چلاس: واپڈا کی لاپرواہی نے واسا کی محنت پر پانی پھیر دیا، مرمت شدہ پائپ لائینیں پھر سے ٹوٹ گئیں

چلاس(مجیب الرحمان)واپڈا کے تعمیراتی کام نے واسا ملازمین کی محنت پر ایک بار پھر پانی پھیر تے ہوئے شہر یوں کو پانی سے ہی محروم کر دیا۔تعمیراتی کام کا ملبہ پھر واٹر سپلائی لائنوں پر گرا دیا مرمت کی گئی لائینیں پھر ٹوٹ گئیں ۔شہر میں تین روز سے پانی کی ترسیل نہ ہونے سے شہریوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی۔ تین روز قبل واپڈا کے تعمیراتی کام کے دوران ملبہ گرانے سے شہر کی پانی سپلائی لائینیں ٹوٹ گئی تھیں اور پانی کی ترسیل کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہوا تھا۔ محکمہ واسا کے عملے نے تندہی سے گزشتہ روز ٹوٹنے والی لائنوں کی مرمت کی تھی اور پانی واٹر ٹینک میں جمع ہونا شروع ہوا تھا ۔اس کے فوراً بعد ہی دوبارہ ملبہ پائپ لائنوں پر اندھا دھند گرایا گیا جس کے نتیجے میں ڈی ایچ کیو ہسپتال ایریا اور شہر کی سپلائی لائنیں کٹ گئیں۔خیال رہے کہ دو دن کی انتھک محنت سے سب انجینئیر واسا مبشر احمد،ایکٹنگ سپر وائزر سید جاوید اقبال شاہ اور عملے نے تندہی سے واٹر سپلائی لائنوں کی مرمت اور بحالی کا کام تندہی سے مکمل کیا تھا۔ جس کے بعدشہریوں کے مرجھائے چہرے خوشی سے کھل اٹھے تھے اور سکھ کا سانس لیا تھا۔ عوام نے محکمے کے ملازمین کی فرض شناسی کی تعریف اوردعائیں دی تھیں۔۔محکمہ واسا کی جانب سے گلگت سے فٹنگ کا سامان اور پائپ منگوائے گئے تھے۔جس کے بعد تندہی سے بلا ناغہ پائپ لائنوں کی مرمت اور بحالی ممکن بنائی گئی۔سب انجینئیر مبشر احمد نے پائپ مرمت کرانے کے بعد میڈیا کے نمائندے کو بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ سے تما م پائپ لائینیں مکمل طور پر ٹوٹنے کے علاوہ کئی فٹ پائپ ضائع اور ناکارہ ہو چکے تھے۔جس کی وجہ سے نئے پائپ لگوائے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ متبادل نظام نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی فراہمی ممکن نہ ہو سکی۔مرمت کے لئے سامان نہ ملنے اور دیگر شہروں سے منگوانے کی وجہ سے غیر معمولی تاخیرہوئی۔اس دوران شہریوں کو پریشانی اور اذیت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔مگر عملے نے انتہائی لگن اور جوانمردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر پانی کی ترسیل ممکن بنائی۔انہوں نے تعمیراتی کام کرنے والوں اور شہریوں سے اپیل کی کہ واٹر سپلائی پائپ لائنوں کا خیال رکھیں اور ایسے اقدامات سے اجتناب برتیں جس سے واٹر سپلائی نظام کو نقصان پہنچے۔پانی کی ترسیل ایک بار پھر بند ہونے سے شہری اذیت اور کرب میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments