ہنزہ میں جنگلی حیات کا خلاف قانون شکار کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی ہوگی، ڈپٹی کمشنر

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ ( اجلال حسین ) ضلع ہنزہ نہ صر ف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں جنگلی حیات کے لئے مشہور مسکن پایا جاتا ہے جس کے لئے دنیا بھر سے مشہور شکاری شکارکھیلنے ہنزہ کا روخ کرتے ہیں ، جنگلی حیات کی تحفظ سے نہ صرف سرکاری کو فائدہ ہے بلکہ اس سے عوام کو زیادہ فائدہ مل رہی ہیں۔ ان خیالات کاا ظہار ڈپٹی کمشنر ہنزہ کپٹن(ر ) سید علی اصغر کے زیر صدرارت گزشتہ روز ہنزہ بھر کے کنزویشن کمیٹیز کے عہداردارن ، ضلعی انتظام کے سربراہان، والڈ لائف اور محکمہ جنگلات کے نمائندوں کے منعقدہ اجلاس میں کہا ۔ انہوں نے مزید کہا ضلع ہنزہ جنگلی حیات کے لئے زرخیز علاقہ ہے اور دنیا بھر کے نایاب جانور یہاں پر موجود ہے ان کی تحفظ کے لئے مزید علاقوں میں کنزویشن کمیٹیاں بنائے جائے تاکہ جنگلی حیات کی نشو ونما اور افزائش نسل میں مزید اضافہ ہوجس کے لئے مقامی اور سرکاری سطح پر غیر قانونی شکار کرنے والے افراد پر کڑی نگرانی رکھی جائے جبکہ خلاف قانون شکار کرنے والے افراد کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کیا جائے۔اس موقع ڈی سی ہنزہ نے اجلاس میں مزید کہا کہ خنجراب نیشنل پارک ، شمشال ، چیپرسن ، غلکین، خیبرکنزویشن کمیٹی کی طرح دیگر علاقوں میں بھی کمیٹیاں بنانے میں محکمہ وائلڈ لائف کے حکام عوام کو مطمین کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ دیگر عوامی تنظمات کو فائدہ بھی مل سکے۔اس موقع پر وائلڈ لائف کے حکام نے ضلع ہنزہ کے مختلف علاقوں کے کنزویشن میں پائے جائے والے جنگلی حیات کی تعدادکے علاوہ پاکستان بلکہ دنیا بھر سے انے والے شکار یوں سے ملنے والی آمدن پر تفصلی بریفنگ دیدی۔ جبکہ دوسری جانب مختلف کنزیویشن کمٹیوں کے عہدادارن نے علاقائی سطح پر ہونے والی درپیش مسائل سے ڈی سی ہنزہ، ایس پی ہنزہ اور دیگر لائین ڈیپارنمنٹ کے سربراہان کو آگاہ کرتے ہوئے کنزویشن کمٹیوں سے تعاون کرنے کی اپیل کی۔ جس پر ڈی سی ہنزہ نے کہا کہ کنزویشن کمیٹوں کے ساتھ ضلعی انتظامیہ جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا بھر پور تعاون کی یقین دہانی کر ایا ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے وہ علاقے جہاں پر کنزویشن ایریاز نہیں ہے اور غیر قانونی طور شکار کرتے ہیں ان کے خلاف قانونی کاروائی کے علاوہ کنزویشن کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments