے تعلیم و تربیت حاصل کریں ۔اچھی نوکری اچھاگھر اور اچھی زندگی گزاریں۔کون نہیں چاہتا کہ ان کے بچے کامیاب نہ ہوں۔تمام والدین کہ آرزو یہی ہوتی ہے کہ ان کے بچے کامیاب زندگی گزاریں اچھی تعلیم و تربیت حاصل کریں تاہم ملک میں طبقاتی نظام اور سہولیات کی فقدان کی باعث اکثر والدین کہ یہی آرزو لاحاصل تمنا بن کر رہ جاتی ہے۔

گلگت بلتستان میں تعلیم کی شرح ملک کے دوسرے حصوں کی نسبت قدرے بہتر ہے ۔اسکی بڑی وجہ یہاں کے والدین اکثر ناخواندہ ہونے کے باوجود وہ اپنے تمام بچوں کوسکول بھیجتے ہیں۔ شازونادر ہی کوئی بچہ ایسا ہو جو سکول میں داخلہ نہیں لیتا۔میرے علم کے مطابق ہر وہ بچہ جو یہاں جنم لیتا ہے ۔کسی نہ کسی سکول میں چاہے وہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری داخلہ ضرور لیتا ہے۔والدین نہ صرف ہر بچے کو سکول بھیجتے ہیں۔بلکہ اپنی حیثیت کے مطابق بچوں کو ہر قسم کی تعلیمی اخراجات بھی مہیا کرتے ہیں ۔یہاں یہ بات قابل رشک ہے کہ اکثر والدین انتہائی قلیل آمدنی اور ناخواندہ ہونے کے باوجودبچوں کو مناسب تعلیمی اخراجات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ کڑی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ان تمام کاوشوں کے باجود طلبہ نمایاں کارکردگی نہیں دکھا پاتے ۔بہت سارے طلبہ اعلیٰ تعلیم کے حصول قاصررہتے ہیں۔سرکاری سکولوں سے فارغ ا لتحصیل طلبہ میں سے کچھ فیصد طلبہ ایسے ہوتے ہیں جو بمشکل اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

حکومت کی بلند و بانگ دعووں کے باوجود ہمارے تعلیمی نظام میں کوئی واضح تبدیلی نہیں ہوا۔آج بھی سرکاری سکولوں میں یہ حال ہے کہ مڈل کلاس میں پڑھنے والا بچہ بمشکل انگلش کو روانی پڑھ سکتے ہیں۔آخر اس ناکامی کی وجہ کیا ہے اور اس کا ذمہ داراکون ہیں۔امتحانی نتائج کیوں بہتر نہیں آتے۔ ان تمام ناکا میوں کے ذمہ دارطلبہ ،اساتذہ ،والدین ،محکمہ تعلیم اور ہمارے معاشرے میں سے کون ہیں؟

بہت سارے سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کی شدید فقدان ہیں۔کہیں انفراسٹرکچر نہیں ہیں تو کہیں اساتذ ہ کی کمی ہیں۔طلبہ آج بھی درختوں کے سا ئے میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔کئی کلاسوں کے لئے ایک ہی استاد ہوتے ہیں اورمختلف درجے کے طلبہ کو ایک ہی کلاس روم میں رکھتے ہیں۔

گرلز سکول کورو گانچھے بھی متذکرہ بنیادی سہولیات سے خالی ہیں۔نتیجہ تا سالانہ امتحانی نتائج اچھے نہیں رہے۔اس صورت حال پر علاقے کے مکینوں نے احتجا ج کیا تومتعلقہ ادارے کے انتہائی ذمہ دار شخص نے اس کے ردعمل میں سوشل میڈ یا پر مارگریٹ تھیچر (MargaretThatcher)کی ایک قول پوسٹ کر کے سارے عوام با لخصوص اہل علاقہ کو متا ثر کرنے کی بھر پور کو شش کی ۔اس کے مطابق طلبہ کی ناقص کارکردگی کا ذمہ دار والدین کو ٹھہرایا۔ایک ذمہ دار شخص کی اس طر ح کا رد عمل انتہا ئی حیران کن اور حیرت انگیز ہیں۔حقیر بھی سوشل میڈیا پر کی گئی اس پوسٹ سے متاثر ہوے بغیر نہیں رہ سکا۔بھلا ایک شخص اتنی آسانی سے خود کو بری ذمہ کیسے قراردے سکتا ہے۔سوشل میڈیا پر اس طرح اپنی صفائی پیش کرنا پہلے تو زیب نہیں دیتا۔سوچنا چاہیے کہ آخر اس طرح صفائی د ینے کی نوبت کیوں پیش آیا۔اگر اپنی ساری قوت اور وقت سوشل میڈیا پر صفایاں پیش کرنے کے بجاے متعلقہ ادارے کو بہتر بنانے کے لیے صرف کر دیں تو شاید کچھ بہتری کی امید پیدا ہو سکتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ سکول کا دورہ کرتے اصل حالات کا جائزہ لیتے ذمہ داروں سے وضاحت طلب کرتے اصل مسلئے کا تعین کرتے اور مسائل کو حل کرنے کے لیے موثر اقدامات کرتے ۔

اس بات کی اہمیت سے انکار ہرگز نہیں کہ تعلیمی عمل میں والدین کی ذمہ داری نہایت اہمیت کے حامل ہوتی ہیں۔لیکن بات یہاں مختلف ہے۔جس سکول کی انفراسٹرکچر صحیح نہیں ہوکلاس رومز کی کمی ہو اساتذہ کی کمی ہو۔وہاں والدین کس بات کے ذمہ دارہیں۔کیا والدین اس لیے ذمہ دار ہیں کہ انہوں نے اپنے بچوں کو سرکاری سکول میں بھیجا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ انتہائی ناقص کارکردگی دیکھانے والے سکولوں پر خصوصی توجہ دی جاے مناسب سہولیات دیئے جائیں۔اساتذہ کی کمی کو پورے کیے جائیں نہ کہ اساتذہ کا تبادلہ کردیں ۔ استادوں کا تبادلہ مسلے کا حل نہیں ۔اساتذہ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بھی ضروری اقدامات اٹھاے جائیں۔کارکردگی کی بنیاد پر اساتذہ کو سزا اور جزا سے نوازے جائیں۔

اللہ تعا لیٰ نے قوم کی خدمت کرنے کے لیے جو موقع عطا کیا ہے اسے غنیمت جان کر عوام کی بھر پور خدمت کرنے کی کوشش کریں ۔عوام کی جذبات کا خیال رکھیں۔عوام کی تواقعات پر پورا اترنے کی کو شش کریں تاکہ آئندہ بھی خدمت کا موقع ملے۔سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے لیے ساری زندگی پڑا ہوا ہے۔

آپ کی رائے

comments