این۔ٹی۔ایس عملے کی ہٹ دھرمی اور نوجوانون کا مستقبل

 شیر جہان ساحلؔ

نادرا سن 2000ء میں قائم شدہ پاکستان کاایک خودمختار ادارہ ہے جسے رجسٹریشن کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ ملک کے کونے کونے میں موجود سیکورٹی چیک پوسٹ ہوں یا کوئی ہائی الرٹ سیکورٹی زون، وہاں داخلے کے لئے آپ کے پاس نادرا کا بنا ہوا کارڈ ہونا چائیے ، اگر کم عمر ہیں تو آپ کے پاس نادرا کا ب فارم ہونا لازمی ہے اور اگر آپ کارذ کے لئے درخٔواست جمع کرچکے ہیں تو آپ کے پاس نادرا کا ٹوکن ہونا لازمی ہے۔ بصورت دیگر آپ پر شک کیا جائے گا اور متعلقہ حکام یا جگے پر جانے کی ممانعت ہوگی۔

نادرا ملک کی ان چند اداروں میں سے ایک ہے جو مکمل طور پر میرٹ کی پاسداری کرتے ہیں۔ اپنے سرگرمیوں میں کسی طرح کی سیاسی مداخلت ، نہ ہی سفارش برداشت نہیں کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ نادرا کی طرف سے جاری کردہ ٹوکن کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جاتی ہے جتنا کہ قومی شناختی کارڈ کو دی جاتی ہے ، مگر مملکت خداد کا یہ اصول رہا ہے کہ یہاں اکثر وہ لوگ یا ادارے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں جن کے پاس دولت اور شہرت آجاتی ہے۔ اور یہ بات بھی اٹل ہے کہ زوال بھی یہاں سے ہی شروع ہوتی ہے۔

پچھلے تین چار سالوں سے خیبرپختونخوا حکومت میرٹ کی بحالی کو یقیعنی بنانے کےلئے حکومت کے اکثربھرتیوں کو این۔ٹی۔ایس کے ذریعے کروانے کا فیصلہ کی تھی ا ور تب سے لیکر آج تک صوبے کے ہر سرکاری اور نجی اداروں پر این۔ٹی۔ایس کا بھوت سوار ہوا ہے۔

اس ملک کے نوجوان قسمت کی ستم ظریفی سمجھ کر دیئے گئے ہر دکھ سہتے آرہے ہیں مگر ان دنوں این۔ٹی۔ایس والوں نے قسمت کے مارے نوجوانوں کے ساتھ وہ ظلم اور ناانصافی شروع کئے ہیں جن کا ازالہ تقریباً ناممکن ہے۔ پچھلے دنوں چترال میں ایس ایس ٹی کے ٹیسٹ ہورہے تھے جس میں شرکت کے لئے چترال کے طول عرض سے نوجوان آئے تھے۔ اور ان میں سے چند نوجوانوں کے پاس نادرا کا جاری کردہ ٹوکن تھے جو قومی شناختی کارڈ کے لئے فارم جمع کرکے حاصل کئے تھے۔ مگر این۔ٹی۔ایس والوں نے ان نوجوانوں کو ٹیسٹ میں شرکت کرنے روک دیئے۔ اور اس سے ایک دن پہلے پشاور میں ہونے والے ٹیسٹ میں چترال سمیت دوسرے کئی علاقون کی امیدواروں کو یہ کہہ کر واپس کئے تھے کہ ان کے پاس ٹوکن ہے قومی شناختی کارڈ نہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ جب نادرا کا جاری کردہ ٹوکن ملک کے تمام اداروں کے لئے قابل قبول ہے تو این۔ٹی۔ایس کے لئے کیوں نہیں؟ اس طرح کے غیر ذمہ درانہ حرکت سے جو نوجوانون میں مایوسی پھیل رہی ہے اسکا ازالہ کون کرے گا؟ اور اس مایوسی کی وجہ کی معاشرے میں کتنے مسائل پیدا ہونگے۔ ان کا کسی کو کوئی پروا نہیں۔ لہذا ہم حکومت خیبر پختونخوا یہ اپیل کرتے ہیں کہ خدارا اگر آپ واقع میں نوجوانون کے ساتھ مخلص ہیں تو این۔ٹی۔ایس کے ساتھ کئے گئے معاہدے پر نظر ثانی کرکے نوجوانون کی مستقبل سے کھیلنے کی کوشش کو ناکام بنا کر ذمہ دارحکومت ہونے کا ثبوت دیں ۔ ورنہ یہ مایوسی اس قدر بڑھے گی کہ ایک دن خود حکومت کوبھی مایوسی محسوس ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments